بہارعدالت: محض ایک دن میں فیصلہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بہار کی ایک عدالت نے جمعرات کے روز ایک مقدمے کی سماعت کے پہلے دن ہی فیصلہ کرتے ہوئے سزا سنا دی۔ سہسرام میں روہتاس کے ضلع اور سیشن جج ارون کمار شری واستو نے ایک سات سالہ بچی سےجنسی بد فعلی کی کوشش کے معاملے کی سماعت ایک دن میں پوری کرنے کے بعد ملزم کو پانچ سال کی سزا سنائیروہتاس ضلع کے پبلک پروسیکیٹور راجندر پرساد سنگھ کے مطابق اس سال 23 جولائی کومذ کورہ بچی کامعاملہ پیش آیا تھا۔ اس معاملے میں پولیس نے اپنی تفتیش پوری کر جمعرات کو تعزیرات ہند کی دفعہ 376 اور 511 کے تحت الزام عائد کیا۔ کچھ ہی دیر میں گواہی پوری ہوئی اور فیصلہ سنا دیا گیا۔ اس سے قبل جج ارون کمار شری واستو نے ہی اسی سال جولائی میں جنسی بدفعلی کے ایک دیگر معاملے میں ایک ملزم کو مجرم قرار دیتے ہوئے محض دو دنوں کی سماعت میں سزا سنا دی تھی۔ عام طور پر یہاں کی عدالتوں میں مقدمے کافی دنوں تک چلتے ہیں اس کے باوجود فیصلے نہیں ہو پاتے۔ لیکن نیتیش کمار کی حکومت کے ذریعہ سماعت کے عمل کو تیز کرنے کے سبب فیصلے نسبتاً کم دنوں میں سنائے جانے لگے ہیں۔ ریاست کے اے ڈی جے پولیس ابھیانند کے مطابق اس سال جنوری سے ’سپیڈٹرائل’ کا عمل شروع کیا گیا ہے اور ستمبر تک چار ہزار سے زائد مقدموں کو اس مہم کے تحت نمٹایا جاچکا ہے۔ مسٹر ابھیانند کے مطابق ’سپیڈ ٹرائل’ کی مہم کی وجہ سے قتل اور آبرو ریزی کے متعدد ملزمان کو مجرم ثابت کیا جا چکا ہے۔ ایسے معاملوں میں کافی تعدادان مجرموں کی ہے جنہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ بہار میں پولیس کے ذریعہ دیر سے الزام عائد کرنے، معاملے کی تفتیش کر رہے پولیس اہلکار کے گواہی کے لیۓ نہ پہنچنے اور کئی بار جیل سے ملزم کو وقت پر کورٹ نہ پہچائے جانے کے سبب مقدموں کے فیصلے دیر سے آتے ہیں۔اسکی وجہ سے زیر سماعت قیدیوں کو لمبے عرصے تک جیل کاٹنی پڑتی ہے۔ سماعت میں دیری کی وجہ سےکئی بار اصل سزا سے زائد وقت جیل میں کٹ جاتا ہے۔ دوسری جانب پولیس اور عدالتی عمل کی سست روی سے جرائم پیشہ افراد لمبے وقت تک بے خوف ضمانت پر گھومتے رہتے ہیں۔ ریاست میں پیچیدہ اور سست رفتار عدالتی عمل کا تذکرہ گذشتہ دنوں پٹنہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ڈاکٹر جے این بھٹ نے بھی کیا تھا۔ دارالحکومت پٹنہ میں ’سپیڈ کریمنل جسٹس’ کے موضوع سے منعقدہ سیمینار میں وزیر اعلی نیتیش کمار نے ’سپیڈ ٹرائل’ کے فوائد بتائے۔ نتیش کمار کے مطابق پہلے بندوق لیکر گھومنا ’سٹیٹس سمبل’ تھا لیکن جب آرمزایکٹ کے تحت سزا جلد سنائی جانے لگی تو یہ معاملہ کافی حد تک کنٹرول میں آ گیا۔ | اسی بارے میں ممبئی: میمن فیملی کے چار ارکان مجرم12 September, 2006 | انڈیا ممبئی: 1993 کے دھماکوں پر فیصلے12 September, 2006 | انڈیا ممبئی دھماکوں میں دو مزید قصوروار05 October, 2006 | انڈیا سنجے دت کیس کا فیصلہ متوقع16 October, 2006 | انڈیا بہار: ضلع مجسٹریٹ گرفتار14 October, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||