بہار سیلاب: ایک کروڑ افراد متاثر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ریاست بہار میں سیلاب سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد ایک کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔ قدرتی آفات کے محکمے کی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق ریاست میں سیلاب سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد ستاون ہوگئی ہے جبکہ آزاد ذرائع یہ تعداد دو سو سے زائد بتا رہے ہیں۔ جمعہ کو سمستی پور اور مشرقی چمپارن میں کشتی الٹنے کے دو واقعات میں باالترتیب سات اور چار افراد ہلاک ہوئے۔ ضلعی انتظامیہ نے ان واقعات کی تصدیق کی ہے۔ ادھر مدھبنی شہر کے نزدیک چکدہ گاؤں میں پولیس اور مقامی لوگوں کے درمیان جھڑپ میں پولیس اہلکاروں پر پتھر برسائے گئے جبکہ پولیس نے جواب میں فائرنگ کی۔ علاقے کے ڈی ایم راہل سنگھ نے بتایا کہ اس واقعہ میں ایک شخص ہلاک ہوگیا جبکہ کم از کم چھ پولیس اہلکار زخمی ہو ئے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ سیلاب زدہ علاقوں میں 80 خصوصی طبی ٹیمیں کام کر رہی ہیں جبکہ اکثر جگہوں سے علاج و معالجے کی سہولت کی عدم دستیابی کی شکایت مل رہی ہے۔ دوسری جانب ریاست کے مختلف علاقوں میں پشتے ٹوٹنے یا اس میں رساؤ کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔ جمعہ کو بیگو سرائے ضلع کے بسہی گاؤں میں بوڑھی گنڈک ندی کا پشتہ اچانک ٹوٹ جانے کی وجہ سے درجنوں افراد کے ندی کے تیز پانی میں بہہ جانے کی اطلاع ہے۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق متعدد افراد کو ہیلی کاپٹر کے ذریعہ گاؤں سے باہر نکالا گیا ہے۔ سیلاب سے اتنی تباہی کے بعد ریاستی حکومت نے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے جمعہ کو ایک تفصیلی منصوبہ پیش کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نتیش کمار نے جمعہ کو ریاست کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد اعلان کیا کہ متاثرہ علاقوں میں مقامی انتظامیہ کی مدد کے لیے سینئر آئی اے ایس افسران کو خصوصی طور پر متعین کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف وزراء کو الگ الگ اضلاع کا انچارج مقرر کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے ریڈ کراس، دیگر سرکاری و غیر سرکاری اداروں اور تنظیموں سے امدادی کارروائی میں مدد کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے سیلاب متاثرین کی مدد میں مقامی انتظامیہ کی ناکامی کا بھی اعتراف کیا۔ حکومت نے سنیچر سے سیلاب سے بری طرح متاثرہ دربھنگہ اور مدھوبنی اضلاع میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے خوراک پہنچانے کا اعلان کر رکھا ہے۔ قدرتی آفات کے محکمے کی انتظامیہ کے پرنسپل سیکرٹری منوج کمار شریواستو کے مطابق امدادی اشیاء میں چوڑا، گُڑ، چنا، نمک، ماچس اور موم بتی شامل ہیں۔ حکام کے مطابق سیلاب زدہ سترہ اضلاع میں اٹھائیس سو سرکاری کشتیوں کے ذریعے امدادی کام انجام دیا جا رہا ہے۔ تقریباً ساڑھے چار ہزار گاؤں سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ سیلاب زدگان کے لیے دو سو ساٹھ ریلیف کیمپ قائم کیے گئے ہیں اور مویشیوں کے لیے ڈیڑھ سو شامیانے لگائے گئے ہیں۔ سرکاری تفصیلات کے مطابق سیلاب زدہ علاقوں میں تقریباً ستر ہزار مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ اس کے علاوہ ساڑھے سات لاکھ ہیکٹر زمین پر چھیاسی کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ ریاست میں گزشتہ تین دن سے بارش رکی ہوئی ہے لیکن ندیوں کی آبی سطح اب بھی خطرے کے نشان سے اوپر ہے۔ مرکزی آبی کمیشن نے بتایا ہے کہ سیلاب زدہ علاقوں میں گنگا، گنڈک، بورڑھی گنڈک، باگمتی اور دیگر ندیاں خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں۔ |
اسی بارے میں انڈیا: تباہ کن سیلاب سے ہلاکتیں03 August, 2007 | انڈیا بہار سیلاب: بگڑتی ہوئی صورتحال03 August, 2007 | انڈیا سیلاب: ہلاکتیں اور سیاست02 August, 2007 | انڈیا کشتی الٹنے سے اٹھائیس ہلاک01 August, 2007 | انڈیا بہار: سیلاب سے11 لاکھ افراد متاثر 28 July, 2007 | انڈیا بہار: سیلاب میں ہلاکتوں کا خدشہ25 July, 2007 | انڈیا بہار میں بارش سے لاکھوں افراد متاثر23 July, 2007 | انڈیا راجستھان: 38 دیہاتوں کو خطرہ07 July, 2007 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||