’طبی امداد کی فراہمی بڑا مسئلہ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ریاست بہار میں سیلاب زدگان کو درپیش خوراک و رہائش کی قلت کے ساتھ ساتھ دو ہفتوں سے پشتوں اور سڑکوں کے کنارے رہائش پذیر افراد با لخصوص بچوں تک جلد از جلد طبی امداد پہنچانا ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ ریاستی حکومت اس مسئلے کے حل کے لیے دیگر اداروں کے علاوہ خاص طور پر اقوام متحدہ کے بچوں کے لیے کام کرنے والے ادارے ’یونیسیف‘ کی مدد لے رہی ہے۔ یونیسیف کے اہلکار انوپم شریواستو نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ایک اندازے کے مطابق فی الوقت ندیوں کے بند اور سڑکوں پر رہنے والے چار لاکھ بچوں کو سب سے زیادہ خطرہ لاحق ہے۔انہوں نے کہا کہ اگلے چار پانچ دنوں میں اگر تمام بچوں کو احتیاطی ادویہ اور ٹیکے نہ لگائےگئے تو صورت حال بگڑ سکتی ہے۔ انوپم کے مطابق اس کے علاوہ وسیع پیمانے پر علاج (کیوریٹو) کی ادویہ کی بھی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ جو حالات ہیں اس میں ڈوبنے سے کم اور بیماریوں سے زیادہ افراد ہلاک ہو سکتے ہیں۔ بقول انوپم مسئلہ صرف یہ نہیں کہ لوگ بیمار ہیں مسئلہ یہ ہے کہ ان تک دوا پہنچانا کافی دشوار کام ہے۔ یونیسیف نے دور دراز علاقوں میں اپنی میڈیکل ٹیمیں بھیجی ہیں۔ مظفرپور کے بوچہاں بلاک کے سلہا بند پر جانے والی ٹیم میں شامل ڈاکٹر صوفیہ عسکری نے بتایا ہے کہ بچوں میں قے، دست کی شکایت کے علاوہ خسرے کا خطرہ کافی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈائریا سے بیمار بچے کچھ علاقوں سے کم اور کہیں سے زیادہ ہیں لیکن ہر جگہ یہ تعداد معمول سے اوپر ہے۔ سلہا بند کے نزدیک ایک پرائمری اسکول میں قائم کیمپ میں جب ادویہ کی تقسیم کا اعلان ہوا تو لوگوں کی قطاریں لگ گئیں۔ مقامی ڈاکٹر اے این شاہی نے کہا کہ اتنے مریض کو اکیلے دیکھنا ان کے لیے ممکن نہ تھا۔ اس کیمپ میں اپنے بچوں کے ساتھ دوا لینے پہنچی نرمل نے کہا کہ پندرہ دنوں کے بعد کھانسی اور بخار کی دوا ملی ہے۔ ایک اور مریض کانتی نے بتایا کہ وہ بیمار تو کئی دنوں سے ہیں لیکن دیوی جی (مقامی نرس) نہیں آ رہی تھیں، اس لیے وہ آج دوا لے سکی ہیں۔ ڈاکٹر صوفیہ کے مطابق درجۂ حرارت میں غیر متوازن تبدیلی کے باعث بھی بخار اور کھانسی کے مریض بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ معدے کی دیگر بیماریوں کے ساتھ ساتھ خارش جیسے جلدی امراض بھی سیلاب زدگان کے لیے مصیبت بنے ہیں۔ یونیسیف کے اہلکار انوپم شریواستو نے بتایا کہ ان کے ادارے کا دائرہ کار تو بچے ہیں لیکن غیر معمولی حالات کی وجہ سے بڑوں کو بھی دوا دی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سےکئی غیر سرکاری تنظیموں کی بھی مدد لی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سیلاب کی وجہ سے پانچ سال تک کے قریب بارہ لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانا مشکل بنا ہوا ہے۔ کئی علاقوں میں یہ مہم بند ہے اور پانی اترتے ہی یہ مہم دوبارہ شروع کی جائےگی۔ |
اسی بارے میں بہار میں بارش سے لاکھوں افراد متاثر23 July, 2007 | انڈیا اور اب امداد پہنچانے کی جنگ07 August, 2007 | انڈیا بہار: امدادی کارروائیاں شروع05 August, 2007 | انڈیا بہار سیلاب: ایک کروڑ افراد متاثر04 August, 2007 | انڈیا انڈیا: تباہ کن سیلاب سے ہلاکتیں03 August, 2007 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||