بہار کا سانپ ہسپتال، پتھر سے علاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بہار کے شمالی شہر مظفر پور میں واقع ’سانپ ہسپتال‘ گزشتہ ستائیس سالوں کے دوران اپنے منفرد طریقۂ علاج سے اب تک بےشمار لوگوں کی جانیں بچا چکا ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں اکثر زہرکش دوا نہ ہونے کی شکایت ملتی ہے لیکن یہاں ایک خاص قسم کے پتھر سے ہر سال تقریباً ایسے پانچ ہزار لوگوں کا علاج ہوتا جنہیں سانپ کاٹ لیتا ہے۔ عیسائی مبلغ کے ذریعہ چلائے جا رہے اس ہسپتال کا نام ویسے تو ’پربھات تارا ہیلتھ سنٹر‘ ہے لیکن علاقہ میں اسے سانپ اسپتال کے نام سے ہی جانا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں آدمی کے دانت کاٹے افراد بھی علاج کے لیے پہنچتے ہیں۔ ہر سال یہاں تقریباً پانچ سو لوگ آدمی کے ذریعہ کاٹے جانے کا علاج کرانے آتے ہیں۔ برسات کے شروع ہوتے ہی ریاست کے تمام علاقوں سے سانپ کے ڈسنے اور اس سے ہونے والی اموات کی خبر آنی شروع ہو جاتی ہے حالانکہ اسکا نوٹس نہیں لیا جاتا۔ سانپ ہسپتال کی انچارج سسِٹر ٹائسی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ہسپتال میں مظفر پور کے علاوہ ویشالی، چمپارن، سیتامڑھی، سمستی پور، گوپال گنج، چھپرہ، جہاں آباد اور بعض دوسرے علاقوں سے سانپ سے ڈسنے ہوئے مریض علاج کے لیے پہنچتے ہیں۔ سِسٹر ٹائسی نے بتایا کہ یہ پتھر ملک کی جنوبی ریاستوں سے خرید کر منگایا جاتا ہے اور بعض جڑی بوٹیاں ملاکر تیار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جس جگہ سانپ نے ڈسنا ہوتا ہے وہاں تھوڑے سی گہرائی میں اس پتھر کو باندھا جاتا ہے۔ سسِٹر ٹائسی نے بتایا کہ ان کے ہسپتال کی تعمیر بنیادی طور پر ٹی بی کے مریضوں کے علاج کے لیے کی گئی تھی لیکن سانپ کاٹنے کے علاج کی سہولیات کے پیش نظر اسکی شہرت ’سانپ ہسپتال‘ کے طور پر ہو گئی۔ سسِٹر ٹائسی نے بتایا کہ ان کے ہسپتال میں اس برس تیرہ جولائی تک ایک سو تیس ایسے افراد آ چکے ہیں جنہیں سانپ نے ڈسا تھا اور انکی موت راستے میں چکی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ اس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ریاست میں کتنے لوگ ہر سال سانپ کے ڈسنے سے مرتے ہوں گے۔ ماہرین بتاتے ہیں کہ ہندوستان میں ہر سال پچاس ہزار لوگ سانپ کے ڈسنے سے مر جاتے ہیں جبکہ آسٹریلیا میں یہ تعداد محض دو چار ہوتی ہے۔ انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر اجے کمار نے بتایا کہ ریاست بہار میں سانپ سے ہونے والی اموات کا ریکارڈ نہیں رکھا جاتا لیکن مختلف اخباروں میں جو خبر شائع ہوتی ہے وہ تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے سیلاب زدہ علاقوں میں سانپ اور بچھو کاٹنے کے واقعات سے ہونے والی اموات کوروکنے کے لیے ریاست میں ایک ’اسپیشلائزڈ سنٹر‘ کی ضرورت ہے۔
اس ہسپتال میں سانپ کے ڈسنے کے بارے میں ابتدائی علاج کی جانکاری کا ایک بورڈ لگا ہے لیکن سرکار کی جانب سے ایسی کوئی کوشش نظر نہیں آتی۔ مظفرپور میں ہی واقع شمالی بہار کے مشہور سرکاری ہسپتال شری کرشن میڈیکل کالج اینڈ ہاسپیٹل کے سپرنٹینڈینٹ ڈاکٹر جی کے ٹھاکر نے سانپ کاٹنے والوں کے علاج میں اس ہسپتال کی خدمات کا اعتراف کرتے ہیں لیکن پتھر سے علاج کے طریقے کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ لوگوں کی ’آستھا‘ یعنی اعتقاد کی بات ہے ورنہ بہتر علاج تو ’اینٹی سنیک وینم‘ ہی ہے۔ دوسری جانب سِسٹر ٹائسی کہتی ہیں کہ انکے یہاں پتھر کے ساتھ ساتھ جدید دواؤں کا بھی استعمال ہوتا ہے۔ سانپ ہسپتال میں موجود تمام مریضوں اور ان کے تیمار داروں نے بتایا کہ ان کے علاقے کے ہسپتال میں سانپ سے ڈسنے کی دوا موجود نہ تھی۔ دوسری جانب ڈاکٹر ٹھاکر کہتے ہیں کہ ان کے ہسپتال میں سانپ کاٹنے کی دوا موجود ہے لیکن لوگوں کے درمیان ’سانپ ہسپتال‘ کی مقبولیت زیادہ ہے، اس لیے وہاں بھیڑ زیادہ رہتی ہے۔ حالانکہ شری کرشن ہاسپیٹل کے ایک اور ڈاکٹر نے یہ بھی اعتراف کیا کہ برسات میں اچانک سانپ کاٹنے کے واقعات بڑھ جانے کی وجہ سے دوا کی قلت ہو جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پیچیدہ اور طویل سرکاری طریقۂ کار کی وجہ سے دوا آنے میں دیر ہوتی ہے۔ سِسٹر ٹائسی کہتی ہیں کہ یہ صحیح ہے کہ سارے سانپ زہریلے نہیں ہوتے لیکن جو سانپ زہریلے نہیں ہوتے ان کے ڈسنے پر بھی علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔انہوں نے بتایاکہ کئی بار مریض کو خود پتہ نہیں ہوتا کہ کس سانپ نے ڈسا ہے۔ اس حالت میں اثرات دیکھ کر علاج کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ |
اسی بارے میں بہار: ڈاک خانوں میں چائے اور کنڈوم01 April, 2006 | انڈیا بہارمیں شادی رجسٹریشن لازمی14 June, 2006 | انڈیا لاڑکانہ کے ایک بزرگ بہار میں 30 October, 2006 | انڈیا بہارعدالت: محض ایک دن میں فیصلہ 20 October, 2006 | انڈیا شکتی کی دیوی اور ’باطل روحوں‘ کا خاتمہ01 October, 2006 | انڈیا ’سرمایہ کاری کے لیئے ہرممکن اقدام‘27 September, 2006 | انڈیا کوک پیپسی کا استعمال بطور جراثیم کش06 August, 2006 | انڈیا بہار: مدرسہ جدیدکاری پروگرام ناکام 24 July, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||