BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 06 May, 2007, 15:50 GMT 20:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فہرست تا امیدوار، جنس تبدیل

ثریا
ثریا جنہوں نے انڈیا میں قومی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لیا
بہار میں ہیجڑوں کے نام عورتوں کی فہرست میں ہیں اور انہیں انتخاب بطور مرد لڑنے کے لیے کہا جا رہا ہے۔

جنس متعین کرنے کے اس جھگڑے کی وجہ بہار میں بلدیات کے لیے جاری انتخابی عمل ہے۔

ریاستی انتخابی کمیشن کے مطابق ہیجڑوں کا شمار مرد میں کیا جائے گا۔ دوسری جانب ہیجڑوں کا کہنا ہے کہ انہیں عورت مانا جائے۔

ریاستی حکومت نے پنچایتوں کی طرح ہی شہروں کے بلدیہ میں پچاس فی صد نششتیں خواتین کے لیے مخصوص کی ہیں۔ نصف سیٹیں عورتوں کے لیے مخصوص ہونے کے بعد مردوں کے ساتھ ہیجڑوں کے لیے بھی دقت پیدا ہو گئی۔

ہیجڑوں کا مطالبہ ہے کہ انہیں عورتوں کے لیے مخصوص سیٹوں پر انتخاب لڑنے دیا جائے جبکہ انتخابی کمیشن کا کہنا ہے کہ ہیجڑے صرف ان سیٹوں سے منتخب ہو سکتے ہیں جو مخصوص نہیں ہیں۔

ریاستی انتخابی کمیشن کے سیکرٹری رگھونش کمار سنہا کے مطابق عورتوں کے لیےمخصوص نششتوں پر ہیجڑوں کو انتخاب میں حصہ لینے کا حق نہیں کیوں کہ میڈیکل سائنس کے مطابق ان کی جنس متعین کرنا ممکن نہیں۔ مسٹر سنہا کہتے ہیں کہ یہ ہدایت پہلے ہی جاری کی جا چکی ہے۔

انتخابی کمیشن کے اس فیصلے کے خلاف پٹنہ کے ہیجڑوں نے مظاہرے بھی کیے لیکن کاغذات نامزدگی داخل کرنے کے آخری دن تک انہیں خود کو عورت منوانے کی اجازت نہیں ملی۔

جنس متعین کرنا ممکن نہیں
 ریاستی انتخابی کمیشن کے سیکرٹری رگھونش کمار سنہا کے مطابق عورتوں کے لیےمخصوص سیٹوں پر ہیجڑوں کو انتخاب میں حصہ لینے کا حق نہیں کیوں کہ میڈیکل سائنس کے مطابق ان کی جنس متعین کرنا ممکن نہیں

پٹنہ کے واحد سابق ہیجڑا وارڈ کونسلر کالی ہیجڑا نے بھی بطور عورت ہی نامزدگی کے کاغذات داخل کیے ہیں لیکن ریاستی انتخابی کمیشن کے ذرائع کا کہنا کہ جانچ پڑتال کے دوران کالی کے کاغذات نامنظور ہو جائیں گے۔

دوسری جانب کالی ہیجڑا نے ہم سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر انکے کاغذات رد کیے گئے تو ہائی کورٹ میں مقدمہ ہوگا۔ کالی کا کہنا ہے کہ پانچ سال تک عوام کی خدمت کے بعد انہیں اس طرح عوامی نمائندہ بننے سے نہیں روکا جا سکتا۔ کالی کی دلیل ہے کہ ووٹر لسٹ میں جب ہیجڑوں کے نام بطور عورت درج ہیں تو امیدوار بنتے ہی انہیں مرد کیوں بنایا جا رہا۔

اسی بارے میں
فیصلہ: ہیجڑے مرد ہیں
04 February, 2003 | صفحۂ اول
ہیجڑا میئر برخاست
29.08.2002 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد