تودہ گرنے سے ہلاکتوں کا خدشہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی ریاست ہماچل پردیش میں شدید بارشوں کے نتیجے میں ایک گاؤں پر مٹی کا تودہ گرنے سے پانچ افراد ہلاک جبکہ 55 افراد لاپتہ ہو گئے ہیں۔ لاپتہ افراد کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ بھی تودے کے نیچے دب کر ہلاک ہو گئے ہیں۔دھارلا نامی گاؤں پر مٹی کا تودہ گرنے سے پورا گاؤں میں دفن ہو گیا ہے۔ ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے فوج کو طلب کر لیا گیا ہے۔ دھارلا گاؤں میں پولیس کے ایک افسر نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ انہیں تودے کے نیچے دفن ہوجانے والےگاؤں کے ملبے سے کسی فرد کے زندہ نکلنے کی امید نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گاؤں میں واقع چودہ مکانات اور ایک ہیلتھ کیئر سینٹر مٹی اور پتھروں کے نیچے دفن ہوگئے ہیں۔ ہندوستان کی ریاست ہماچل پردیش میں گزشتہ کئی دنوں سے ریکارڈ بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جس میں اطلاعات کے مطابق اب تک چالیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
بھارت، نیپال اور بنگلہ دیش کے بڑے حصوں میں بارش اور سیلاب کے باعث پانی سے پیدا ہونے والی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں اور صورت حال نےسنگین نوعیت اختیار کر لی ہے۔ اس پورے خطے میں سیلاب سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے تین ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ایک اندازے کے مطابق جنوبی ایشیا میں سیلاب کے باعث بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد کم از کم بیس ملین ہے۔ دوسری طرف بنگلہ دیش میں حکام کا کہنا ہے کہ اس سال مون سون کے موسم میں کم از کم پانچ سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں جس میں منگل کی رات 38 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔ جولائی کے آخر میں سیلابی صورت حال کے بعد کوئی ایک لاکھ دس ہزار افراد کو پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں جیسے اسہال وغیرہ کے باعث ہسپتالوں میں داخل کیا گیا ہے۔ ڈھاکہ میں مختلف بیماریوں کے تدارک کے لیے حکومت نے موبائل طبی ٹیمیں متاثرہ علاقوں کی طرف روانہ کی ہیں، ڈاکٹروں کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں اور اسہال کے مریضوں کے علاج کے لیے ایک عارضی ہسپتال بھی قائم کیا گیا ہے۔ ایک سینئر ہیلتھ افسر عائشہ خاتون نے بتایا کہ دست اور قے کے مریضوں کی صورت حال بہت خراب ہے۔ ہسپتال میں ہر روز مریضوں کا رش رہتا ہے۔
اسہال کی بیماری سے متعلق ایک بین الاقوامی ریسرچ سینٹر میں منگل کو ایک ہزار افراد داخل کیے گئے جو وہاں داخل ہونے والے مریضوں کی انتہائی تعداد ہے۔ ڈاکٹر اشعار الاسلام خان نے بتایا: ہمیں خدشہ ہے کہ موجودہ صورت حال کی وجہ سے مریضوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو گا‘۔ جیسے جیسے سیلابی پانی اتر رہا ہے ویسے ویسے ریلیف کیمپوں سے لوگوں کی اپنے گھروں کو واپسی شروع ہو گئی ہے تاہم ان کے ہمراہ پینے کا پانی اور کھانے پینے کی اشیا کی انتہائی قلیل تعداد ہے۔ اقوام متحدہ کا امدادی ادارہ بھارت، نیپال اور بنگلہ دیش میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کھانے پینے کی اشیا، پانی کی بوتلیں اور مچھر دانیاں تقسیم کر رہا ہے۔ بھارت کی ریاستیں بہار اور اتر پردیش سیلاب اور بارشوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔ |
اسی بارے میں سیلاب سے دو کروڑ افراد بےگھر03 August, 2007 | آس پاس سیلاب: کروڑوں امداد کے منتظر05 August, 2007 | آس پاس بہار میں بارش سے لاکھوں افراد متاثر23 July, 2007 | انڈیا ممبئی میں شدید بارش، زندگی مفلوج30 June, 2007 | انڈیا بارش تھم گئی، بحالی کا کام جاری26 June, 2007 | انڈیا بھارت:بارش کا قہر جاری، 140 ہلاک25 June, 2007 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||