بہار: جان سے زیادہ پیارے مویشی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بہار میں سیلاب زدگان کی ایک بڑی تعداد اس بات سے پریشان نظر آ رہی ہے کہ ان کے مویشی بھوکے اور بیمار ہیں۔ سیلاب سے بری طرح متاثر مظفرپور کے بوچہاں علاقے کے ایک گاؤں کے رہنے والے پرمیشور رائے سے جب ان کا حال پوچھا تو ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ پرمیشور نے کہا ’ہمارا حال کیا پوچھتے ہو بابو، میری بھینس بھوکی ہے اور بیمار بھی ہے۔ اگر چارہ ملنے میں اسی طرح پریشانی ہوئی تو یہ مر جائے گی۔ پھر ہمارا پریوار کیسے زندہ رہے گا‘۔ واضح رہے کہ سیلاب زدگان کی بڑی تعداد مویشی پروری سے روزی کمانے والوں کی ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے خود کے زندہ رہنے کے ساتھ ساتھ ان کی گائے بھینسوں کا زندہ رہنا بھی ضروری ہے تاکہ ان کا دودھ بیچ کر وہ کما سکیں۔ مویشیوں پر سیلاب زدگان کے اس قدر انحصار کی وجہ سے ہی ناسازگار حالات میں اکثر جگہوں پر آدمی اور بھینسیں ایک ہی پولیتھین شیٹ کے نیچے وقت گزارتے ملیں گے اور کچھ جگہوں پر ان کی قطاریں قریب میں ہی لگی مل جاتی ہیں۔ اسی علاقے کے بشن پور جگدیش گاؤں کے منوج ساہنی نے بتایا کہ ان کا گاؤں پاس ہی میں بوڑھی گنڈک کے سیلاب سے کسی طرح بچا ہے۔ ان کے گاؤں کے قریب سیلاب متاثرین کی تعداد اس لیے زیادہ ہے کیونکہ یہاں سوکھی گھاس موجود ہے جسے مویشی پالنے والےکاٹ کر لے جاتے ہیں یا گائے بھینسوں کو لاکر انہیں کھلاتے ہیں۔ منوج نے بتایا کہ سیلاب زدہ لوگوں کی ایسی قطاریں پندرہ بیس کلومیٹر کی دوری میں سمستی پور ضلع تک مل جائیں گی۔ اپنی دو بھینسوں کے ساتھ چارے کی تلاش میں نکلی رام دلاری نے کہا کے سیلاب کے سبب پورے گاؤں سے ہریالی غائب ہے۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ ریاستی حکومت مویشی پروروں کی دقتوں سے ناواقف ہے کیونکہ ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ سشیل کمار مودی مویشی پروری کے بھی وزیر ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر دس اضلاع میں حکومت نےمویشیوں کے پچاس سے زائد ڈاکٹر اور پینتالیس اسسٹنٹ تعینات کیے ہیں۔ مسٹر مودی کے مطابق ان ڈاکٹروں کو تیس ستمبر تک سیلاب زدہ علاقوں میں ہر حال میں رہنا ہوگا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ریاست میں مویشی کے سرکاری ہسپتالوں کی حالت عرصے سے نا گفتہ بہ ہے۔ اس کے علاوہ مویشی پروری کے کروڑوں روپے کے گھپلے کے بعد پورا محکمہ جمود کا شکار ہو گیاتھا۔حکومت کا تازہ اعلان بھی ضرورت کے مطابق ناکافی معلوم ہوتا ہے۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ آدمی کے لیے تو ڈاکٹر مل نہیں رہا مویشیوں کے ڈاکٹر کہاں سے ڈھونڈیں ؟ | اسی بارے میں ’طبی امداد کی فراہمی بڑا مسئلہ‘10 August, 2007 | انڈیا بہار: امدادی کارروائیاں شروع05 August, 2007 | انڈیا بہار سیلاب: بگڑتی ہوئی صورتحال03 August, 2007 | انڈیا سیلاب: ہلاکتیں اور سیاست02 August, 2007 | انڈیا متاثرین تک پہنچنے میں مشکلات08 August, 2007 | انڈیا بہار سیلاب: ایک کروڑ افراد متاثر04 August, 2007 | انڈیا بہار میں بارش سے لاکھوں افراد متاثر23 July, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||