بہارمیں شادی رجسٹریشن لازمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بہار کی ریاستی حکومت نے شادی کی رجسٹریشن نہیں کرانے والوں پر جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ محکمہ رجسٹریشن کے کمشنر انل کمار سنہا کے مطابق بہار کے ہر شہری کے لیے شادی کے تیس دن کے اندر اندر اس کی رجسٹریشن کرانا لازمی ہے اور اگراس میں تاخیر ہوئی تو جرمانہ دینا پڑےگا۔ حکومت کے اعلان کے مطابق شادی کی رجسٹریشن دیہی علاقو میں مکھیا اور شہری علاقوں میں وارڈ کمشنر کریں گے۔ واضح رہے کہ اس برس ملک کی سپریم کورٹ نے شادی کی رجسٹریشن کو ضروری قرار دے دیا تھا۔ ویلنٹائن ڈے کو دیے گئے سپریم کورٹ کےاس حکم پر عمل کے لیۓ بہار کی حکومت نے ایک لمبا چوڑا قانونی خاکہ تیار کیا ہے۔ حکومت کے نئے اصول و ضوابط کے مطابق شادی کےتیس روز کے بعد رجسٹریشن کرانے کے لیے تین ماہ تک سو روپے اور اسکے بعد ہر مہینے پچاس روپے جرمانہ دینا ہوگا۔ جرمانے کی زیادہ سے زیادہ رقم ایک ہزار روپے طے کی گئی ہے۔ شادی رجسٹریشن فارم میں میاں بیوی اور والدین کا نام لکھناہوگا۔ اس فارم پر میاں بیوی کی تصویر ہوگی اور اس کے ساتھی ہی ایک عہدنامہ بھی داخل کرنا ہوگا۔ اجتماعی شادی کی صورت میں شادی کے منتظم کو رجسٹریشن کا حق حاصل ہو گا جبکہ مکھیا یا وارڈ کمشنر کو یہ ذمہ داری دی جارہی ہے کہ وہ نوبیاہتا جوڑوں کو رجسٹریشن نمبر مہیا کریں گے۔ حکومت کے اعلان کے مطابق رجسٹریشن کرنے والے عہدے دار پندرہ دنوں کے اندر رجسٹریشن کی ایک کاپی علاقائی رجسٹریشن آفس میں جمع کریں گے۔ اور اگر انہیں اس ذمہ داری کی ادائیگی میں کوتاہی کرتے پایا گیا تو بطور سزا انہیں ان کے عہدے سے ہٹایا جاسکتا ہے۔ حکومت کے اس قانون کے متعلق اعتراضات تیس روز کے اندر ارسال کیے جا سکتے ہیں۔ | اسی بارے میں شادیوں کی رجسٹریشن لازمی14 February, 2006 | انڈیا بہار: پچاس فیصد خواتین سرپنچ 11 March, 2006 | انڈیا شادی فراڈ : صرف نقدی اور سونا 01 April, 2006 | انڈیا بہار: ڈاک خانوں میں چائے اور کنڈوم01 April, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||