BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 18 September, 2004, 08:55 GMT 13:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہیجڑے سیکیورٹی آپریشن کی زد میں

ہیجڑے
’ہم سیکیورٹی کے لیے کیا خطرہ بن سکتے ہیں‘
پچھلے دنوں کراچی میں سیکورٹی مہم کے تحت شہر بھر سے خواجہ سراؤں یا ہیجڑوں کو بڑی میں تعداد گرفتار کیا گیا ۔

کراچی کے ڈی آئی جی آپریشنز فیاض لغاری سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ افراد نہ صرف گداگری و آوارہ گردی میں ملوث تھے بلکے ان کی وجہ سے شہر کے حساس مقامات کی سیکورٹی کو بھی خدشہ تھا۔

ان کے بقول اسی لیے ان کی بڑی تعداد کو شہر کی ڈِسٹرکٹ ساؤتھ سے گرفتار کیا گیا ۔

تاہم یہ تمام ہی افراد آرٹلری میدان تھانے لائے گئے اور پھر انہیں سنٹرل جیل کا مہمان بنا دیا گیا۔ سینٹرل جیل میں ان کے ساتھ کیسا برتاؤ ہوا اس کی تفصیل دیتے ہوئے گرفتار شدگان میں سے تین ادھیڑ عمر خواجہ سراؤں نے بتایا کہ جب انہیں گداگری و آوارہ گردی کے الزام میں کراچی کی مرکزی جیل لے جایا گیا تو سب سے پہلے تو ان کی جنس کا مسئلہ درپیش ہوا کہ انہیں کس جیل میں رکھا جائے۔

آدھی رات کو بقول روبی اور اس کے ساتھیوں کے انہیں سینٹرل جیل سے لانڈھی جیل بھیج دیا گیا مگر پھر دوبارہ وہی پولیس وین سینٹرل جیل پر رک گئی۔ بڑی مشکل سے انہیں ایک رات گزارنے کے لیے سینٹرل جیل کے مردانے میں جگہ ملی۔

بقول چونڈی جی ہمیں اگلی صبح قرضہ لے کر چھ ہزار روپے میں اپنی ضمانت دیتے بنی۔ چونڈی نے اپنے اوپر لگے الزام کے بارے میں بتایا کہ ’ہم تو بوڑھے پیپے ہم بھلا کیا کر سکتے ہیں، ہم تو بھیک مانگ کر بڑی مشکل سے روز کی روٹی کما پاتے ہیں‘۔

جب کہ روبی نے قدرے غم و غصے سے لال پیلے ہوتے ہوئے اس کارروائی پر کہا کہ ہم بھلا کسی کی سیکورٹی کو کیا خطرہ ہو سکتے ہیں ’آپ کی سب کی ماں بہن ہماری ماں بہن، ہم تو بھاری وزن نہیں اٹھا سکتے ہم کیا خطرہ ہوں گے‘۔

گاس نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’ہم جھوٹ نہیں بولیں گے، پولیس والوں نے ہمارے ساتھ کوئی بد سلوکی نہیں کی‘۔

اسی سلسلے میں جب عوامی رائے جاننے کی کوشش کی گئی تو لوگوں نے انہیں ’معاشرے کی ایک تلخ حقیقت‘ قرار دیا اور کچھ نے کانوں کو پکڑ کے توبہ کی اور کہا کہ ’جی کہتے ہیں ان کی بد دعا نہیں لینی چاہیے سو جب بھی یہ گاڑی کی کھڑکی پر ہاتھ پھیلاتے ہیں ہم کچھ نہ کچھ دے ہی دیتے ہیں‘۔

لیکن ہیجڑے اور سیکورٹی کو خطرہ بات کچھ جمی نہیں وغیرہ وغیرہ جیسی آراء سننے کو ملی۔

دیکھا جائے تو کراچی کی سڑکوں پر ان گرفتاریوں کے بعد سے شہر کے چوراہوں پر ہی نہیں بلکہ عبداللہ شاہ غازی کا مزار جو ا ن کا سب سے پسندیدہ ٹھکانہ ہوا کرتا تھا وہاں بھی یہ کم ہی نظر آرہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد