BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 03 October, 2006, 14:40 GMT 19:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’چار لاکھ افراد ابھی تک بےگھر ہیں‘

متاثرہ پہاڑی علاقوں میں کئی فٹ برف باری ہوتی ہے
پاکستان کے زلزلہ زدہ علاقوں میں امدادی کام کرنے والی عالمی تنظیموں ریڈ کراس اور ہلال احمر کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں تقریبًا چار لاکھ افراد کے پاس ابھی تک رہائش کا کوئی انتظام نہیں ہے۔

ریڈ کراس اور ہلال احمر کے وفاق کے پاکستانی وفد کے سربراہ ادایا رجمی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی تنظیم نے اب تک گیارہ لاکھ زلزلہ متاثرین کو ریلیف کا سامان اور خدمات مہیا کی ہیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اب متاثرین کے لیئے بنائے گئے کیمپ تو ختم ہوگئے ہیں لیکن سردی سر پر کھڑی ہے جوگزشتہ سال کے مقابلہ میں زیادہ سخت ہوسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ پہاڑی علاقوں میں کئی فٹ برف باری ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی تنظیم زیادہ تر صوبہ سرحد کے متاثرہ علاقوں میں کام کر رہی ہے اور دس ہزار متاثرہ خاندانوں کو سردی کے لیئے بنائے گئے گرم کپڑے، خاص خیمے اور جستی چادریں مہیا کرے گی تاکہ وہ سردی کا موسم خیریت سے گزار سکیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی تنظیم بالاکوٹ، الائی، بھشام، بٹ گرام وغیرہ کے علاقوں پر خاص توجہ دے رہی ہے۔

متاثرین کی بحالی اورتعمیر نو کا کام تین سال کی مدت میں مکمل کیا جاسکے گا

ادایا رجمی کا کہنا تھا کہ مکان کے بغیر چھیاسٹھ ہزار خاندانوں میں سے تقریبًا اٹھائیس ہزار خاندان صوبہ سرحد کے متاثرہ علاقوں میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اکتوبر کے آخر تک وہ تمام سامان جمع کرکے مانسہرہ کے گودام میں جمع کرلیں گے جس کے بعد اسے سردی شروع ہونے سے پہلے تقیسم کردیا جائے گا۔

نیپال سے تعلق رکھنے والے ادایا رجمی کا کہنا تھا کہ دور دراز پہاڑی علاقوں پر جانے کے لیئے ریڈ کراس چار ہیلی کاپٹر استعمال کرے گی۔

ریڈ کراس کے پاکستانی وفد کے سربراہ نے کہا کہ ایک بڑا چیلنج متاثرین کی بحالی ہے جس میں ان کا نفسیاتی علاج اور معاشی روزگار بحال کرنا شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کئی ملکوں جیسے ہالینڈ وغیرہ سے ریڈ کراس کی تنظیمیں لوگوں کی نفسیاتی بحالی میں مدد دینے کے لیئے کام کررہی ہیں۔

ادایا رجمی کا کا کہنا تھا کہ متاثرین کی بحالی اورتعمیر نو کا کام تین سال کی مدت میں مکمل کیا جاسکے گا۔

زلزلہ زدگانزلزلہ زدگان کے لیے
بحالی کا نیا صوبائی منصوبہ
اب سروئرز کے جھٹکے
زلزلہ متاثرین کو جھٹکوں پر جھٹکے
زلزلے کے بعد
امدادی کاموں پر زلزلہ متاثرین کا اظہارِ مایوسی
متاثرین زلزلہزلزلہ کے 400 اپاہج
وہ جنہیں آٹھ اکتوبر کا زلزلہ فالج دے گیا
اسی بارے میں
زلزلہ متاثرین پر مزید جھٹکے
04 September, 2006 | پاکستان
جنہیں زلزلہ اپاہج کر گیا
29 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد