بہار:مزید بارش، مشکلات میں اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بہار میں ایک ہفتے کے وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہونے والی زبردست بارش اور ندیوں میں پانی کی سطح میں اضافے سے صورت حال ایک بار پھر بگڑ گئی ہے۔ سیلاب زدہ علاقوں کی ندیوں مثلاً گنڈک، بوڑھی گنڈک، باگمتی اور دوسری ندیوں کی آبی سطح ایک بار پھر خطرے کے نشان کے نزدیک پہنچ چکی ہے۔ لگاتار ہو رہی بارش سے ان لاکھوں افراد کی مشکلیں بڑھ گئی ہیں جو اب بھی سڑکوں و ریل کی پٹریوں کے کنارے اور پشتوں پر پناہ لیئے ہیں۔ ریاست کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ ادارے کے مطابق سیلاب سے اب تک قریباً ڈیڑھ کروڑ لوگ متاثر ہو چکے ہیں جبکہ تین سو افراد سیلاب اور کشتی کے حادثوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سیلاب سے پونے دو لاکھ گھروں کو کلی یا جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے۔ ریاست کے سیلاب زدہ علاقوں میں ذرائع آمدورفت ابھی معمول پر نہیں آئے تھے کہ گزشتہ چار دنوں کی بارش نے ایک بار پھر شاہراہوں اور ریل ٹریک پر گاڑیوں کی آمدورفت مشکل بنا دی ہے۔ فی الوقت نرکٹیا گنج رکسول ڈویژن پر ریل گاڑیوں کا آمدورفت بند ہے جبکہ سیتا مڑھی کو جانے والی قومی شاہراہ بھی پوری طرح بند ہے۔ سیلاب کی وجہ سے کھگڑیا میں وہ شاہراہ پہلے ہی سے بند ہے جو بہار کو شمال مشرقی ریاستوں سے جوڑتی ہے۔ شدید بارش کی وجہ سے امدادی کام بھی متاثر ہوا ہے۔ دارالحکومت پٹنہ میں ایک بار پھر آبی جماؤ کا مسئلہ پیدا ہو گیا اور ہیلی کاپٹر کے ذریعے خوراک کے پیکٹ گرانے کا کام بھی متاثر ہوا ہے۔ |
اسی بارے میں متاثرین تک پہنچنے میں مشکلات08 August, 2007 | انڈیا ’طبی امداد کی فراہمی بڑا مسئلہ‘10 August, 2007 | انڈیا تودہ گرنے سے ہلاکتوں کا خدشہ15 August, 2007 | انڈیا بہار: ایڈز کے مریضوں کی مشکل13 August, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||