شکتی کی دیوی اور ’باطل روحوں‘ کا خاتمہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
طاقت کی دیوی ’درگا‘ عام طور پر ’باطل روحوں‘ کے خاتمے کے لیے روایتی ہتھیار لیے نظر آتی ہیں مگر ان کے ہاتھ میں راکٹ لانچر، اے کے 47 رائفل، ٹائم بم اور گرینیڈ وغیرہ ہوں تو پھر کیسا رہے گا؟ پٹنہ میں درگا کے ایک پجاری نے ضلع انتظامیہ سے یہ اجازت طلب کی ہے کہ انہیں درگا کی ایسی مورتی بنانے دی جائے جن کے مختلف ہاتھوں میں جدید ہتھیار ہوں اور پیغام رسانی کے لیے ان کے ایک ہاتھ میں موبائل فون بھی ہو۔ امبیڈ کر وادی سماج وکاس منچ نام کی ایک نامعلوم سی تنظیم کے ابھے کمار چودھری نے پٹنہ کے ضلع مجسٹریٹ ڈاکٹر بی راجندر کو یہ درخواست دی ہے۔ راجندر کا کہنا ہے کہ وہ پوجا پنڈالوں میں ان باتوں کی اجازت نہیں دے سکتے جس سے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہوں۔
مسٹر چودھری نے اب پٹنہ کے کمشنر کے سامنے اپنی درخواست رکھی ہے اور انہوں نےکہا ہے کہ انتظامیہ سے اجازت نہ ملنے کی صورت میں وہ عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔ ریاستی مذہبی ٹرسٹ بورڈ کے اہلکار اور پٹنہ کے مشہور مہاویر مندر کے منتظم کشور کنال کا کہنا ہے کہ وہ درگا جی کی ایسی مورتی بنائے جانے کے حق میں نہیں ہیں۔ کنال کا کہنا ہے کہ سب سے طاقتور انسان امریکی صدر جارج بش مانے جاتے ہیں لیکن ’شکتی‘ یعنی طاقت کے لیے دیوی درگا کو بش تو نہیں بنا سکتا۔ مسٹر کنال کی رائے ہے کہ درگا جی تو صرف اپنی خواہش سے بد روحوں کا خاتمہ کر سکتی ہیں اور روایتی ہتھیار ان کے ہاتھوں میں تو محض علامت کے لیے ہیں۔ تاہم مورتیاں بھی کئی بار تنازعے میں گھِر جاتی ہیں۔ کلکتے میں بھارتی کرکٹ ٹیم کے کوچ گریگ چیپل کی ’راکھشش‘ کی مورتی بنانے کی خبر سنتے ہی اسے روکنے کے لیے مقامی انتظامیہ کو اقدامات کرنے پڑے اور اسی طرح ورنداون میں کرشن جی کو ہیٹ اور جینس میں ملبوس کرنے کی کوشش پر ایک تنازعہ کھڑا ہوگیا تھا۔
ریاست مغربی منگال کی طرح ہی بہار میں پنڈالوں یعنی شامیانوں کو مختلف شکل دینے کا رواج گزشتہ چند برسوں میں کافی مقبول ہوا ہے۔ انہیں اکثر قدیم ہندو مذہبی مقامات کی شبیہ دی جاتی ہے۔ بہت سے پنڈال حالت حاضرہ پر بھی مبنی ہو تے ہیں۔ اس بار پٹنہ میں اکشر دھام مندر کے علاوہ نظام حیدرآباد کے قلعے، بڑودہ کے لکشمی پیلیس، تریپورہ کی اسمبلی اور بعض مقامی مندروں کی شبیہ تیار کی گئی ہے۔ مظفرپور میں جموں کے ویشنو دیوی کے مندرنما پنڈال اور حالیہ ممبئ بم دھماکوں کی عکاسی کرتے برقی مناظر کا چرچا ہے تو دربھنگہ کا ’آئیفل ٹاور‘ پوجا کے میلے کی رونق بڑھا رہا ہے۔ پنڈالوں کی شبیہ چاہے جس ریاست کی ہو اکثر جگہوں پر کاریگر مغربی بنگال کے ہوتے ہیں۔ | اسی بارے میں گنگا کنارے پہلا ہندو تِھیم پارک29 April, 2005 | انڈیا یہ ہے ممبئی میری جان!16 January, 2005 | انڈیا دستاویزی فلموں کا میلہ28 August, 2004 | انڈیا امرتسر میں لاکھوں سکھوں کی آمد29 August, 2004 | انڈیا لوٹنے کا موسم: ثواب یا سرمایہ؟ 20 October, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||