BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اور اب امداد پہنچانے کی جنگ
 بہار میں سیلاب
مقام افراد کا کہنا ہے کہ بہار میں کشتی کے حادثے میں سو کے قریب افراد ہلاک ہوئے
بھارت اور بنگلہ دیش میں مون سون کی بارشوں سے اب تک تین سو ساٹھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اورصرف بھارت میں ایک کروڑ چالیس لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

بارشوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی بھارتی ریاست بہار میں لوگوں میں امداد کی تقسیم کے مسئلے پر جھگڑوں اور جھڑپوں کی بھی اطلاعات ہیں۔

امدادی کارکن بارشوں سے متاثرہ کروڑوں افراد کو خوراک اور پانی پہچانے کی کوششوں میں مصروف ہیں لیکن تا حال ان کی متاثرہ افراد تک رسائی میں کئی دشواریاں پیش آ رہی ہیں۔

تاہم جنوبی نیپال میں کئی ہفتوں پر محیط بارشوں کے بعد سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں اب زندگی معمول کی طرف لوٹ رہی ہے۔
بھارت کے کچھ شمالی دریاؤں میں پانی کی سطح کم ہو رہی ہے لیکن ابھی تک مثاثرہ لوگوں تک خوراک، پینے کا پانی اور ادویات نہیں پہنچ پائیں۔

پٹنہ سے صحافی ایس ایم احمد نے بتایا ہے کہ بہار میں پیرکو کشتیوں کے تین بڑے حادثے ہوئے جس میں متعدد افراد ہلاک ہو گۓ جبکہ پچاس سے زائد افراد منگل کی صبح تک لا پتہ تھے۔

بہار میں بارشیں رکنے اور ندیوں کی آبی سطح کم ہونے سے سیلاب کی صورت حال میں بہتری آ رہی ہے لیکن کئی افراد کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ دریا کی طغیانی میں اپنی جان گنوا چکے ہیں۔

پیر کو سب سے بڑا حادثہ سمستی پور ضلع کے شاہ پور پٹوری علاقے میں پیر کی شام گنگا میں ایک کشتی کے ڈوب جانے سے ہوا۔ مقامی لوگوں کے مطابق کشتی پر سو کے قریب افراد سوار تھے جو پانی کی نذر ہوگئے۔

تاہم سمستی پور ضلع کے مجسٹریٹ این سرون نے بتایا کہ حادثے کے شکار بتیس لوگ تیر کر باہر آگۓ، چار افراد کی لاشیں ملی ہیں جبکہ بقیہ افراد لا پتہ ہیں۔مسٹر سرون نے کہا کہ اس حادثوں میں مرنے والے کی صحیح تعداد کا تعین لاشیں ملنے کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے۔

ریاست کی وزارت داخلہ کے پرنسپل سکریٹری افضل امان اللہ کے مطابق اس حادثے سے متاثرہ لوگوں کو بچانے اور لاشوں کو نکالنے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے اس حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے قریبی رشتہ داروں کو فی کس ایک لاکھ روپے معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق مذکورہ کشتی پر سوار زیادہ تر لوگ مویشی پرور تھے جو چارہ لیکر لوٹ رہے تھے۔

کشتی کے ایک اور حادثے میں سے پیر کو مشرقی چمپارن کے کیسریا علاقے میں چھ افراد ڈوب کر ہلاک ہو گئے۔

راجستھان میں تباہی
سیلابی پانی سے سوافراد اور 50ہزار جانور ہلاک
بہاربہار، آفت کا شکار
ایک جانب سیلاب تو دوسری طرف خشک سالی
بارش اور گرمی
گرمی سے بچیں یا سیلاب سے؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد