برطانوی ہیجڑے کو دیوی کا رتبہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسٹیون لوئیس کاپر کا تعلق برطانیہ سے ہے اور وہ ایک ہجڑے ہیں۔ لیکن گجرات میں انہیں ایک دیوی کے روپ میں پوجا جارہا ہے۔ انکے دیدار کے لیے عقیدت مندوں کی بھیڑ جمع ہوتی ہے۔ اسٹیون لوئیس کاپر گجرات کے بیچارہ جی علاقے میں بڑی تعداد میں عقیدت مندوں کو اپنی طرف راغب کررہے ہیں۔ گجرات کے اس علاقے میں ہیجڑوں کی دیوی مانی جانے والی باہوچار ماتا کا ایک مشہور مندر ہے اور ان دنوں اس مندر میں اسٹیون لوئیس کو لوگ دیوی کے ایک روپ کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور اسٹیون کو عقیدت مند ماں کہہ کر پکار رہے ہیں۔ اسٹیون کا کہنا ہے کہ وہ ایک ہیجڑے ہیں اور انہیں ساڑھی پہننا پسند ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ لوگ انہیں ایک عورت کے طور پر پہچانیں۔ گجرات میں اسٹیون کو ایک نیا نام بھی مل گیا ہے۔ لوگ انہیں اب پیما کے نام سے پکار رہے ہیں۔ پیما کا مطلب ہوتا ہے کنول کا پھول۔ اسٹیون کا کہنا ہے کہ ان کے ویزا کی معیاد چھ مہینے بعد ختم ہوجائیگی لیکن اسکے بعد بھی وہ ہندوستان میں رہنا چاہتے ہیں۔ اسٹیون نے بتایا کہ ہندوستان آنے سے پہلے وہ پانچ برس تک لندن میں رہے۔ وہ آکسفورڈ یونیورسٹی کے رسکن کالج سے لاء کرنا چاہتے تھے لیکن پاس نہیں ہوسکے۔
اسٹیون کا کہنا ہے کہ وہ اپنی باقی زندگی ہندوستان میں گذارنا چاہتے ہیں۔ مندر کے ٹرسٹی پی سی راول نے بتایا کہ اس مندر میں ہر برس بڑی تعداد میں ہیجڑے دیوی کے دیدار کے لیے آتے ہیں ۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ اس مندر میں آنے سے ہیجڑے اگلے جنم میں ہیجڑے کے روپ میں پیدا نہیں ہوتے ہیں۔ اسٹیون کا کہنا ہے کہ انہوں نے گجراتی زبان کے کچھ الفاظ سیکھ لیے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ گجراتی اور سنسکرت زبان پوری طرح سے سیکھ لیں۔ | اسی بارے میں ہیجڑا میئر برخاست29.08.2002 | صفحۂ اول خواجہ سراؤں کا سوانگ27.04.2003 | صفحۂ اول ’ووٹ، نہ پاسپورٹ‘06 September, 2003 | صفحۂ اول انشورنس: ہیجڑوں کی درخواست مسترد 03 September, 2004 | انڈیا زلزلہ زدہ ہیجڑے07 October, 2006 | پاکستان دینی مدارس، ہیجڑے اور ایڈز07 December, 2004 | پاکستان دلی کے عاشق جائیں تو کہاں جائیں09 November, 2004 | انڈیا ہیجڑے سیکیورٹی آپریشن کی زد میں18 September, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||