بہار: فصلوں کو شدید نقصان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حالیہ سیلاب میں ریاست بہار کے لاکھوں کاشت کاروں کو زبردست نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ سیلاب زدہ بیس اضلاع میں دھان، سبزی، گنّا، مکئی، دال، پان اور کیلے کی فصلیں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ سشیل کمار مودی کے مطابق سیلاب زدہ علاقوں میں قریب ستر فی صد فصل برباد ہو چکی ہے۔ فصلوں کو ہوئے نقصان کو سمجھنے کے لیے مکئی کی فصل کی مثال کافی ہے۔آج کل ہر چوک چوراہے پر ملنے والا بھٹّا کہیں نظر نہیں آ رہا ہے۔ ریاست میں سیلاب کے پہلے دور کے دوران بالخصوص دھان کے پودے وسیع پیمانے پر زیر آب آنے کی وجہ سے برباد ہو گئے تھے۔ جن کاشت کاروں نے دوبارہ پودے لگائے وہ سیلاب کے دوسرے دور میں زیر آب آ گئے۔ ریاست کے ڈزاسٹر مینجمنٹ ڈپارٹمنٹ کے پرنسپل سیکریٹری منوج کمار شریواستو کے مطابق قریب پندرہ لاکھ ہیکٹر زرعی زمین پر کھڑی فصلوں کے زیر آب آ جانے سے قریب چھ سو کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ کسان لیڈر بھولاناتھ جھا نے بتایا کہ جو علاقے ’دھان کا کٹورا’ کے نام سے مشہور تھے آج ان علاقوں کے کاشتکار خود ہاتھ میں کٹورا لینے کو مجبور ہوگئے ہیں۔ چھوٹے کسانوں نے سود پر قرض لیکر فصل لگائی لیکن دوسرے دور کے سیلاب نے انہیں پوری طرح برباد کر دیا۔ مسٹر جھا کے مطابق چمپارن میں دھان اور گنّے کی ساٹھ سے ستر فیصد فصل برباد ہو چکی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ گنّے کی فصل برباد ہونے کی وجہ سے چینی ملوں کو کافی دقتوں کا سامنا کرنا ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ بھاگلپور اور نوگچھیا میں کیلے کی فصل کو زبردست نقصان پہنچا ہے۔ سیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہ دربھنگہ زرعی ڈویژن کے جوائنٹ اگریکلچر ڈائریکٹر روی شنکر پرساد کے مطابق اس علاقے میں دھان، مکئی اور دال کی فصل کو زبردست نقصان پہنچا ہے۔ ان کے مطابق ’پہلے دور کے سیلاب میں ہی سوا ارب کا نقصان ہو چکا تھا، دوسرے دور کے سیلاب سے بھی کافی نقصان ہوا ہے۔‘ سیلاب کی وجہ سے نہ صرف عام مزدوروں کو کام ملنے میں دقت ہو رہی ہے بلکہ کھیتوں میں کام کرنے والے مزدور بھی پوری طرح بے روز گار ہوگئے ہیں۔ آل انڈیا اگریکلچرل لیبررز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری دھیرندر کہتے ہیں کہ سیلاب کی وجہ سے کھیتوں میں کام کرنے والے مزدوروں سے تین مہینے کا کام چھن گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان مزدوروں کو اب اکتوبر کے بعد ہی کام ملے گا۔ دھیرندر نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس وجہ سے روزی روٹی کمانے کے لیے دوسری ریاستوں میں جانے والوں مزدوروں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ ریاستی حکومت نے کاشت کاروں کو فی ہیکٹر چار ہزار روپے معاضہ دینے کا اعلان کر رکھا ہے لیکن عام طور پر معاوضہ دینے کے عمل کو دشوار تصور کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق معاوضہ دینے کے لیےسروے وغیرہ کا کام ہونا ہے جس میں کافی وقت لگتا ہے۔ |
اسی بارے میں کئی ریاستوں میں حالات سنگین 19 August, 2007 | انڈیا مون سون سے تباہی، مزید سیلاب18 August, 2007 | انڈیا انڈیا: تباہ کن سیلاب سے ہلاکتیں03 August, 2007 | انڈیا بہار: سیلاب میں ہلاکتوں کا خدشہ25 July, 2007 | انڈیا بہار سیلاب: ایک کروڑ افراد متاثر04 August, 2007 | انڈیا بہار سیلاب: بگڑتی ہوئی صورتحال03 August, 2007 | انڈیا بہار میں بارش سے لاکھوں افراد متاثر23 July, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||