بہار: ہر پہلی بچی کیلیے15 ہزار روپے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ریاست بہار میں حکومت نے سیلاب زدہ علاقوں میں حاملہ خواتین کے لیے قائم کردہ ’میٹرنٹی ہٹ‘ میں پیدا ہونے والی ہر پہلی بچی کے لیے پندرہ ہزار روپے کی امداد کا اعلان کیا ہے۔ اس سلسلے میں سمستی پور ضلع کے سیلاب سے بری طرح متاثرہ کلیان پور بلاک کے ایک ’میٹرنٹی ہٹ‘ میں پیدا ہونے والی پہلی بچی کے والدین کو پندرہ ہزار روپے کا چیک دیا گیا ہے۔ اس مرکز میں دو اور بچیوں کی پیدائش پر مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔ ریاست کے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے ان ’میٹرنٹی ہٹس‘ میں پیدا ہونے والی پہلی بچی کے لیے دس ہزار روپے کی امداد کا اعلان کیا تھا جس کو بعد میں بڑھا کر پندرہ ہزار روپے کردیا گیا۔ ان میں سے دس ہزار روپے بچی کے نام بینک میں فکسڈ ڈپازٹ کرنے جبکہ پانچ ہزار روپے بچی کی پرورش کے لیے اس کی والدہ کو دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ کے دفتر کے رابطہ افسر انل کمار چودھری نے بتایا کہ’بہار میں لڑکیوں کی پرائمری تعلیم کے بعد سکول چھوڑنے کی شرح بہت زیادہ ہے۔ اس لیے حکومت کی پالیسی کے تحت اس سکیم کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ ماں باپ بچی کی پیدائش پر ان کے ساتھ کسی قسم کی تفریق نہ برتیں‘۔ ہندوستان میں لڑکیوں کو رحم مادر میں مارنے کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ریاستی حکومتیں وقتاً فوقتاً لڑکیوں کے لیے اس طرح کی سکیموں کا اعلان کرتی رہتی ہیں۔گزشتہ سال اترپردیش میں ملائم حکومت ریاست کے محکمۂ صحت کے سیکریٹری دیپک کمار کے مطابق سیلاب زدہ علاقوں میں حاملہ خواتین کی پریشانی دور کرنے کے لیے ایسے تقریباً پچاس
اقوام متحدہ کے ادارے ’یونیسیف‘ کی مدد سے کھولے جانے والے ان ’میٹرنٹی ہٹس‘ میں ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرا میڈیکل سٹاف کی تعیناتی کی گئی ہے۔ فی الحال یہ ہٹس سیلاب سے سب سے متاثرہ علاقوں سمستی پور، بیگوسرائے، کھگڑیا، مظفرپور، دربھنگہ اور مدھوبنی میں کھولے جا رہے ہیں۔ ایسے ہٹس ریلیف کیمپوں کے علاوہ پشتوں اور ریلوے لائنوں کے قریب قائم کیے جا رہے ہیں جہاں سیلاب سے متاثرہ افراد کی ایک بڑی تعداد نے پناہ لی ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ سیلاب زدہ علاقوں میں دیگر پریشانیوں کے ساتھ ساتھ زچگی کی وجہ سے خواتین کو کافی دقت کی اطلاعات ہیں۔ ہیلتھ سیکریٹری کے مطابق سیلاب زدہ علاقوں سے پانی پوری طرح سے نکلنے میں کم از کم چار ہفتے اور لگیں گے۔اس دوران یہ میٹرنٹی ہٹس کام کرتے رہیں گے۔ |
اسی بارے میں بہار: سیلاب سے11 لاکھ افراد متاثر 28 July, 2007 | انڈیا بہار:مزید بارش، مشکلات میں اضافہ17 August, 2007 | انڈیا بہار: ایڈز کے مریضوں کی مشکل13 August, 2007 | انڈیا بہار: جان سے زیادہ پیارے مویشی 11 August, 2007 | انڈیا بہار: امدادی کارروائیاں شروع05 August, 2007 | انڈیا بہار سیلاب: بگڑتی ہوئی صورتحال03 August, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||