BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 19 August, 2004, 12:23 GMT 17:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فلم شعلے کی دھوم ایک بار پھر

فلم شعلے
آج بھی شعلے کی ٹکٹیں بلیک میں فروخت ہو رہی ہیں۔
بھارت کے شہر ممبئی کے منروا سینما ہال کے باہر میٹنی شو کے لیے ہاؤس فل کا بورڈ لگا ہوا تھا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ فلموں کے شوقین یہاں 29 سال پرانی ہندی فلم ’شعلے‘ دیکھنے آئے ہیں۔

شعلے کو ہر سال تقریباً 800 فلمیں بنانے والی ہندی فلم انڈسٹری میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔

پچھلے ہفتے اس فلم کو ڈیجیٹل طرز پر ریلیز کیا گیا تھا اور تب ہی سے اسے دیکھنے کے لیے لوگوں کی بھیڑ لگی ہوئی ہے۔

شعلے کی کہانی کسی حد تک اکیرا کوروساوا کی ’دی سیوینتھ سانورائے‘ اور ہالی وڈ کی ’دی میگنیفیسینٹ سیون‘ سے متاثر ہے۔

ابتدا میں اس کی کامیابی کو ایک اور بلاک بسٹر ہٹ قرار دیا گیا تھا مگر بہت جلد اس فلم کے مکالمے روزمرہ کی زبان میں شامل ہو گئے۔ اس فلم میں مقبول اداکار امیتھابھ بچن نے ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔

انوپما چوپڑا نے شعلے پر کتاب لکھی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ ہے کہ ’اب وقت آگیا ہے کہ اس فلم کو ایک لیجینڈ کی حیثیت دے دی جائے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’اگر 29 سال کے بعد بھی فلم کی ٹکٹیں بلیک میں فروخت ہو رہی ہیں تو اس سے فلم کی مقبولیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ شعلے اب صرف ایک فلم نہیں ہے بلکہ اپنے آپ میں ایک واقعہ بن گئی ہے۔‘

اس فلم کو آج دیکھنے والوں میں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جنہیں 1975 میں اس فلم کی ریلیز یاد نہیں ہوگی۔ ان میں سے ایک راس بہاری بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ویسے تو انہوں نے شعلے دس مرتبہ دیکھی ہے مگر وہ اور ان کے دوست اب تک فلم کو بڑے پردے پر دیکھنے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس دور میں بھی فلم کی مقبولیت سے حیران ہیں۔

News image
شعلے دیکھنے کے لیے لوگوں کی بھیڑ لگی ہوئی ہے۔

اس نئی اور بہتر شکل میں ریلیز ہونے والی شعلے کے بارے میں کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ بہتر ساؤنڈ کوالٹی اور نئے رنگوں کے ساتھ اس فلم کو دیکھنے کامزہ ہی کچھ اور ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شعلے کی مقبولیت کی وجہ اس کی کہانی ہے جس میں محبت، بدلے اور انصاف کو بخوبی پیش کیا گیا ہے۔

منروا سینما کے مینیجر سشیل میہرا کا کہنا ہے کہ شعلے میں اداکاری اور ہدایت کاری کی نفاست اور خوبی ہی اس فلم کی مقبولیت کا راز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’شعلے جیسے فلم زندگی میں ایک ہی بار بنتی ہے۔‘

ڈیجیٹل تکنیک سے دوبارہ بنائی گئی شعلے کے بارے میں فلم کے ڈسٹری بیوٹر لیاقت گولا کا کہنا ہے کہ کہ وہ فلم ڈسٹری بیوشن میں ایک نیا دور شروع کرنا چاہتے تھا اور اس کا آغاز انہوں نے شعلے سے کیا ہے۔

مسٹر گولا کا کہنا ہے کہ انہوں نے شعلے 32 بار دیکھی ہے اور ہر بار انہیں ایسا لگا کہ وہ کچھ نیا اور مختلف دیکھ رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ وہ جانتے تھے کہ شعلے کی نئی ریلیز کامیاب ہوگی اور اب وہ نئی شعلے کو دوسرے شہروں میں دکھانے کی کوشش کریں گے۔

مسٹر گولا ایک اور پرانی مقبول فلم ’شان‘ کو بھی نئے سرے سے ریلیز کرنے کی تیاری میں مصروف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شان اگلے ماہ تک ریلیز کر دی جائے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد