زلزلہ زدہ ہیجڑے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جیسے ہی میں نے معاوضے کے بارے میں بات کرنا چاہی۔ان میں سے ایک ہیجڑہ تالیاں بجاتے کولہا مٹکاتے ہوئے میری طرف بڑھا ’۔۔۔ ہائے ہائے اب آئی ہو سال بھر کے بعد۔۔۔۔اب بچا ہی کیا ہے۔۔۔۔کیا دیکھنے آئی ہو میڈم ۔۔۔‘ مگر میں اس غصے بھرے طنز سے گھبرانے کے بجائے مسکرا دی اور پھر جن ہیجڑوں نے مجھے معاندانہ انداز میں گھیر لیا تھا وہ بھی اطمینان سے بیٹھ گئے۔ تالیاں بجاتے، ناچتے گاتے، شور مچاتے، ٹھمکا لگاتے یہ ہیجڑے سماج کا وہ نظرانداز طبقہ ہے جسے حکومت سمیت کوئی بھی اپنانے کو تیار نہیں۔ مردم شماری، شناختی کارڈ یا پاسپورٹ کے فارم میں جنس کے خانے میں یا تو آپ مرد ہوسکتے ہیں یا پھر عورت۔ کچھ اور نہیں ہوسکتے۔ شاید اسی لیئے ہیجڑوں کو بھی کوئی کچھ نہیں سمجھتا۔ کسی کے پاس اس کمیونٹی کے بارے میں کوئی مستند اعداد و شمار بھی نہیں ہیں۔اس لیئے یہ بھی مشکل ہے کہ بحیثیت کمیونٹی یہ ہیجڑے موثر طریقے سے اپنے مسائل اجاگر کرسکیں۔ تعلیم اور ملازمت کے دروازے بظاہر ان پر بند نہیں ہیں لیکن باقی لوگوں کا رویہ اور معنی خیز نظریں انہیں عملاً محض دو شعبوں تک محدود کردیتی ہیں۔ یا تو بھیک مانگیں یا پھر زنانہ روپ دھارے ناچ گا کر گزارہ کریں۔ مانسہرہ کے بازار میں زنانہ روپ میں ٹھمک ٹھمک ہر دوکان پر جا کر تالیاں بجا بجا کر دعائیں دینے والے ایک ہیجڑے ثمینہ نے بتایا کہ عورت کا روپ دھارنا ہماری کاروباری مجبوری بھی ہے۔ کیونکہ عورت کو ہر مرد ایک دفعہ مڑ کر ضرور دیکھتا ہے۔ ہماری برادری کے جو لوگ مردوں کی طرح گھومتے پھرتے ہیں انکی جھولی میں پیسے کم اور طنزیہ جملے زیادہ گرتے ہیں۔ ایک اور بازار میں ایک معمر ہیجڑہ حشمت میلے کچیلے کپڑے پہنے بھیک مانگ رھا تھا۔اس نے پشتو میں بتایا کہ بیٹی میں جب جوان تھا تو ناچ گانا بھی کرتا تھا اور لوگ سر آنکھوں پر بھی بٹھاتے تھے۔ بڑھاپے میں تو سایہ بھی نظریں پھیر لیتا ہے۔اب بھیک نہ مانگوں تو اور کیا کروں۔ خالدہ مانسہرہ کے قدیمی ڈیرے میں اپنی برادری کے ساتھ اسوقت سے رہ رھا ہے جب وہ کئی برس پہلے لاہور سے یہاں آیا تھا۔ خالدہ کو آج بھی اپنے گھر والے بہت یاد آتے ہیں۔اس نے بتایا کہ اب وہ اپنے خاندان سے ملنے اسی وقت جاتا ہے جب کسی کی بیماری یا مرنے کی اطلاع ملتی ہے۔ خوشی کے موقع پر نہ تو گھر والے اسے بلاتے ہیں اور نہ ہی اسکا شریک ہونے کو جی چاہتا ہے۔شاید وہ اس لیئے بلانے سے ہچکچاتے ہیں کہ میری وجہ سے کہیں وہ لوگوں کے مذاق کا نشانہ نہ بنیں۔
خالدہ کے برابر بیٹھے ہوئے ماریا نے کہا کہ بھارت میں تو ہماری کمیونٹی کے لوگوں نے کوشش کرکے خود کو منوا لیا ہے اور قانونی حقوق حاصل کر لیئے ہیں۔ ہمارا بھی جی چاہتا ہے کہ ہم الیکشن میں حصہ لیں اور پارلیمنٹ، صوبائی اسمبلی اور ضلعی نظام میں منتخب ہوکر اپنے حقوق کے لیئے آواز بلند کریں۔حکومت نے ہر کمیونٹی کی نمائندگی کے لیئے ان اداروں میں کوٹہ مخصوص کیا ہے لیکن ہمارا کسی کو بھی آج تک خیال نہیں آیا کہ یہ لوگ عورت اور مرد نہ سہی انسان تو ہیں اور پاکستانی بھی ہیں۔اخباروں سے کیا امید کریں وہ تو خود ہمارا مذاق اڑاتے ہیں۔ ماریہ نے یہ شکایت بھی کی کہ زلزلے سے ہونے والے نقصان کے سروے اور معاوضوں کے سلسلے میں بھی انکی کمیونٹی کو نظرانداز کیا جا رھا ہے۔ ’ہمارا یہ ڈیرہ زلزلے سے متاثر ہوا ہے اور اس میں جگہ جگہ دراڑیں پڑ گئی ہیں۔ ہم نے جگہ جگہ درخواستیں بھی دیں۔ ایک فوجی ٹیم نے جگہ کا معائنہ بھی کیا۔ ہماری آنکھوں کے سامنے بااثر خواتین نے امداد حاصل کرلی مگر ہمیں کسی نے ٹکہ تک نہیں دیا۔ اس برادری کے گرو اقبال عرف بالے نے شکوہ کیا کہ زلزلے کے بعد کاروبار بھی مندا ہوگیا۔اب لوگ ہمیں پیدائش اور شادی کی تقریب میں بلاتے ہوئے ہچکچاتے ہیں۔اور جو لوگ ایک سال پہلے اپنی خوشی سے ہزار پانچ سو روپے کی ویل دے دیا کرتے تھے اب انکی جیب سے سو ڈیڑھ سو بھی مشکل سے نکلتا ہے۔ مجھے ان لوگوں سے بات کرتے ہوئے وقت کا پتہ ہی نہیں چلا۔اقبال اور ماریہ میرے پیچھے پڑ گئے کہ روزہ کھولے بغیر جانے نہیں دیں گے۔ بڑی مشکل سے اجازت ملی۔ بالے اور ماریہ نے مجھے یہ دعائیہ ٹپہ گاتے ہوئے رخصت کیا۔ شیر بل کوٹہ دا، شیر بل کوٹہ دا اللہ جو مرگئے نیں انہاں نوں گل و گلزار وچ رکھے۔ جو جیندے نیں انہاں نو فیر شاد و آباد کرے۔اللہ دی ذات قائم کرے فیر بچیاں والیاں نوں۔ |
اسی بارے میں ’چار لاکھ افراد ابھی تک بےگھر ہیں‘03 October, 2006 | پاکستان جنہیں زلزلہ اپاہج کر گیا29 September, 2006 | پاکستان زلزلہ متاثرین پر مزید جھٹکے 04 September, 2006 | پاکستان تحقیق کے لیئے اڑتالیس کروڑ منظور01 July, 2006 | پاکستان بالاکوٹ سے بکریال06 June, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||