اترپردیش:دومشتبہ شدت پسندگرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اترپردیش میں پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے بارہ بنکی ضلع میں دو مشتبہ شدت پسندوں کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے ان مشتبہ شدت پسندوں کے پاس سے بڑی مقدار میں دھماکہ خیز مادہ برآمد ہوا ہے۔ پولیس کا خیال ہے کہ ان مشتبہ شدت پسندوں کا تعلق گزشتہ مہینے نومبر میں اترپردیش کی تین عدالتوں میں ہوئے سلسلہ وار بم دھماکوں سے ہوسکتا ہے۔ پولیس کے ایک اعلیٰ اہلکار برج لال نے بی بی سی کو بتایا کہ گرفتار مشتبہ شدت پسندوں کا تعلق حال ہی میں ہونے والے سلسلہ وار دھماکوں سے ہوسکتا ہے۔ اس معاملے میں تفتیش جاری ہے۔ مسٹر لال کا کہنا ہے کہ ان دو افراد کو بارہ بنکی ضلع کے بسوں کے اڈے سے گرفتار کیا گیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ گرفتار کیے گئے دونوں افراد کا تعلق شدت پسند تنظيم حرکت الجہاد الاسلام یعنی حوجی سے ہے۔ 23 نومبر کو اترپردیش کے شہروں بنارس، فیض آباد اور لکھنؤ کی عدالتوں کے باہر سلسلہ وار دھماکے ہوئے تھے جس میں کم از کم 13 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ان دھماکوں میں سب سے زیادہ ہلاکتیں بنارس میں ہوئی تھیں۔ وہاں نو لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ حملوں میں پہلی بار شدت پسندوں کی جانب سے عدالتوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ بم دھماکوں میں 60 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے تھے۔ |
اسی بارے میں دھماکے:13ہلاک، ملزم کاخاکہ تیار23 November, 2007 | انڈیا بم دھماکے: یو پی میں جزوی ہڑتال24 November, 2007 | انڈیا بابری مسجد: سکیورٹی سخت06 December, 2007 | انڈیا بابری مسجد معاملے میں پہلی گواہی06 December, 2007 | انڈیا جیل کے اندر سے ویڈیو کانفرنسنگ 05 December, 2007 | انڈیا لکھنؤ میں مبینہ شدت پسندگرفتار16 November, 2007 | انڈیا اترپردیش: ہزاروں پولیس اہلکار فارغ18 September, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||