BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 22 December, 2007, 07:56 GMT 12:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اترپردیش:دومشتبہ شدت پسندگرفتار
فائل فوٹو
اترپردیش میں نومبر کے ماہ میں سلسلہ وارانہ بم دھماکے ہوئے تھے۔
اترپردیش میں پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے بارہ بنکی ضلع میں دو مشتبہ شدت پسندوں کو گرفتار کیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے ان مشتبہ شدت پسندوں کے پاس سے بڑی مقدار میں دھماکہ خیز مادہ برآمد ہوا ہے۔

پولیس کا خیال ہے کہ ان مشتبہ شدت پسندوں کا تعلق گزشتہ مہینے نومبر میں اترپردیش کی تین عدالتوں میں ہوئے سلسلہ وار بم دھماکوں سے ہوسکتا ہے۔

پولیس کے ایک اعلیٰ اہلکار برج لال نے بی بی سی کو بتایا کہ گرفتار مشتبہ شدت پسندوں کا تعلق حال ہی میں ہونے والے سلسلہ وار دھماکوں سے ہوسکتا ہے۔ اس معاملے میں تفتیش جاری ہے۔

مسٹر لال کا کہنا ہے کہ ان دو افراد کو بارہ بنکی ضلع کے بسوں کے اڈے سے گرفتار کیا گیا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ گرفتار کیے گئے دونوں افراد کا تعلق شدت پسند تنظيم حرکت الجہاد الاسلام یعنی حوجی سے ہے۔

23 نومبر کو اترپردیش کے شہروں بنارس، فیض آباد اور لکھنؤ کی عدالتوں کے باہر سلسلہ وار دھماکے ہوئے تھے جس میں کم از کم 13 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ان دھماکوں میں سب سے زیادہ ہلاکتیں بنارس میں ہوئی تھیں۔ وہاں نو لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

حملوں میں پہلی بار شدت پسندوں کی جانب سے عدالتوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ بم دھماکوں میں 60 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے تھے۔

فائل فوٹوبابری مسجد مقدمہ
پندرہ برس بعد مقدمے کی پہلی گواہی
دھماکے سے متاثرہ لوگ’ہر طرف افراتفری‘
بنارس میں دھماکے کے عینی شاہدین کا بیان
اسی بارے میں
بابری مسجد: سکیورٹی سخت
06 December, 2007 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد