بہار سیلاب: چارے کا شدید بحران | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بہار میں حالیہ سیلابوں کی وجہ سے تباہی کے بعد مویشیوں کے لیے چارے کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار کا کہنا ہے کہ سیلاب زدہ علاقوں میں انسانوں کی خوراک کے لیے تو وافر مقدار میں اناج دستیاب ہے لیکن مویشیوں کے لیے چارے کی سخت کمی ہے۔ واضح رہے کہ جن علاقوں میں سیلاب سے وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ہے وہاں کی بڑی آبادی مویشی پروری پر انحصار کرتی ہے۔ ان علاقوں کے زیرِ آب رہنے سے گھاس بالکل میسر نہیں اور بازار میں ملنے والے چارے کی قیمت بھی کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ چارے کی کمی سے جانور لاغر ہو رہے ہیں اور ایسی حالت میں بیماریوں کی وجہ سے بڑی تعداد میں مویشیوں کی موت ہوئی ہے۔
حکومت کے ڈزاسٹر مینیجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے مویشیوں کے لیے کیمپ بھی لگائے گئے ہیں لیکن اس محکمے کے اعداد و شمار کے مطابق کم از کم چھ سو جانور سیلاب کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں۔ دوسری جانب آزاد زرائع ان ہلاکتوں کی تعداد ہزاروں میں بتا تے ہیں۔ حال ہی میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے بہار کے سیلاب زدہ علاقے میں مفت تقسیم کے لیے مویشیوں کا چارہ بھیجا ہے۔اس کے علاوہ مقامی تنظیمیں بھی مدد کے لیے مفت چارہ دے رہی ہیں۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے مویشی پروروں کو چارے کے لیے بھی مدد دینے کا اعلان کیا ہے۔ دودھ دینے والی گائیں اور بھینسوں کو کم خوراک اور ان کے لاغر ہونے کی وجہ سے ریاست میں دودھ کی حصولی بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ |
اسی بارے میں ’سیلاب متاثرین امداد سےمحروم‘27 August, 2007 | انڈیا بہار: فصلوں کو شدید نقصان25 August, 2007 | انڈیا مون سون سے تباہی، مزید سیلاب18 August, 2007 | انڈیا بہار: جان سے زیادہ پیارے مویشی 11 August, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||