BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بچہ سیریل کِلر ہو سکتا ہے؟

اس معاملے کو ذرائع ابلاغ میں خاصی کوریج ملی ہے
بہار کے ضلع بیوگو سرائے کے بھگوانپور تھانہ کے دس سالہ امرجیت کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس نے ایک چھ ماہ کی بچی کو اینٹ سے کچل کر مار ڈالا ہے۔

مانو پور مسہری گاؤں کے امرجیت کے بارے میں مقامی ذرائع کہتے ہیں کہ اس سے قبل بھی وہ دو کم عمر بچوں کی جان لے چکا ہے۔

مقتول بچی خوشبو کی ماں چنچن کے مطابق وہ اپنی بچی کو ایک مکتب کے برآمدے پر سلا کر کام میں مشغول تھیں۔ چنچن کے مطابق کچھ دیر کے بعد جب انہوں نے خوشبو کو وہاں موجود نہ پایا تو اسکی تلاش شروع کی۔

گاؤں کے لوگوں کے مطابق جب امرجیت سے خوشبو کے بارے میں دریافت کیا گیا تو اس نے خوشبو کو کھیت میں سلا دینے کی بات کہی۔ جب لوگ کھیت پہنچے تو وہاں خوشبو کی لاش ملی۔

مقامی ذرائع کے مطابق اس سے قبل امرجیت نے رشتہ داروں کے دو بچوں کی جان لے چکا ہے لیکن رشتے کی بات ہونے کی وجہ سے یہ معاملے پولیس تک نہیں پہنچے۔

بیگو سرائے پولیس کے مطابق قتل کے الزام میں بچے کو تحویل میں لے لیا گیا ہے اور بچے کی دماغی حالت کا جائزہ لینے کے لئے ایک میڈیکل بورڈ کی تشکیل کر دی گئی ہے۔

شری کرشن میڈیکل کالج میں دماغی امراض کے پروفیسر سید رضا امام کاظمی کہتے ہیں کہ کسی بچے کو سیریل کلر کہنا مناسب معلوم نہیں ہوتا کیونکہ سیریل کلر سوچ سمجھ کر قتل کرتا ہے۔ ان کے مطابق آٹھ یا دس سال کے بچے سے غلطی سے قتل ہو سکتا ہے یا ذہنی طور پر بیمار بچہ ہی کسی بچے کو مار سکتا ہے۔

بقول ڈاکٹر کاظمی ’ اگر کوئی بچہ جان بوجھ کر کسی کی جان لیتا ہے تو یہ اس کے ذہنی طور پر بیمار ہونے کی نشانی ہے۔ کئی بار بچہ مرگی کا دورہ پڑنے پر بھی کسی کی جان لے سکتا ہے۔ بہر حال جان لینے والے ایسے بچے شاز و نادر ہی ہوتے ہیں اور انہیں خود پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کسی کی جان لے رہے ہیں۔‘

بچوں کے امراض کے ماہر ڈاکٹر برج موہن کہتے ہیں کہ یہ ’جووینائل ڈیلیکونسی‘ کا معاملہ ہے۔ انکے مطابق بچہ اگر سماجی طور پر الگ تھلگ رہنے والا ہو اور اس کے ماں باپ اس پر توجہ نہ دیں تو بچے کا مزاج پر تشدد ہو جاتا ہے۔

عام طور پر کم عمر کے بچوں کو کسی جرم کے بعد ریمانڈ ہوم بھیج دیا جاتا ہے لیکن ڈاکٹر کاظمی کا کہنا ہے کہ ایسے بچے کو مخصوص طبی اور ذہنی مدد کی ضرورت ہوتی ہے جو کسی ریمانڈ ہوم میں ملنا مشکل ہے۔

بہار پولیس’لاٹھی سے چاکلیٹ‘
بہار پولیس اب بچوں کو سکول بھی لائے گی
مزدوروں کا قتل
بہار کے لوگ ریاست چھوڑنے پر کیوں مجبور؟
اسی بارے میں
کشمیری ذہنی تناؤ کا شکار
27 December, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد