بہار: امدادی کارروائیاں شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ریاست بہار میں تین ہفتوں کی سیلاب کے بعد حکام اور غیر سرکاری اداروں نے وسیع پیمانے پر امدادی کارروائی شروع کر دی ہے۔ سنیچر کی سہ پہر سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر دربھنگہ ضلع میں فوج کے ہیلی کاپٹر کی مدد سے خوراک کے پیکیٹس گرائے گئے۔ یہ عمل اتوار کو بھی جاری ہے۔ ریاستی حکام کے مطابق تقریباً بتیس ٹن اشیائے خوردنی ہیلی کاپٹر کے ذریعہ متاثرہ علاقوں میں گرائی جائیں گی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق خوراک کی ایئر ڈراپنگ کے ساتھ ساتھ حکومت نے زمینی راستے سے ہزاروں کوینٹل چاول، گیہوں، چوڑا، ستو اورگُڑ وغیرہ تقسیم کیا ہے۔ اسکے علاوہ قریب سوا کروڑ روپے کی نقدی اعانت کی گئی ہے۔ سیلاب زدہ شہروں کو جانے والی سڑک پر چھوٹی گاڑیوں کا آنا جانا شروع ہوا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ دو ایک دنوں میں بڑی گاڑیاں بھی ان سڑکوں پر چلنے لگیں گی۔اسی طرح ریل ٹریفک بھی معمول پر آ رہی ہے۔ سیلاب زدہ علاقوں میں ندیوں کے پانی کی سطح تیزی سے کم ہو رہی ہے لیکن پشتوں کو محفوظ رکھنا مقامی انتظامیہ کے لیۓ اب ایک بڑا چیلنج ہے۔ سب سے بڑی مشکل ان ستر ہزار خاندان کو درپیش ہے جن کے مکان پوری طرح یا جزوی طور پر سیلاب سے ٹوٹ چکے ہیں۔ ایسے افراد اب بھی مختلف کیمپوں، پٹریوں اور پشتوں پر پناہ لیے ہوئے ہیں۔ آفات سے نمٹنے والے محکمے کے پرنسپل سکریٹری منوج کمار شریواستو کے مطابق انیس اضلاع سیلاب سے متاثر ہیں اور حکومت نے قریب چھ سو امدای کیمپ لگائے ہیں جہاں قریب پچاس ہزار افراد نے پناہ لے رکھی ہے۔ ان اعداد و شمار سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کافی بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو خود کسی طرح پولیتھن شیٹ ٹانگ کر دن گزارنے کو مجبور ہیں۔ سیلاب زدہ خاندانوں کو پہلے تیز بارش کا سامنا تھا اب انہیں چلچلاتی دھوپ سے پریشانی ہے۔ موسوم کی اس تبدیلی سے بخار اور قے و دست جیسے امراض پھیلنے کے خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے پشتوں کو محفوظ رکھنے اور بیماریوں سے بچاؤ کے لیے بلیچنگ پاؤڈر کے چھڑکاؤ پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت دی ہے۔ سیلاب سے انسانی زندگی کے ساتھ ساتھ مویشیوں اور فصلوں کا بھی کافی نقصان ہوا ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ قریب نو لاکھ ہیکٹر زمین کی فصلیں برباد ہو گئی ہیں۔اس وجہ سے قریب نوے کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے زرعی نقصان کے لیے معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے لیکن مویشیوں کے نقصان کے سلسلے میں ایسا کوئی اعلان اب تک نہیں ہوا ہے۔ ریاستی حکومت کے ساتھ ساتھ ریڈ کراس اور دیگر غیر سرکاری و مذہبی تنظیموں کی جانب سے بھی امدادی کارروائی کی جا رہی ہے۔ |
اسی بارے میں بہار سیلاب: ایک کروڑ افراد متاثر04 August, 2007 | انڈیا انڈیا: تباہ کن سیلاب سے ہلاکتیں03 August, 2007 | انڈیا بہار سیلاب: بگڑتی ہوئی صورتحال03 August, 2007 | انڈیا سیلاب: ہلاکتیں اور سیاست02 August, 2007 | انڈیا کشتی الٹنے سے اٹھائیس ہلاک01 August, 2007 | انڈیا بہار: سیلاب سے11 لاکھ افراد متاثر 28 July, 2007 | انڈیا بہار: سیلاب میں ہلاکتوں کا خدشہ25 July, 2007 | انڈیا بہار میں بارش سے لاکھوں افراد متاثر23 July, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||