BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 23 June, 2007, 06:38 GMT 11:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ماؤ نواز باغیوں کے اہم رہنما ہلاک
فائل فوٹو
ریاست میں ماؤنواز باغی کافی عرصے سے حکومت سے برسرِ پیکار ہیں
ہندوستان کی ریاست آندھرا پردیش میں پولیس نے ماؤ نواز کمیونسٹ پارٹی کے مسلح دھڑے کے سربراہ کو ایک مقابلے میں ہلاک کردیا ہے۔

ہلاک ہونے والے سندے راجہ مؤلی ماؤ نواز تحریک کے ملٹری ونگ کے سربراہ تھے اور ان کا شمار تحریک کے اہم رہنماؤں میں ہوتا تھا۔

پولیس کے مطابق راجہ ماؤلی ریاست آندھراپردیش اور چھتیس گڑھ میں تشدد کے 120 مقدموں میں پولیس کو مطلوب تھے جن میں اکتوبر 2003 میں اس وقت کے وزیراعلیٰ این چندرا بابو نیدو پر ایک ناکام قاتلانہ حملہ بھی شامل ہے۔

پولیس اور ماؤ نواز باغیوں کے درمیان مدبھیڑ کا یہ واقعہ جمعہ کی رات انترا پور ضلع میں حیدر آباد سے تقریباً 450 کلومیٹر جنوب میں دھرماوارن ریلوے سٹیشن میں پیش آیا۔

ضلع کے پولیس سپرنٹنڈنٹ سٹیفن روندرا نے بتایا کہ سٹیشن پر پولیس مقابلہ اس وقت شروع ہوا جب ایک خاتون سمیت دو افراد نے پولیس کی ایک خصوصی پارٹی پر اچانک گولیاں برسانی شروع کردیں۔ پولیس کی جوابی فائرنگ سے حملہ آور مختلف سمتوں میں بھاگے۔ اسی دوران راجہ مؤلی فائرنگ کرتے ہوئے بھاگنے کی کوشش میں پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہو گئے جبکہ خاتون سمیت دیگر افراد بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔

پولیس نے راجہ مؤلی کے قبضے سے نو ایم ایم کی ایک پستول اور 38 ریوالور برآمد کیے ہیں۔

راجہ مؤلی پرساد اورنوین کے فرضی ناموں سے شہرت رکھتے تھے۔ ان کے سر کی قیمت بارہ لاکھ روپے مقرر تھی۔ وہ تحریک میں کئی اہم عہدوں پر فائز رہے۔

ریاست آندھرا پردیش کے کریم نگر ضلع سے تعلق رکھنے والے راجہ مؤلی نے 28 سال قبل نکسلی تحریک میں بحیثیت سکواڈ ممبر کے شمولیت اختیار کی اور
بعد ازاں وہ ضلعی کمیٹی کے سیکریٹری بنا دیے گئے۔

ان کی بیوی این راجیھتا عرف پدماکا 2003 میں ضلع ناظم آباد میں پولیس کے ساتھ تصادم میں ہلاک ہو گئی تھیں۔

ریاست میں ماؤنواز باغی کافی عرصے سے حکومت سے برسرِ پیکار ہیں۔ دو طرفہ جھڑپوں میں اب تک تقریباً چھ ہزار پانچ سو افراد مارے جا چکے ہیں تاہم گزشتہ ایک سال سے نکسلی تحریک کے اراکین نے پولیس کی جانب سے بڑھتے دباؤ کے باعث اپنی سرگرمیاں محدود کردی ہیں۔

اس سال تشدد کے واقعات میں بھی کمی دیکھنے میں آئی ہے اور اب تک جھڑپوں میں محض پچاس افراد ہلاک ہو ئے ہیں۔

ماؤ باغیباغی سربراہ کا قتل
ماؤ باغیوں کے خلاف آندھرا پولیس کی کامیابی
ماؤنواز اور حکومت
شہریوں کو مسلح کرنے کی پالیسی کا کیا ہوا؟
ماؤ نوازوں کی خاتون کارکنبھارت کو ’لال سلام‘
ماؤ نوازوں کے ساتھ بی بی سی کی صحافی کا سفر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد