خواجہ سراؤں کی علاقائی لڑائی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں خواجہ سراؤں یا ہیجڑوں کے درمیان علاقوں پر مالکانہ حق کا تنازعہ آپسی تصادم کے بعداب قانونی چارہ جوئی تک جا پہنچا ہے۔ یہ معاملہ اس لئے بھی کافی دلچسپ ہوگیا ہے کیونکہ خواجہ سرا علاقوں پر مالکانہ حق کا فیصلہ آپسی مفاہمت سے کرتے رہے ہیں اور اس طرح کے معاملے کا قانو نی حل تلاش کرنے کی بات اس سے پہلے شاید ہی کبھی سامنے آئی ہے۔ واضح ہو کہ ہندوستان کے مختلف شہروں میں ہیجڑ ے آپسی مفاہمت کی بنیاد پر الگ الگ علاقوں پر مالکانہ حق رکھتے ہیں اور وہ اسی علاقے کی سرحد میں رہ کر مبارک باد کے گیت اور رقص پیش کرتے ہیں۔ مخصوص علاقے میں کسی کے یہاں بچہ پیدا ہونے یا خوشی کے دیگر مواقع پر پہنچ کر وہ لوگ ناچتے گاتے ہیں جس کے عوض انہیں اچھی خاصی رقم حاصل ہوتی ہے۔ اسی لئے ہیجڑوں کا ایک گروپ کسی حال میں دوسرے گروپ کے ہیجڑوں کو اپنے علاقے میں داخل ہو کر رقص اور گیت پیش کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ ’للن ہیجڑا‘ ہیجڑوں کے سماج کا ایک مشہور نام ہے جو سماجی خدمات کے لیے پیش پیش رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ’پٹنہ کے جن علاقوں پر گنیشی اور کالی ہیجڑا کے لوگ دعویٰ کر رہے ہیں ان علاقوں کو ہم نے ڈھائی لاکھ روپے دیکر خرید لیا ہے۔‘ اپنے دعوے کو سچ ثابت کرنے کے لئے للن ہیجڑا کے ترجمان تنویر احمد ایسی متعدد دستاویز دکھاتے ہیں جس میں اس بات کا ذکر ہے کہ للن ہیجڑا نے کالی اور گنیشی ہیجڑا کو الگ الگ مواقع پر کبھی 20 ہزار تو کبھی 35 ہزار روپے ادا کیے ہیں۔ لیکن گنیشی ہیجڑا اور ان کے ترجمان ہری چند ان باتوں کو جھوٹ اور دھوکے بازی بتاتے ہیں۔ ہری چند کا کہنا ہے کہ علاقوں کی خرید و فروخت کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔ ہری چند مزید کہتے ہیں:’للن ہیجڑا ہمیں عدالت میں کھینچنا چاہتے ہیں تو ہم عدالت میں ہی یہ ثابت کر دیں گے کہ ان علاقوں پر ان کا دعویٰ غیرمناسب ہے۔‘
اس درمیان مقامی پولیس اس معاملہ میں خود کو بالکل بے یار و مددگار محسوس کر رہی ہے۔گزشہ دنوں تو حالت یہ ہوگئی کہ دونوں گروپوں کے ہیجڑے مقامی کوتوالی تھانہ پہنچ گئے اور پولیس کی موجودگی میں گھنٹوں اودھم مچاتے رہے۔ ساڑیوں اور سلوار شوٹ میں ملبوس تقریبا ایک سو ہیجڑوں نے نہ صرف تھانے کا محاصرہ کر رکھا تھا بلکہ پولیس والے اس دھوم دھڑاکے میں دوسرا کام بھی نہیں کر پا رہے تھے۔ مقامی تھانے کے صدر ابھے سنہا بھی ہیجڑوں کو سمجھانے میں نا کام رہے۔ آخر کار تنگ آکر انہیں کہنا پڑا کہ ہیجڑوں کو سمجھانا آسان نہیں ہے۔ اس کے بعد پولیس والوں نے انہیں پولیس سٹیشن سے بہت مشکل سے منتشر کیا۔ ہیجڑا سماج کے ذرائع کے مطابق پٹنہ میں مختلف گروپوں میں منقسم ہیجڑوں کی تعداد 300 کے قریب ہے جن میں اکثریت کالی اور گنیشی ہیجڑا کے ساتھ ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ناچنے گانے کے عوض ایک زون سے لگ بھگ چالیس ہزار روپے ماہانہ موصول ہوتے ہیں۔ بیس لاکھ سے زیادہ کی آبادی والے اس شہر میں کوئی پانچ زون ہیں۔ |
اسی بارے میں ہیجڑے سیکیورٹی آپریشن کی زد میں18 September, 2004 | پاکستان زلزلہ زدہ ہیجڑے07 October, 2006 | پاکستان انشورنس: ہیجڑوں کی درخواست مسترد 03 September, 2004 | انڈیا بہار: تفریح کے ذریعے ٹیکس اصولی09 November, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||