دستاویزی فلموں کا میلہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دارالحکومت دہلی میں جمعہ سےایک دستاویزی فلموں کا فیسٹیول شروع ہوا ہے۔ انڈیا ہیبیٹیٹ سینٹر میں ایک ہفتے تک چلنے والے اس فسٹیول میں تقریبا 50 بہترین دستاویزی فلمیں دکھائی جائیں گی۔ فیسٹول کے لیے افریقہ ،امریکہ ، یورپ اور ایشائی ممالک سے مشہور اور خصوصی فلمیں منتخب کی گئی ہیں۔ اس کا اہتمام پبلک سروس براڈ کاسٹنگ ٹرسٹ نے برٹش کاؤنسل اور دوردرشن کی مدد سے کیا ہے۔ فیسٹیول کا افتتاح مشہور ہدایت کار مرنال سین اور اداکارہ شرمیلہ ٹیگور نے کیا۔ فسٹیول میں پیش کی جانے والی فلموں کے بہت سے ہدایت کار بھی موجود رہیں گے۔ اس فیسٹیول کے ساتھ ہی سنسرشپ، جمہوریت اور آزادی اظہار جیسے موضوعات پر ایک سمینار بھی منعقد کیا گیا ہے جس میں مرنال سین ، کرن کارنک ، فالی ناری مین جیسی کئی مشہور فلمی ہستیاں اور دانشور شرکت کر رہے ہیں۔ اس موقع پر برطانیہ کے فلم میکر فلپ کؤکس نے دستاویزی فلموں کے متعلق ایک ورک شاپ کا بھی اہتمام کیا ہے جس میں جرمنی کے پروفیسر ہنس جرگیں روزین بور بھی شرکت کر رہے ہیں۔ سمینار سے استفادے کے لیے فلم انسٹیٹیوٹ کے بہت سے طلباء اس میں حصہ لینے پہنچ رہے ہیں۔ فیسٹیول کا افتتاح دہلی کی ایک فلم میکر سبینہ قدوائی کی فلم ’شیڈو آف فریڈم‘ سے ہوا۔ یہ فلم تین مسلم خواتین کی شناخت، جنسی تنازع اور انکی خاندانی زندگی کے پیچیدہ مسائل پر مبنی ہے۔ اسکے بعد بی بی سی کے نامہ نگار مارک ڈیلی کی مشہور فلم ’سیکریٹ پولیس مین‘ دکھائی گئی۔ اس فلم کو دنیا بھر میں سراہا جا چکا ہے۔ مارک کئی مہینے تک پولس کے ایک اہلکار کی حیثیت سے خفیہ کیمرے سے پولیس کی حرکتوں کو فلم بند کرتے رہے تھے۔ یہ فلم پولیس کے تعصبانہ کردار پر مبنی ہے۔ فیسٹول میں ہندوستانی کی جانب سے دکھائی جانے والی فلموں میں ’بھوتوں کا موسم‘ اور ’کیا خدا بہرا ہے؟‘ جیسی دستاویزی فلیمں قابل ذکر ہیں۔جبکہ یونیسکو کی ’بٹر سویٹ ڈرنک‘ ، کینیڈا کی ’دی کارپوریشن‘ ، برطانیہ کی ’ڈیز دیٹ شوک دا ورلڈ‘، بلجیم کی ’ویوز آن وار‘ جیسی انعام یافتہ اور نایاب فلمیں دیکھنے کو مليں گی۔ اسکے علاوہ امریکی فلم ’سٹیزن بارلیوسکونئی‘، سویڈن کی ’سرپلس‘، آئرلینڈ کی ’شاویز ان سائڈ دا کوپ‘ اور اسراائیل کی ’ان سٹمارس کسٹڈی‘ بھی فیسٹیول میں دکھائی جا رہی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||