ممبئی دھماکوں میں دو مزید قصوروار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انیس سو ترانوے بم دھماکوں کے لیئے مختص ٹاڈا عدالت نے آج دو ملزمین کو قصورار قرار دیا جبکہ ایک ملزم کو ناکافی ثبوت کی وجہ سے بری کرنے کا حکم دیاہے۔ جسٹس پرمود دتاتریہ کوڈے نے جمعرات کے روز بم دھماکوں کے ملزم نمبر64 ناصر ڈھکلا اورملزم نمبر94 محمد رفیق شیخ کو مجرم قرار دیا۔ ناصر پر سینٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن (سی بی آئی ) تفتیشی ایجنسی نے پاکستان جا کر تربیت لینے، شیکھاڑی بندرگاہ پر اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد اتارنے کا الزام عائد کیا تھا۔ عدالت نے ٹاڈا کے قوانین کے تحت ناصر کو ان دونوں معاملات میں قصوروار قرار دیاہے۔ ملزم محمد رفیق پر سازش اور پاکستان جا کر تربیت لینے کا الزام تھا جسے عدالت نے صحیح قرار دیا۔ عدالت نے آج ایک اور ملزم نمبر 132محمد احمد منصور کو ناکافی ثبوت کی وجہ سے بری کر دیا۔اب تک عدالت نے ٹائیگر میمن خاندان کے تین افراد، تین پولیس کانسٹیبل ، ایک ملزمہ رخسانہ زری والا اور مزید پانچ ملزمین کو بری کیا ہے۔ بارہ ستمبر سے ٹاڈا کی خصوصی عدالت نے انیس سو ترانوے میں ہوئے سلسلہ وار بم دھماکوں کے کیس کا فیصلہ سنانا شروع کیا ہے۔ اب تک ہر مجرم نے عدالت میں رحم کی اپیل کرتے ہوئے اپنی صفائی میں یہی کہا ہے کہ وہ بابری مسجد کے انہدام اور اس کے بعد ممبئی میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات سے متاثر ہوئے تھے۔ انیس سو ترانوے بم دھماکوں کا یہ مقدمہ ایک سو تئیس ملزمین کے خلاف چل رہا ہے۔ ان میں فلم اسٹار سنجے دت ملزم نمبر 117 ہیں اور ان کا فیصلہ ابھی آنا باقی ہے۔ سنجے پر ممنوعہ علاقہ میں آتشیں اسلحہ یعنی اے کے 56 رائفل رکھنے کا الزام ہے۔ | اسی بارے میں ممبئی: 1993 کے دھماکوں پر فیصلے12 September, 2006 | انڈیا ممبئی: میمن فیملی کے چار ارکان مجرم12 September, 2006 | انڈیا ممبئی دھماکے، پولیس بھی مجرم 26 September, 2006 | انڈیا ممبئی دھماکے: پانچ افراد مزید مجرم29 September, 2006 | انڈیا ’ پانچ بری، ایک قصوروار‘28 September, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||