BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 07 August, 2007, 14:45 GMT 19:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پناہ گزینوں کی ’قومی شاہراہ‘

سیلاب کے متاثرین
تمام متاثرین فکر مند ہیں کہ ان کے گھر کس حال میں ہوں گے
بہار میں سیلاب سے بری طرح متاثرہ سیتامڑھی ضلع کو مظفرپور سے زمینی راستے سے جوڑنے والی قومی شاہراہ نمبر 77 گزشتہ دس دنوں سے پناہ گزینوں کی شاہراہ میں تبدیل ہو چکی ہے۔

اس سڑک پر بڑی گاڑیوں کا چلنا بند ہے اور تین پہیوں والی چند گاڑیاں ہی چل پا رہی ہیں۔ یہاں سے گاڑی لے کر گزرنا کافی دشورا کام ہے کیونکہ سڑک کی دونوں جانب تقریباً پانچ کلومیٹر تک سیلاب زدہ خاندانوں نے پناہ لے رکھی ہے۔ان خاندانوں کے چھوٹے چھوٹے بچے اسی راستے پر کھیلتے ہیں۔

اسی راستے پر اپنے چھ بچوں کے ساتھ رہ رکی ہوئی سرستوی دیوی کہتی ہیں
’ کہاں جائیں، گھر تو ڈوب گیا۔گاؤں پر کوئی جگہ نہیں بچی کہ وہاں پّنی لگاؤں۔‘

یہاں موجود تمام خاندان بانس یا لکڑی کے سہارے پالیتھین شیٹ ٹانگ کر چوکی یا بانس کی ہی مچان بنا کر زندگی گزار رہے ہیں۔ کچھ خاندان تو پرانی ساڑھی تان کر نیچے زمین پر دن رات گزارنے پر مجبور ہیں۔

کچھ ملتا تو ہے نہیں
 اس شاہراہ پر ہر دن کوئی نہ کوئی صحافی بھی پہنچ جاتا ہے۔ کوئی یہاں رک کر ان سے پناہ گزینوں کا حال پوچھتا ہے تو کوئی اور آگے بڑھ کر سیلاب میں ڈوبے گاؤں دیکھنے نکل جاتا ہے۔ لوٹنے والوں سے یہ پناہ گزیں منتیں کرتے ہیں’مالک کچھ ملبو کرتی؟ کہیں سے کچھ دلاؤ نہ۔ بعض تو یہ بھی کہتے ہیں کہ ’کھالی پھوٹو کھینچے لا آتے ہیں۔ کچھ ملتا تو ہے نہیں۔‘

بزرگ رام کلی دیوی اپنافرش ٹھیک کر رہی تھیں، جب بارش ہونے لگی تو انہوں نے کہا ’بھیج (بھیگ) کاہے رہے، اندر آ جایئے۔‘ انہوں نے بتایا کہ ’بوڑھی آدمی ہوں۔ پہننے کے لیئے کپڑا نہیں ہے۔ کیا حالت ہو رہی ہے دیکھ رہے ہیں۔ ادھار لے کر کھا رہی ہوں۔ بھیگی لکڑی یا پتے اور مٹی کے چولہے سے کھانا پک رہا ہے۔‘

اکثر لوگوں کو شکایت ہے کہ انہیں کہیں سے کوئی مدد نہی ملی البتہ سرسوتی نے بتایا ’ایک دن چوڑا میٹھا بانٹنے والے لوگ آئے تھے مگر اس وقت کہیں چلی گئی تھی، اس لیے وہ بھی نہ مل سکی۔

لوگ اپنے ہمراہ گھروں سے کچھ بھی نہ لا سکے۔ تمام متاثرین کا کہنا ہے کہ پانی ہٹےگا تو گھر لوٹیں گے مگر گھر کس حال میں ہوگا یہ سوچ کر فکر مند ہیں۔

لال پری نے بتایا کہ ’ ندی کا پانی اتنی تیزی سے آیا کہ گھر سے اناج تک نہیں نکال سکی۔‘

لال پری دیوی کا پوتا بھوک سے رو رہا تھا یا ماں کی غیر موجودگی کی وجہ سے کہنا مشکل ہے۔ لال پری نے بتایا کہ آٹھ دنوں سے پّنی کے نیچے ہیں۔ بیٹا اور بہو کمانے کے لیے نکلے ہیں۔

سیلاب کے متاثرین

لال پری نے کہا’سرکار کی طرف سے کچھ نہیں ملا، ایک دن اجیت بابو (مقامی ایم ایل اے اور وزیر) کے گھر سے کافی لڑنے جھگڑنے کے بعد یہ پنّی ملی۔‘

شاہراہ پر پناہ لینے والے لوگوں سے کچھ بھی پوچھنے پر وہ اس امید سے خاندان کے سارے افراد کا نام بتانا شروع کرتے ہیں تاکہ انہیں گنتی سے امدادی سامان ملے۔

جیلس دیوی کہتی ہیں کہ سیلاب کی وجہ سے گھر کے مرد کمانے بھی نہیں نکل پا رہے تھے۔ کئی دنوں کے بعد ان کے شوہر رکشہ لے کر نکلے ہیں۔

اکثر پناہ گزینوں کے درمیان مرد دن میں نظر نہیں آتے۔ دنیش نے بتایا کہ وہ رکشہ چلاتے ہیں۔ بقول دنیش کے ’رات دن مصیبت ہے، برسا چھوٹی ہے تو دھوپ سے بدن جل رہا ہے۔‘ دنیش نے کہا کہ رات میں اندھیرے میں رہنا پڑ رہا ہے کہ کیونکہ ان کے پاس لالٹین جلانے کے لیے تیل بھی موجود نہیں۔

کچھ ہی فاصلہ پر سنینا کھڑی تھیں۔ انہوں نے ہاتھ میں کیمرا دیکھتے ہی بنا کچھ پوچھے کہنا شروع کر دیا کہ’ کہیں سے کچھ نہیں ملا۔ کیکرا پاس جاؤ(کس کے پاس جاؤں)۔‘

اس شاہراہ پر ہر دن کوئی نہ کوئی صحافی بھی پہنچ جاتا ہے۔ کوئی یہاں رک کر ان سے پناہ گزینوں کا حال پوچھتا ہے تو کوئی اور آگے بڑھ کر سیلاب میں ڈوبے گاؤں دیکھنے نکل جاتا ہے۔ لوٹنے والوں سے یہ پناہ گزیں منتیں کرتے ہیں’مالک کچھ ملبو کرتی؟ کہیں سے کچھ دلاؤ نہ۔‘ بعض تو یہ بھی کہتے ہیں’ کھالی پھوٹو کھینچے لا آتے ہیں۔ کچھ ملتا تو ہے نہیں۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد