ایم ایس احمد پٹنہ |  |
 | | | عام طور پر ہیجڑے بچوں کی پیدائش پر لوگوں کے گھر جاتے ہیں اور مبارکباد دے کر مانگتے ہیں |
کسی کے گھر بچہ پیدا ہونے پر ہیجڑوں کا مبارک باد دینا اور روزگار کمانا تو عام ہے۔ لیکن بہار میں حکومت ہیجڑوں کے اسی ’طور‘ کو بچوں کو ماں کا دودھ پلانے اور ٹیکے لگوانے کی ترغیب کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے۔ ریاستی حکومت کے محکمہ سماجی بہبود کے سیکریٹری وجے پرکاش کے مطابق اس سلسلے میں آئندہ ماہ ہیجڑوں کی تربیت کے لیے ایک ورکشاپ ہو گی۔ مسٹر پرکاش کے مطابق حکومت نے ہیجڑوں کے لیے ایک فلاحی پروگرام بنایا ہے۔ اس پروگرام کا ایک اہم حصہ ہے یہ ہے کہ انہیں زچہ و بچہ کی صحت کے بارے میں پیغام کی پہنچانے کے لیے استعمال کیا جائےگا جو ان کے لیے آمدنی کا ذریعہ بھی ہوگا۔ بقول مسٹر پرکاش ’جس گھر میں بچہ پیدا ہوگا ہیجڑوں کی ایک ٹیم وہاں جا کر گانے گائے گی لیکن ان گانوں کے بول ذرا مختلف ہوں گے اور ان کے ذریعے بتایا جائے گا کہ ’بچے کو ماں کا دودھ دیں اور زچہ کے لیے صحیح غذا کیا ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ اسی طرح ہیجڑے نوزائیدہ بچوں کو ٹیکے لگوانے کے بارے میں بھی معلومات دیں گے۔
 | | | گھر گھر جا کر مانگنے کے علاوہ ہیجڑے ٹرینوں اور بازاروں میں جا کر بھی مانگتے ہیں |
مسٹر پرکاش کا کہنا ہے کہ ہیجڑوں کو عام طور پر سماج سے الگ تھلگ رہنا پڑتا ہے۔ آئندہ ماہ منعقد ہونے والے ورکشاپ میں ہیجڑوں کے لیے دیگر ذرائع آمدنی اور اس کے لیے ٹریننگ کے پروگرام متعین کیے جائیں گے۔انہوں نے بتایا کہ عام طور پر ہیجڑوں کی تعلیم و تربیت کا کوئی نظام نہیں ہوتا، اس لیے اس بڑے انسانی وسیلے کا کوئی استعمال نہیں ہو پاتا۔ بقول مسٹر پرکاش حکومت کی کوشش ہے کہ ہیجڑوں کے تعلیم و تربیت کا معقول انتظام کیا جائے۔ |