BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 19 August, 2007, 07:55 GMT 12:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کئی ریاستوں میں حالات سنگین
فائل فوٹو
سیلاب زدہ علاقوں میں ہزاروں ایکڑ زمین زیر آب آ گئی ہے
ہندوستان کی ریاست بہار میں سیلاب کی وجہ سے صورت حال مزید پریشان کن بنی ہوئی ہے۔ دیگر ریاستوں اترپردیش، اتراکھنڈ اور آسام میں بھی بارشوں سے زبردست تباہی ہوئی ہے۔

بارشوں کی وجہ سے مشرقی اترپردیش میں واقع گورکھپور۔ سنولی قومی شاہراہ گزشتہ پانچ دن سے بند ہے۔ بستی، بدوان، شاہ جہاں پور اور بریلی کے اضلاع بارش کی وجہ سے سب سے زيادہ متاثر ہوئے ہیں۔ ان علاقوں میں ہزاروں ایکڑ زمین زیر آب آ گئی ہے اور زراعت کو کافی نقصان پہنچا ہے۔

بھوٹان کے پہاڑی علاقوں میں زبردست بارش کے سبب آسام کے نچلے علاقوں میں سیلابی صورت حال ہے۔ حالات کی نزاکت کے پیش نظر قومی شاہراہ اکتیس پر حکم امتناعی نافذ کر دیا گيا ہے۔

فائل فوٹو
اڑیسہ میں کسی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے ریاستی مشینری کو چوکس کردیا گیا ہے

بنگال کی کھاڑي کے شمال میں ہوا کا دباؤ نسبتاً کم ہے۔ اڑیسہ کی حکومت نے کسی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے ریاستی مشینری کو چوکس کردیا ہے۔

ادھراتراکھنڈ میں زبردست بارش کی وجہ سے غیر متوقع سیلاب اور تودے گرنے سے اب تک اڑتالیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ریاستی حکومت نے حالات پر قابو پانے کے لیے مرکزی حکومت سے خصوصی مددطلب کرلی ہے۔ ریاست کے چمولی، پیتھوڑا گڈھ، ادھم سنگھ نگر اور ہری دوار اضلاع میں بارش کے باعث کافی زيادہ مالی نقصان پہنچا ہے۔

بہار کے دارالحکومت پٹنہ سے ہمارے نامہ نگار ایم ایس احمد کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو دن سے بارش رکنے کے باوجود بہار کے شمال اور مشرقی اضلاع میں سیلاب کی صورت حال بدستور پریشان کن ہے۔

سیلاب زدہ مشرقی اضلاع میں امدادی کارموں میں در پیش مشکلات کی وجہ سے ریاستی حکومت نے اب بھاگلپور سے بھی بذریعہ ہیلی کاپٹر امدادی سامان پہنچانے کا فیصلہ کیا ہے۔ فی الحال یہ کام پٹنہ سے ہو رہا تھا۔

فائل فوٹو
سیلاب زدہ علاقوں میں پانی سے پیدا ہونے والی بیماریاں پھیلنے کی اطلاعات ہیں

سیلاب کی وجہ سے لاکھوں افراد پہلے سے ہی بےگھر ہو چکے ہیں۔ دوسرے دور کے سیلاب سے ایک بار پھر مختلف علاقوں کا سڑک اور ریل کا رابطہ ٹوٹ چکا ہے۔ سیلاب زدہ علاقوں کی یہ صورت حال نیپال سے آنے والے پانی، دریاؤں کے زیر آب کٹاؤ اور پشتوں کے ٹوٹنے سے پیدا ہوئی ہے۔

دریں اثناء کشتی کے حادثوں میں موتیہاری، کھگڑیا اور گوپالگنج میں قریب بارہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق اس سال سیلاب کی وجہ سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد تقریباً ساڑھے تین سو تک پہنچ چکی ہے۔

بارش کی وجہ سے جن علاقوں میں سیلاب کا مسئلہ بہت بڑا نہیں ہے وہاں بھی پانی جمع ہوجانے کی وجہ سے مکانات کے منہدم ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔

بارش کی وجہ سے نالندہ ضلع میں ریاست کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کے آبائی مکان کی دیوار بھی گرنے کی اطلاعات ہیں۔

ریاست کے ڈزاسٹر مینجمنٹ ڈپارٹمنٹ کے مطابق سیلاب کی وجہ سے ریاست میں کم از کم پونے دو لاکھ مکانات مکمل یا جزوی طور پر گر چکے ہیں۔ محکمے کے مطابق سیلاب میں ساڑھے بارہ لاکھ ہیکٹر زمین پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے جن کی مالیت تقریباً تیس کروڑ روپے ہے۔

بہار میں بارش
بہار میں مسلسل بارش نے زندگی تنگ کر دی
جان لیوا بارشیں
انڈیا میں شدید بارشوں سے عام زندگی درہم برہم
بارش اور گرمی
گرمی سے بچیں یا سیلاب سے؟
ادے پور کی پچھولا جھیلادے پور کا دردِ سر
اچھی مون سون نے خوشیوں پر پانی پھیر دیا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد