BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاوارث بچوں کی ماں

بچوں کےساتھ اسٹاف بھی انہیں ممی پکارتا ہے
بلقیس ایدھی کے یوں تو پانچ بچے ہیں مگر ان کی حیثیت ان ہزاروں بچوں کی ماں کی سی ہے جنہیں ان کے اپنے کسی گندگی کے ڈھیر یا ایدھی سینٹر کے پالنے میں چھوڑ جاتے ہیں۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ عبدالستار ایدھی کی شریک حیات بلقیس ایدھی بتاتی ہیں کہ کچرے کے ڈھیر سے ملنے والے نومود بچوں کے جسم کتے نوچ کھسوٹ جاتے تھے، ’جس کا ہمیں انتہائی افسوس اور دکھ ہوتا تھا‘۔

انہوں نے بتایا کہ انیس سو سینتالیس میں جب انہوں نے کراچی میں دواخانہ قائم کیا تو لوگوں سے اپیل کی کہ ’بچوں کو کچرے میں نہ پھینکیں بلکہ ایسے بچوں کو ہمارے حوالے کردیں۔ اس مقصد کے لئے ہم نے دواخانے میں ایک جھولا لگایا تھا۔ آج پورے پاکستان کے تین سو سینٹروں میں ایسے جھولے لگے ہوئےہیں۔ جہاں لوگ بچوں کو چھوڑ جاتے ہیں اور ان سے کوئی سوال نہیں کرتا‘۔

ان کے مطابق پہلے کی نسبت اب زیادہ بچے آتے ہیں، جن میں اکثریت لڑکیوں کی ہوتی ہے ۔

بچوں کی زیادہ آمد کا سبب وہ غربت کو قرار دیتی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ آج کے دور میں لوگ لڑکیوں کو بوجھ اور لڑکے کو سہارا سمجھتے ہیں۔

جہاں بچوں کو لاوارث چھوڑنے میں اضافہ ہوا ہے وہاں انہیں گود لینے والے بے اولاد لوگوں کی آمد بھی بڑھی ہے۔ بلقیس ایدھی کے مطابق ’ہم چھتیس سالوں میں سولہ ہزار بچے بے اولاد جوڑوں کو دے چکے ہیں‘۔

بچے حوالے کرنے سے قبل ان لوگوں کے بارے میں تمام ضروری تحقیقات کی جاتی ہیں تاکہ بچے غلط ہاتھوں میں نہ جائیں۔

ایدھی ہومز میں معذور بچے بھی ہیں، جنہیں ان کے رشتہ دار چھوڑ جاتے ہیں۔ ان بچوں میں ایک سال کا ایک نابینا اور ایک پاؤں اور ہاتھ سے محروم بچہ بھی شامل ہے جنہیں بلقیس ایدھی پال رہی ہیں۔

بلقیس ایدھی کے مطابق ’مجھے ایسا کبھی محسوس نہیں ہوا کہ یہ میرے بچے نہیں ہیں، جب یہ بچے مجھ ماں پکارتے ہیں تو دل بڑا ہوجاتا ہے‘۔

بلقیس ایدھی کہتی ہیں کہ ’میرے پانچوں بچوں نے بھی کبھی شکایت نہیں کی کہ میں انہیں وقت نہیں دیتی وہ تو خود میرا ہاتھ بٹاتے ہیں‘۔

بچوں کےساتھ اسٹاف بھی انہیں ممی پکارتا ہے، بچوں کی طرح شام سویرے سونا اور صبح سویرے اٹھنا بلقیس ایدھی کی عادت ہے۔

بلقیس ایدھی
ہماری خوشی غمی بھی انہیں بچوں کے ساتھ ہے

بچپن میں شرارت کرنی والی بلقیس ایدھی آج خود شرارتی اور معصوم بچوں کے درمیان ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ بچے روتے بھی ہیں شرارت بھی کرتے ہیں۔ مجھے انہیں منانا آتا ہے میں انہیں کبھی آئسکریم منگوا کر کھلاتی ہوں تو کبھی گارڈن لے جاتی ہوں جہاں وہ بہت خوش ہوتے ہیں۔

ان کی خوشی غمی بھی انہیں بچوں کے ساتھ ہے۔ بلقیس ایدھی کے مطابق ’ہماری عید ان بچوں کے ساتھ گزرتی ہے، ہم مل کر باہر کھانا اور آئسکریم کھاتے ہیں‘۔

ایدھی ہومز میں نومولود بچوں سمیت پندرہ سال تک کے چودہ سو بچے موجود ہیں،ان کی دیکھ بحال اور انتظام کے بعد جیلوں میں قید بچوں کے لیئے بھی بلقیس ایدھی پریشان ہیں وہ کہتی ہیں کہ ’میرا دل چاہتا ہے کہ جیل میں جو بچے ہیں ان کو بھی باہر کی دنیا دکھاؤں۔ ان کی ماؤں نے جرم کیا ہوگا بچے تو بے قصور ہیں انہیں کس جرم کی سزا مل رہی ہے‘۔

بلقیس ایدھی ان بچوں کو اللہ کی امانت قرار دیتی ہیں ان کے مطابق انہیں بچوں کی کسی بات پر غصہ نہیں آتا ہے، اسٹاف اگر کوئی غلطی کرتا ہے تو اسے سمجھاتی ہیں غصہ نہیں کرتی۔

ڈاکٹروں کے ساتھ رہ کر وہ خود بھی آدھی ڈاکٹر بن گئی ہیں۔ وہ بیمار بچے کی حالت دیکھ کر اندازہ لگا لیتی ہیں کہ اسے جنرل ہسپتال لے جانا چاہیئے یا کسی اسپشلسٹ کے پاس۔

بلقیس ایدھی بچوں کے ساتھ ان بے سہارا اور یتیم لڑکیوں کی بھی ماں ہیں جو ایدھی ہومز میں رہتی ہیں، ان کی شادی اور تعلیم کو بھی وہ اپنا فرض سمجھتی ہیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ جیسے اپنی بیٹی کے رشتے کے لیئے پوچھ گچھ کی جاتی ہے اس طرح ہم ان بچیوں کے آنے والے رشتوں کے بارے میں تحقیقات کرتے ہیں۔

’ہم چاہتے ہیں کہ لڑکا شریف ہو اور کام کاج کرتا ہو، ہم لڑکی کو لڑکا اور اس کا گھر دکھاتے ہیں اگر وہ ہاں کرتی ہے تو بات آگے بڑھائی جاتی ہے‘۔

بلقیس ایدھی بتاتی ہیں کے اس کام میں ان کے شوہر ان کا ہاتھ نہیں بٹاتے کیونکہ ان کے اپنے کئی منصوبے ہیں جن پر وہ کام کرتے ہیں۔

ادارے کے مستقبل کے بارے میں بلقیس ایدھی کا کہنا تھا کہ میری بچیاں میرے ساتھ ہیں جب تک اللہ نے چاہا یہ کام جاری رہے گا۔

اسی بارے میں
مانسہرہ میں روزانہ دو اموات
02 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد