’اساں اس رات دی نئی ویکھنی سویر وے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سالِ گزشتہ زلزلے کے بعد جب میں ضلع مانسہرہ کے ڈھاڈر مینٹل ہسپتال گیا تھا تو وہاں ذہنی مریضوں کے پانچ میں سے تین وارڈ منہدم ہوچکے تھے۔ ایک ڈاکٹر اور اسکی اہلیہ ملبے تلے دب کر ہلاک ہوگئے تھے۔ بیشتر مریضوں کو گھر بھیج دیا گیا تھا۔ انیس مریضوں کو رات کے وقت خیموں میں رکھا جارہا تھا کیونکہ بچ جانے والے دو وارڈز کی دیواروں میں بھی دراڑیں پڑ گئی تھیں۔ اس وقت نفسیاتی وارڈ میں میری دو مریضوں مجاہد حسین اور شیر افضل سے ملاقات ہوئی تھی۔ شیر افضل کا یہ شعر مجھے اب تک یاد ہے بیتالی سال حملہ آور رہے جملہ مسلمان جبکہ مجاہد حسین نے نورجہاں کا مشہور گیت گائے گی دنیا گیت میرے، سریلے انگ میں، نرالے انگ میں گنگنایا تھا۔ دو روز قبل جب ایک برس کے وقفے سے میں دوبارہ ڈھاڈر مینٹل اسپتال پہنچا تو دیکھا کہ جس وارڈ کا جو ملبہ ایک سال پہلے پڑا تھا۔ آج بھی وہیں پڑا تھا۔ اس عرصے میں میرے شناسا شیر افضل کو گھر شفٹ کردیا گیا اور مجاہد حسین نے داڑھی بڑھا لی۔ میں نے مجاہد سے کہا کہ گائے گی دنیا گیت میرے۔ کہنے لگا مجھے کوئی گانا وانا نہیں آتا۔ بس ایک گانا آتا ہے۔ ٹوئنکل ٹوئنکل لٹل سٹار۔ آئی ایم دی گاربیج آفیسر آف اسلام آباد، پنڈی اینڈ ڈھاڈر لمیٹڈ آل سو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گزشتہ برس کے انیس مریضوں کے مقابلے میں اب یہاں چھپن مریض ہیں۔ ان میں سے ایک نے زور زور سے عطا اللہ خان عیسٰی خیلوی کا گیت قمیض تیری کالی، نی سونے پھلاں والی، اتنا سریلا گانا شروع کیا کہ میں اس کی جانب متوجہ ہوگیا۔ لوہے کی ریلنگ کے پیچھے بند اس مریض سے میں نے پوچھا یہاں کیسے۔ کہنے لگا: ’پیاش، کھٹیاش کڈنگ۔ ہمیں تو اپنوں نے لوٹا غیروں میں کہاں دم تھا۔ میری کشتی وہاں ڈوبی جہاں پانی کم تھا۔ ڈینٹنگ پینٹنگ کرتے کرتے پہلے فوزیہ سے پھر نازیہ سے عشق ہوگیا۔ میرے بھائیوں نے مجھے ناجائزمارا پھر یہاں چھوڑ دیا۔ ایٹی وان ، لارجیکٹل سے نیند آ جاتی ہے۔ پہلے فوزیہ کی پھر نازیہ کی شادی ہوگئی۔ فوزیہ کے دو بچے ہیں۔ ہم چھڑے رہ گئے۔ اب میں تیرہ دن بعد یہاں سے جاؤں گا اور اپنا ہیلی کاپٹر بناؤں گا۔ اسے بچوں سمیت لے آؤں گا۔ پرویز مشرف کو کیا اعتراض ہے‘۔ نفسیاتی وارڈ کے انچارج محمد صدیق نے بتایا کہ زلزلے سے پہلے یہ سو بستروں کا ہسپتال تھا۔ اب صرف ساٹھ مریضوں کی گنجائش ہے کیونکہ جو دو بیرکیں سلامت ہیں ان میں مزید مریض نہیں رکھے جاسکتے۔ ہم پندرہ بیس دن سے زیادہ اپنے پاس مریض نہیں رکھ پاتے۔ اضافی مریضوں کو پشاور منتقل کرنا پڑتا ہے۔
محمد صدیق نے بتایا کہ زلزلے کے بعد ضلعی محکمہ صحت کا صرف ایک افسر یہاں کی حالتِ زار دیکھنے آیا تھا۔اس کے بعد سول ورکس کی ایک سروے ٹیم اور متحدہ عرب امارات کی ایک ٹیم آئی۔ نقصان کا تخمینہ دو کروڑ روپے لگایا گیا۔ لیکن پھر کچھ نہیں ہوا۔ دو وارڈوں کی دیواروں کے شگاف ہم نے اپنے طور پر بھر لیئے لیکن تین وارڈوں کا ملبہ اپنی جگہ موجود ہے۔ زلزلے سے متاثر علاقے کی تعمیرِ نو کے ذمہ دار ادارے ایرا کی کوئی ٹیم ڈھاڈر ہسپتال نہیں پہنچ سکی۔ ہسپتال کا بجٹ آج بھی قریباً پچیس لاکھ روپے سالانہ ہے۔ جس میں مریضوں کی دیکھ بھال، خوراک اور ادویات کے اخراجات بھی شامل ہیں۔
ایک انتظامی تبدیلی یہ ضرور آئی کہ گزشتہ برس میری ملاقات میڈیکل سپرانٹنڈنٹ سجاد حسین سے ہوئی تھی۔ اب ان کی جگہ ڈاکٹر سردار بشیر نے لے لی ہے۔ میں نے پوچھا آخر اس ہسپتال کو حکومت یا این جی اوز کیوں بھول گئے۔ کہنے لگے کہ مظفر آباد، گڑھی حبیب اللہ یا بالا کوٹ کے مقابلے میں ڈھاڈر خاصا سائڈ میں ہے۔ شاید اسی لیئے کسی کی نظر نہیں پڑتی۔ زلزلے کے بعد بچ جانے والا تھوڑا بہت سامان جمع کیا گیا تھا۔ اسے بارشیں اپنے ساتھ لے گئیں۔ آپریشن تھیٹر کی عمارت میں برساتی مٹی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔ اسی مینٹل ہسپتال کے بازو میں یو ایس ایڈ کی مدد سے ایک جدید سکول کی عمارت کھڑی کردی گئی ہے اور اب اسں پر رنگ و روغن کیا جارھا ہے تاکہ آٹھ اکتوبر کو اس کا افتتاح ہوسکے۔ روزانہ اس پروجیکٹ کے نگرانوں کو ایک ہیلی کاپٹر مینٹل ہسپتال کے اوپر سے گزرتا ہوا یہاں لاتا اور لے جاتا ہے۔ میں نے ڈاکٹر سردار بشیر سے کہا کہ آپ اس ہیلی کاپٹر کو دیکھ کر سفید جھنڈا کیوں نہیں لہرا تے۔ ڈاکٹر بشیر نے کہا کہ جہاں ترجیہات مختلف ہوں وہاں جھنڈا کون دیکھتا ہے اور ’مے ڈے مے ڈے‘ کی پکار کون سنتا ہے۔ ڈاکٹر بشیر سے یہ گفتگو جاری تھی کہ نفسیاتی مریضوں کے وارڈ سے ایک نہایت سریلا درد بھرا گیت نکلا۔ چھپ جاؤ تاریو پا دیو ہنیروے | اسی بارے میں زلزلے سے کیا سیکھا جا سکتا ہے05 November, 2005 | قلم اور کالم آپریشن ریلیف یا آپریشن کنفیوژن؟13 November, 2005 | قلم اور کالم ’فالٹ‘ صرف فالٹ لائنز میں نہیں ہے14 November, 2005 | قلم اور کالم زلزلہ زدگان کی امداد، لندن میں شو 01 December, 2005 | قلم اور کالم این جی اوز نے کیا بگاڑا ہے؟25 August, 2006 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||