BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 20 October, 2006, 09:11 GMT 14:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بہارعدالت: محض ایک دن میں فیصلہ

 پٹنہ ہائی کورٹ
سپیڈ ٹرائل کی مہم کے بعد بہار میں مقدموں کی سماعت میں کافی تیزی آئی ہے
بہار کی ایک عدالت نے جمعرات کے روز ایک مقدمے کی سماعت کے پہلے دن ہی فیصلہ کرتے ہوئے سزا سنا دی۔

سہسرام میں روہتاس کے ضلع اور سیشن جج ارون کمار شری واستو نے ایک سات سالہ بچی سےجنسی بد فعلی کی کوشش کے معاملے کی سماعت ایک دن میں پوری کرنے کے بعد ملزم کو پانچ سال کی سزا سنائیروہتاس ضلع کے پبلک پروسیکیٹور راجندر پرساد سنگھ کے مطابق اس سال 23 جولائی کومذ کورہ بچی کامعاملہ پیش آیا تھا۔ اس معاملے میں پولیس نے اپنی تفتیش پوری کر جمعرات کو تعزیرات ہند کی دفعہ 376 اور 511 کے تحت الزام عائد کیا۔ کچھ ہی دیر میں گواہی پوری ہوئی اور فیصلہ سنا دیا گیا۔

اس سے قبل جج ارون کمار شری واستو نے ہی اسی سال جولائی میں جنسی بدفعلی کے ایک دیگر معاملے میں ایک ملزم کو مجرم قرار دیتے ہوئے محض دو دنوں کی سماعت میں سزا سنا دی تھی۔ عام طور پر یہاں کی عدالتوں میں مقدمے کافی دنوں تک چلتے ہیں اس کے باوجود فیصلے نہیں ہو پاتے۔ لیکن نیتیش کمار کی حکومت کے ذریعہ سماعت کے عمل کو تیز کرنے کے سبب فیصلے نسبتاً کم دنوں میں سنائے جانے لگے ہیں۔
نیتیش کمار کی حکومت بننے کے بعد لفظ ’سوشاسن’ یعنی اچھی حکمرانی کافی مقبول ہوا تھا۔ اسکے بعد لفظ ’سپیڈ ٹرائل’ یعنی تیز تر سماعت بھی کافی چرچے میں رہاہے۔

ریاست کے اے ڈی جے پولیس ابھیانند کے مطابق اس سال جنوری سے ’سپیڈٹرائل’ کا عمل شروع کیا گیا ہے اور ستمبر تک چار ہزار سے زائد مقدموں کو اس مہم کے تحت نمٹایا جاچکا ہے۔

 پروسیکیٹور راجندر پرساد سنگھ کے مطابق اس سال 23 جولائی کومذ کورہ بچی کامعاملہ پیش آیا تھا۔ اس معاملے میں پولیس نے اپنی تفتیش پوری کر جمعرات کو تعزیرات ہند کی دفعہ 376 اور 511 کے تحت الزام عائد کیا۔ کچھ ہی دیر میں گواہی پوری ہوئی اور فیصلہ سنا دیا گیا۔

مسٹر ابھیانند کے مطابق ’سپیڈ ٹرائل’ کی مہم کی وجہ سے قتل اور آبرو ریزی کے متعدد ملزمان کو مجرم ثابت کیا جا چکا ہے۔ ایسے معاملوں میں کافی تعدادان مجرموں کی ہے جنہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

بہار میں پولیس کے ذریعہ دیر سے الزام عائد کرنے، معاملے کی تفتیش کر رہے پولیس اہلکار کے گواہی کے لیۓ نہ پہنچنے اور کئی بار جیل سے ملزم کو وقت پر کورٹ نہ پہچائے جانے کے سبب مقدموں کے فیصلے دیر سے آتے ہیں۔اسکی وجہ سے زیر سماعت قیدیوں کو لمبے عرصے تک جیل کاٹنی پڑتی ہے۔

سماعت میں دیری کی وجہ سےکئی بار اصل سزا سے زائد وقت جیل میں کٹ جاتا ہے۔ دوسری جانب پولیس اور عدالتی عمل کی سست روی سے جرائم پیشہ افراد لمبے وقت تک بے خوف ضمانت پر گھومتے رہتے ہیں۔

ریاست میں پیچیدہ اور سست رفتار عدالتی عمل کا تذکرہ گذشتہ دنوں پٹنہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ڈاکٹر جے این بھٹ نے بھی کیا تھا۔

دارالحکومت پٹنہ میں ’سپیڈ کریمنل جسٹس’ کے موضوع سے منعقدہ سیمینار میں وزیر اعلی نیتیش کمار نے ’سپیڈ ٹرائل’ کے فوائد بتائے۔ نتیش کمار کے مطابق پہلے بندوق لیکر گھومنا ’سٹیٹس سمبل’ تھا لیکن جب آرمزایکٹ کے تحت سزا جلد سنائی جانے لگی تو یہ معاملہ کافی حد تک کنٹرول میں آ گیا۔
نیتیش کمار کا خیال ہے کہ اسی طرح تین سال تک یہ مہم چلی تو قتل اور آبروریزی کے واقعات کافی حد تک کم ہو جائیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد