BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 11 September, 2007, 17:04 GMT 22:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پولیو: یو پی اور بہار میں تشویش

سیلاب متاثر
سیلاب کی وجہ سے ایک بڑا علاقہ پولیو مہم سے دور ہے
ہندوستان سے پولیو مٹانے کی مہم سے منسلک اقوام متحدہ کے ادارے ’یونیسیف’ نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ تمام کوششوں کے باوجود اس سال بھی اتر پردیش اور بہار میں پولیو کے کافی کیسز سامنے آئے ہیں۔

پولیو کے ٹیکے لگانے کی مہم کے ریاستی کوآرڈینٹر ڈاکٹر انیس الرحمان صدیقی کے مطابق اس سال پورے ملک میں پولیو کے دو سو نئے کیسز ملے ہیں، ان میں سے ایک سو چوالیس یوپی اور پچیس بہار کے مریض ہیں۔

ڈاکٹر صدیقی کے مطابق بہار میں سیلاب کی وجہ سے ایک بڑے علاقے میں پولیو مہم شروع نہیں کی جاسکی ۔ جس وجہ سے وہاں پولیو کے جراثیم پھیلنے کے خدشات بھی بڑھ جاتے ہیں۔

پولیو کے کیسز زیادہ تر ان علاقوں اور طبقوں میں مل رہے ہیں جہاں اس سے بچنے کی دوا پلانے سے اہل خانہ انکار کر تے ہیں۔ بہار میں امارت شریعہ اور دیگر مذہبی جماعتوں نے پولیو کی دوا پلانے کی مشترکہ اپیل جاری کر رکھی ہے لیکن بعض علاقوں سے اب بھی انکار کی خبر مل رہی ہیں۔

پولیو مٹانے کے لیے ’پلس پولیو’ نام سے چلائی جا رہی مہم سے عین قبل ایک اردو اخبار میں پولیو کے ٹیکے سے متعلق بعض حکیموں کے حوالے سے اعتراضات شائع کیے جانے کے بعد ’یونیسیف’ کے اہلکاروں کی مشکلات اور بڑھ گی۔ اسی طرح سہرسہ ضلع میں مبینہ طور پر حیدرآباد سے چار صفحوں پر مشتمل ایک پرچے کی تقسیم کے بعد درجنوں لوگوں نے اپنے بچوں کو یہ خوراک دینے سے منع کر دیا۔

بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر صدیقی نے بتایاہے کہ اس طرح کے انکار کی صورتحال بنگلہ دیش میں بھی نہیں ہے۔

ڈاکٹر صدیقی اس سے قبل صحت کے عالمی ادارے ڈبلیو ایچ او سے منسلک رہ چکے ہیں اور انہوں نے یو پی میں بھی پولیو مٹانے کی مہم میں حصہ لیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ یوپی میں پولیو کی دوا پلانے سے انکار کرنے والے زیادہ تر مسلمان ہیں جبکہ بہار میں یہ قدرے کم ہے۔ ان کے مطابق بہار میں بعض دوسری برادریاں بھی غلط فہمی یا لاپرواہی سے اپنے بچوں کو پولیو سے بچنے کی دوا دینے سے قاصر رہ جاتی ہیں۔

یونیسیف کے حلقے پولیو کی خوراک موثر ہونے کی بات کہتے ہیں لیکن بعض حلقے اس دوا کی تاثیر پر سوالیہ نشان لگاتے ہیں۔ ریاست کے وزیر صحت چندر موہن رائے کے مطابق پولیو سے بچنے کی خوراک پینے کے باوجود پولیو کے مریض مل رہے ہیں اور یہ مہم اپنی تکمیل کو نہیں پہنچ رہی۔ان کے مطابق پولیو کے ٹیکے کو اور موثر بنانے کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں
انڈیا: پولیومیں اضافہ
22 September, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد