لاڑکانہ کے ایک بزرگ بہار میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ریاست بہار کے شہر گیا میں ایک ہسپتال کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ایک بزرگ پاکستانی مسافر گزشتہ ہفتے سے بے ہوشی کی حالت میں ہسپتال میں داخل ہیں اور ان کی خیر خبر لینے والا کوئی نہیں۔ گیا کے مگدھ میڈیکل کالج ہاسپیٹل کے ڈپٹی سپرینٹینڈینٹ ڈاکٹر شو چودھری نے بی بی سی کو بتایا کہ مریض سے ملنے والے کاغذات سے پتہ چلتا ہے کہ وہ پاکستان کے سندھ صوبہ کے لاڑکانہ شہر کے رہنے والے ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ اس مریض کا نام محمد صاحب جان خاں معلوم ہوتا ہے اور انکی عمر تقریباً ستر سال ہے۔ انکے والد کا نام محمد فیروز خان بتایا جاتا ہے۔ ڈاکٹر چودھری کے مطابق اس مریض کو کبھی کبھی ہوش آتا ہے لیکن وہ کچھ بول پانے کی حالت میں نہیں ہیں۔ مریض کا دایاں ہاتھ ٹوٹا ہے جس پر پلاسٹر کیا گیا ہے۔ ہوش آنے پر کچھ پوچھنے کے بعد ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔ اس مریض کو گیا ریلوے جنکشن سے بے ہوشی کی حالت میں اٹھا کر پہلے ریلوے کے ہسپتال میں داخل کیا گیا۔ جب یہاں حالت نہیں سدھری تو اسے مگدھ میڈیکل کالج لایا گیا۔ ڈاکٹروں کو خدشہ ہے کہ اس بزرگ کو ریل گاڑیوں میں نشہ آور اشیاء کھلا کر لوٹنے والے گروہ نے اپنا شکار بنایا ہے۔ اس بزرگ کو ہسپتال میں داخل ہوئے کئی دن گزر چکے ہیں لیکن کسی نے انکی کوئی خبر لینے کی کوشش نہیں کی۔ مقامی طور پر کوئی انکی خیر خبر لینے والا نہیں۔ البتہ میڈیکل کالج کے نزدیک کے تھانے کے انچارج بی کے باگ ان کی نگہداشت کر رہے ہیں۔
دریں اثنا گیا کے ہی ملت ہسپتال کے ڈائریکٹر تنویر احمد بتاتے ہیں کہ مذکورہ مریض کے بدن پر کپڑے وغیرہ بھی نہیں۔ وہ کوشش کر رہے ہیں کہ کپڑے وغیرہ کا انتظام کر دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ مریض کا پاسپورٹ ریلوے تھانے میں ہے اور کوشش کی جائے گی کہ وہاں سے ٹیلی فون نمبر حاصل کر انکے اہل خانہ سے رابطہ کیا جائے۔ | اسی بارے میں لاوارث بچوں کی ماں13 May, 2006 | پاکستان لاوارث گائے پکڑو، انعام پاؤ06 August, 2005 | انڈیا لاوارث بچےحکومت کی ذمہ داری 17 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||