پولیو: یو پی اور بہار میں تشویش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان سے پولیو مٹانے کی مہم سے منسلک اقوام متحدہ کے ادارے ’یونیسیف’ نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ تمام کوششوں کے باوجود اس سال بھی اتر پردیش اور بہار میں پولیو کے کافی کیسز سامنے آئے ہیں۔ پولیو کے ٹیکے لگانے کی مہم کے ریاستی کوآرڈینٹر ڈاکٹر انیس الرحمان صدیقی کے مطابق اس سال پورے ملک میں پولیو کے دو سو نئے کیسز ملے ہیں، ان میں سے ایک سو چوالیس یوپی اور پچیس بہار کے مریض ہیں۔ ڈاکٹر صدیقی کے مطابق بہار میں سیلاب کی وجہ سے ایک بڑے علاقے میں پولیو مہم شروع نہیں کی جاسکی ۔ جس وجہ سے وہاں پولیو کے جراثیم پھیلنے کے خدشات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ پولیو کے کیسز زیادہ تر ان علاقوں اور طبقوں میں مل رہے ہیں جہاں اس سے بچنے کی دوا پلانے سے اہل خانہ انکار کر تے ہیں۔ بہار میں امارت شریعہ اور دیگر مذہبی جماعتوں نے پولیو کی دوا پلانے کی مشترکہ اپیل جاری کر رکھی ہے لیکن بعض علاقوں سے اب بھی انکار کی خبر مل رہی ہیں۔ پولیو مٹانے کے لیے ’پلس پولیو’ نام سے چلائی جا رہی مہم سے عین قبل ایک اردو اخبار میں پولیو کے ٹیکے سے متعلق بعض حکیموں کے حوالے سے اعتراضات شائع کیے جانے کے بعد ’یونیسیف’ کے اہلکاروں کی مشکلات اور بڑھ گی۔ اسی طرح سہرسہ ضلع میں مبینہ طور پر حیدرآباد سے چار صفحوں پر مشتمل ایک پرچے کی تقسیم کے بعد درجنوں لوگوں نے اپنے بچوں کو یہ خوراک دینے سے منع کر دیا۔ بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر صدیقی نے بتایاہے کہ اس طرح کے انکار کی صورتحال بنگلہ دیش میں بھی نہیں ہے۔ ڈاکٹر صدیقی اس سے قبل صحت کے عالمی ادارے ڈبلیو ایچ او سے منسلک رہ چکے ہیں اور انہوں نے یو پی میں بھی پولیو مٹانے کی مہم میں حصہ لیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ یوپی میں پولیو کی دوا پلانے سے انکار کرنے والے زیادہ تر مسلمان ہیں جبکہ بہار میں یہ قدرے کم ہے۔ ان کے مطابق بہار میں بعض دوسری برادریاں بھی غلط فہمی یا لاپرواہی سے اپنے بچوں کو پولیو سے بچنے کی دوا دینے سے قاصر رہ جاتی ہیں۔ یونیسیف کے حلقے پولیو کی خوراک موثر ہونے کی بات کہتے ہیں لیکن بعض حلقے اس دوا کی تاثیر پر سوالیہ نشان لگاتے ہیں۔ ریاست کے وزیر صحت چندر موہن رائے کے مطابق پولیو سے بچنے کی خوراک پینے کے باوجود پولیو کے مریض مل رہے ہیں اور یہ مہم اپنی تکمیل کو نہیں پہنچ رہی۔ان کے مطابق پولیو کے ٹیکے کو اور موثر بنانے کی ضرورت ہے۔ | اسی بارے میں پولیو کی دوا: سنگین غلط فہمیاں 17 August, 2005 | انڈیا انڈیا: پولیومیں اضافہ 22 September, 2006 | انڈیا ہندوستان: پولیو کے 100 نئے کیس25 October, 2006 | انڈیا ’طبی امداد کی فراہمی بڑا مسئلہ‘10 August, 2007 | انڈیا متاثرین تک پہنچنے میں مشکلات08 August, 2007 | انڈیا ’سیلاب متاثرین امداد سےمحروم‘27 August, 2007 | انڈیا بہار سیلاب: چارے کا شدید بحران02 September, 2007 | انڈیا بہار: ہر پہلی بچی کیلیے15 ہزار روپے05 September, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||