انڈیا: پوست کے ماؤ نواز کاشتکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے مشرقی ریاست جھار کھنڈ میں حکام کا کہنا ہے کہ ریاست میں سرگرم ماؤ نواز باغی پوست کی کاشت کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنی کارروائیوں کے لیے خطیر رقم جمع کرسکیں۔ پوست کے پودے افیون کی تیاری میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ حکام کے مطابق ریاست کے 22 اضلاع میں سے اٹھارہ میں ماؤ نواز باغی سرگرم ہیں۔ ماؤ باغیوں کا کہنا ہے کہ ملک کی پانچ ریاستوں میں وہ قبائیلوں کے حقوق کے لیے مسلح جدوحہد کر رہے ہیں۔ ماؤ نواز باغیوں نے پوست کی کاشت ہزاری باغ کے چترا اور کٹسکامسنڈی علاقوں میں شروع کی تھی جو اب بڑھ کر تین سو سے زائد دیہاتوں میں بیس ہزار ایکڑ تک پھیل چکی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اکتوبر میں پوست کی فصل لاکھوں روپے میں فروخت کی جاتی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ماؤ نواز باغی نہ صرف پوست کی کاشت کر رہے ہیں بلکہ کسانوں اور پوست کے تاجروں سے ٹیکس بھی لے رہے ہیں۔ ہزاری باغ کے پولیس چیف پروین سنگھ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’ماؤنواز باغی یہاں پوست کی کاشت کر رہے ہیں اور اس سال انہوں نے تجرباتی طور پر کئی اضلاع میں پوست کی کاشت شروع کی تھی‘۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہر سال ان کی موجودگی مضبوط ہوتی جا رہی ہے‘۔
ماؤ نواز باغیوں کی سرگرمیوں کے گڑھ ضلع چترا میں حکام کا کہنا ہے کہ باغیوں کے ذریعے پوست کی کاشت اور تجارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ریاست کے انٹلیجنس افسر غریبن پاسوان کا کہنا ہے کہ ’ ماؤ نواز باغیوں کی سرگرمیوں سے متاثرہ علاقوں کے کسان تیزی سے پوست کی کاشت کر رہے ہیں اور باغیوں کے لیے یہ ایک بہتر تجارت ثابت ہوئی ہے‘۔ ایک ماؤ باغی نرپندیو مہتو کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ گزشتہ دو برسوں سے پوست کی کاشت کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ’ہم لوگ پوست کی کھیتی اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ ہمیں اپنی تنظیمں چلانے کے لیے پیسے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ ایک فائدے مند کاروبار ہے۔ ہم کسانوں کو پوست کی کاشت کرنے کے لیے زور زبردستی نہیں کرتے حالانکہ ہم ان کو کھیتی کرنے کا مشورہ دیتے ہیں اور انہیں پولیس اور لالچی تاجروں سے بچاتے ہیں‘۔ مسٹرمہتو کا مزید کہنا ہے کہ اس علاقے میں پولیس کو آنے کی ہمت نہيں ہو تی اس لیے پوست کی کاشت کے لیے یہ نہایت محفوظ علاقہ ہے۔ ایک ماؤ نواز باغی دیپندر ڈانگی کا کہناہے کہ بازار میں ایک کلو گرم پوست سے بیس سے پچیس ہزار روپے کی آمدنی ہو جاتی ہے۔ جب کہ ایک کلو پوست پیدا کرنے میں تین سو سے چار سو روپے کا خرچ آتا ہے۔ پوست کی کاشت سے خطیر رقم ملنےکے سبب ان علاقوں کے کسانوں میں خوشحالی ہے پوست کے بیشتر کسانوں کے پاس اینٹ کے پکے مکان ہیں اور کئی موٹر سائیکل اور کاریں خرید رہے ہیں۔
اس برس جنوری کے مہینے میں پولیس نے پوست کے کاشتکاروں کو گرفتار کرنے کے لیے کئی گاؤں میں چھاپے مارے تھے لیکن گاؤں کے باشندوں کی سخت مخالفت کی وجہ سے پولیس کو اپنی کارروائی میں زیادہ کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے ریاستی حکومت کو اپنی رپورٹ دے دی ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ ماؤنواز باغی نہ صرف پوست کی کاشت کر رہے ہیں بلکہ پوست کی کاشت کے لیے کسانوں سے زبردستی بھی کر رہے ہیں۔ ماؤنواز باغی ہندوستان کے ایک سو بیاسی اضلاع میں سرگرم ہیں جو جھار کھنڈ، بہار، آندھرا پردیش، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر اور مغربی بنگال میں ہیں۔ |
اسی بارے میں بہار: نکسلی تشدد میں اضافے کا خدشہ02 April, 2007 | انڈیا ماؤ نوازوں کی اپیل، چار ریاستیں بند20 March, 2007 | انڈیا چھتیس گڑھ: 50 پولیس اہلکار ہلاک15 March, 2007 | انڈیا جھار کھنڈ: لوک سبھا کے رکن ہلاک04 March, 2007 | انڈیا آسام میں چھ پولیس اہلکار ہلاک07 January, 2007 | انڈیا جھارکھنڈ: تیرہ پولیس اہلکار ہلاک02 December, 2006 | انڈیا ماؤ نواز باغیوں کا اسلحہ پکڑا گیا08 September, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||