BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انڈیا: پوست کے ماؤ نواز کاشتکار

پوست کا پودا
حکام کے مطابق ماؤ نوازوں نے پوست کی کاشت ہزاری باغ کے چترا اور کٹسکامسنڈی علاقوں میں شروع کی تھی
ہندوستان کے مشرقی ریاست جھار کھنڈ میں حکام کا کہنا ہے کہ ریاست میں سرگرم ماؤ نواز باغی پوست کی کاشت کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنی کارروائیوں کے لیے خطیر رقم جمع کرسکیں۔

پوست کے پودے افیون کی تیاری میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ حکام کے مطابق ریاست کے 22 اضلاع میں سے اٹھارہ میں ماؤ نواز باغی سرگرم ہیں۔ ماؤ باغیوں کا کہنا ہے کہ ملک کی پانچ ریاستوں میں وہ قبائیلوں کے حقوق کے لیے مسلح جدوحہد کر رہے ہیں۔

ماؤ نواز باغیوں نے پوست کی کاشت ہزاری باغ کے چترا اور کٹسکامسنڈی علاقوں میں شروع کی تھی جو اب بڑھ کر تین سو سے زائد دیہاتوں میں بیس ہزار ایکڑ تک پھیل چکی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اکتوبر میں پوست کی فصل لاکھوں روپے میں فروخت کی جاتی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ماؤ نواز باغی نہ صرف پوست کی کاشت کر رہے ہیں بلکہ کسانوں اور پوست کے تاجروں سے ٹیکس بھی لے رہے ہیں۔

ہزاری باغ کے پولیس چیف پروین سنگھ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’ماؤنواز باغی یہاں پوست کی کاشت کر رہے ہیں اور اس سال انہوں نے تجرباتی طور پر کئی اضلاع میں پوست کی کاشت شروع کی تھی‘۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہر سال ان کی موجودگی مضبوط ہوتی جا رہی ہے‘۔

 ماؤ نواز باغیوں کا ایک پہریدار
پوست کی کاشت اب تین سو سے زائد دیہاتوں میں بیس ہزار ایکڑ تک پھیل چکی ہے

ماؤ نواز باغیوں کی سرگرمیوں کے گڑھ ضلع چترا میں حکام کا کہنا ہے کہ باغیوں کے ذریعے پوست کی کاشت اور تجارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

ریاست کے انٹلیجنس افسر غریبن پاسوان کا کہنا ہے کہ ’ ماؤ نواز باغیوں کی سرگرمیوں سے متاثرہ علاقوں کے کسان تیزی سے پوست کی کاشت کر رہے ہیں اور باغیوں کے لیے یہ ایک بہتر تجارت ثابت ہوئی ہے‘۔

ایک ما‎ؤ باغی نرپندیو مہتو کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ گزشتہ دو برسوں سے پوست کی کاشت کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ’ہم لوگ پوست کی کھیتی اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ ہمیں اپنی تنظیمں چلانے کے لیے پیسے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ ایک فائدے مند کاروبار ہے۔ ہم کسانوں کو پوست کی کاشت کرنے کے لیے زور زبردستی نہیں کرتے حالانکہ ہم ان کو کھیتی کرنے کا مشورہ دیتے ہیں اور انہیں پولیس اور لالچی تاجروں سے بچاتے ہیں‘۔

مسٹرمہتو کا مزید کہنا ہے کہ اس علاقے میں پولیس کو آنے کی ہمت نہيں ہو تی اس لیے پوست کی کاشت کے لیے یہ نہایت محفوظ علاقہ ہے۔

ایک ماؤ نواز باغی دیپندر ڈانگی کا کہناہے کہ بازار میں ایک کلو گرم پوست سے بیس سے پچیس ہزار روپے کی آمدنی ہو جاتی ہے۔ جب کہ ایک کلو پوست پیدا کرنے میں تین سو سے چار سو روپے کا خرچ آتا ہے۔

پوست کی کاشت سے خطیر رقم ملنےکے سبب ان علاقوں کے کسانوں میں خوشحالی ہے پوست کے بیشتر کسانوں کے پاس اینٹ کے پکے مکان ہیں اور کئی موٹر سائیکل اور کاریں خرید رہے ہیں۔

ماؤ نواز باغی
انڈیا میں ماؤ نواز یا نکسل باڑی تحریک 1967 میں شروع ہوئی

اس برس جنوری کے مہینے میں پولیس نے پوست کے کاشتکاروں کو گرفتار کرنے کے لیے کئی گاؤں میں چھاپے مارے تھے لیکن گاؤں کے باشندوں کی سخت مخالفت کی وجہ سے پولیس کو اپنی کارروائی میں زیادہ کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے ریاستی حکومت کو اپنی رپورٹ دے دی ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ ماؤنواز باغی نہ صرف پوست کی کاشت کر رہے ہیں بلکہ پوست کی کاشت کے لیے کسانوں سے زبردستی بھی کر رہے ہیں۔

ماؤنواز باغی ہندوستان کے ایک سو بیاسی اضلاع میں سرگرم ہیں جو جھار کھنڈ، بہار، آندھرا پردیش، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر اور مغربی بنگال میں ہیں۔

مزدوروں کا قتل
بہار کے لوگ ریاست چھوڑنے پر کیوں مجبور؟
ماؤ باغیباغی سربراہ کا قتل
ماؤ باغیوں کے خلاف آندھرا پولیس کی کامیابی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد