کراچی میں ہائی الرٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو گیارہ ستمبر کے واقع کے تین سال پورے ہونے اور شہر میں آئیڈیاز 2004 دفاعی نمائش کے انعقاد سے کچھ دن پہلے ہی ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ ڈی ایس پی ساؤتھ رانا پرویز نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ الرٹ کسی ممکنہ دہشت گردی کے واقعے کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے اس کی وجہ نہیں بتائی کہ یہ الرٹ اتنا پہلے کیوں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ الرٹ بیس ستمبر تک رہے گا۔ آییڈیاز 2004 دفاعی نمائش 14 ستمبر کو کراچی کے ایکسپو سنٹر میں ہو رہی ہے۔ کراچی ائرپورٹ سے شہر میں واقع بڑے ہوٹلوں تک نو ایمرجینسی سنٹر قائم کئے گئے ہیں جن میں ایمبولینس سروس، بم ڈسپوزل سکواڈ اور بنکرز بنائے گئے ہیں۔ صرف تین ہوٹلوں میریٹ، شیریٹن اور پرل کانٹینینٹل میں ایک ہزار سے زیادہ پولیس اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد میں رینجرز اور سپیشل برانچ کے اہلکار بھی شہر کی اہم عمارتوں کی نگرانی پر معمور ہیں۔ پولیس کے ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں اور ان پولیس والوں کو بھی جو ٹریننگ سنٹرز میں تعینات تھے سیکیورٹی کی ڈیوٹی کے لیے طلب کر لیا گیا ہے۔ غیر ملکی سفارتخانوں اور ریسٹورانٹس پر بھی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ شہر کی اہم شاہراہوں پر پولیس اور رینجرز نے ناکے لگا دیے ہیں جس سے یوں لگتا ہے کہ شہر میں ہنگامی صورتحال ہے۔ دریں اثناء جمعہ کو ملائشیا کے سابق وزیر اعظم مہاتیر محمد کراچی پہنچ گئے ہیں اور وہ اسلام کو درپیش چیلنج کے حوالے سے ایک سیمینار سے خطاب کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||