BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 28 August, 2007, 13:59 GMT 18:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھاگل پور فساد: معاوضوں کا معیار

وزیراعلی نتیش کمار
از سرِ نو جائزہ لینے والے کمیشن کی پہلی رپورٹ منگل کو وزیراعلی کو پیش کی گئی
بہار میں ایک تحقیقاتی کمیشن نے اٹھارہ سال قبل بھاگل پور میں ہونے والے فساد کے متاثرین کو1984 کے سکھ مخالف فسادات کے لیے متاثرین کے مساوی معاوضوں کی سفارش کی ہے۔

بہار کے وزیراعلی نتیش کمار نے گزشتہ برس بھاگلپور فسادات میں ہلاک ہونے والوں کے پسماندگان کو معاوضے دینے اور ان کی امداد کے دیگر پہلوؤں کا از سرنو جائزہ لینے کے لیے ایک کمیشن قائم کیا تھا۔ جسٹس این این سنگھ کی سربراہی میں قائم کیے جانے والے اس کمیشن نے اپنی پہلی رپورٹ منگل کو وزیراعلی کو پیش کر دی۔

وزیر اعلی نتیش کمار نے بتایا کہ وزیراعظم منموہن سنگھ کو رپورٹ کے ساتھ ایک مکتوب بھیجا جا رہا ہے جس میں سفارش کی گئی ہے کہ سکھ مخالف فسادات کے ورثا کو جو ساڑھے تین لاکھ روپے کا معاوضہ اور دیگر سہولتیں دی گئی ہیں وہ بھاگلپور کے متاثرین کو بھی دی جائیں۔

معاوضہ کا یہی پیکج گجرات فساد کے متاثرین کو بھی دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پیکج میں پنشن دینےکی ذمہ داری ریاستی حکومت کو دی گئی ہے اور حکومت بہار اس ذمہ داری کو نبھانے کے لیے تیار ہے۔ پنشن کی رقم ڈھائی ہزار روپے مہینہ ہے۔ ریاستی حکومت نے امورِ داخلہ کے پرنسپل سکریٹری افضل امان اللہ کو بھی مراسلہ بھیجا ہے تاکہ وہ اس سلسلہ میں وزارات داخلہ کے حکام سے تبادلہ خیال کریں۔

تمام افسران کے خلاف کاروائی
 پہلی رپورٹ میں جن افسران پر انگلی اٹھائی گئی تھی ان کی فائل بھی جلد ہی کھولی جائیگی اور ان تمام افسران کے خلاف کاروائی شروع کی جائے گي خواہ وہ ریٹائر ہی کیوں نہ ہو گئے ہوں
داخلہ سکریٹری امان اللہ

اس سے قبل بھاگل پور فساد میں ہلاک ہونے والے آٹھ سو ترپن لوگوں کے ورثا کو فی کس ایک لاکھ دس ہزار روپے کا معاوضہ دیا گیا تھا لیکن ہلاک ہونے والے مزید افراد کی شناخت کے بعد مجموعی تعداد نو سو ہوگئی۔ نئي رپورٹ کے مطابق تقریبا پچاس ہزار لوگ اس فساد سے متاثر اور بے گھر ہوئے تھے۔ کمیشن نے متاثرین کی بحالی کی بھی سفارش کی ہے۔

وزیراعلی نے کہا ہے کہ کمیشن کو یہ ذمہ داری بھی دی گئی ہے کہ ملزموں کے خلاف جو کیس ثبوت کے باوجود بند کردیے گئے تھے ان کا از سرِ نو جائزہ لے کر سماعت شروع کرائی جائے۔

انہوں نے سابق وزیراعلی اور موجودہ وزیر ریلوے لالو پرساد یادو کا نام لیے بغیر کہا کہ جو پندرہ سالوں تک حکومت کرتے رہے انہوں نے اس معاملہ میں محض مگرمچھ (گھڑیالی) کے آنسو بہائے انصاف نہیں دلایا۔

داخلہ سکریٹری امان اللہ نے کہا کہ پہلی رپورٹ میں جن افسران پر انگلی اٹھائی گئی تھی ان کی فائل بھی جلد ہی کھولی جائیگی اور ان تمام افسران کے خلاف کاروائی شروع کی جائے گي خواہ وہ ریٹائر ہی کیوں نہ ہو گئے ہوں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد