BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 06 December, 2007, 08:27 GMT 13:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بابری مسجد: سکیورٹی سخت
فائل فوٹو
خفیہ اداروں کو خدشہ ہے کہ شدت پسند ایودھیا کو نشانہ بنا سکتے ہیں
ہندوستان کی ریاست اترپردیش میں بابری مسجد کے انہدام کی پندرہویں برسی کے موقع پر سکیورٹی کے انتظامات سخت کردیے گئے ہیں۔

دلی میں بھی بعض شدت پسندوں کی موجودگی کے خدشے کے سبب چوکسی بڑھا دی گئی ہے۔

خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق پولیس کو اطلاعات موصول ہوئي ہیں کہ حرکت الجہاد یعنی ہوجی کے چھ کارکن مغربی اترپردیش سے دلی کے سیلم پور علاقے میں گھس آئے ہیں۔ پولیس نے دلی اور اس کے قریب سبھی حساس علاقوں میں سکیورٹی میں اضافہ کردیا گیا ہے۔

لکھنؤ میں بی بی سی کے نامہ نگار رام دت ترپاٹھی نے بتایا ہے کہ ایودھیا میں زبردست پولیس اور فوج تعینات ہے۔

اترپردیش کی انتظامیہ نے پوری ریاست میں چوکسی برتنے کا حکم جاری کیا ہے۔ یہ قدم حال میں فیض آباد، بنارس، اور لکھنؤ میں ہونے والے دھماکوں کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔

خفیہ اداروں اور پولیس کو خدشہ ہے کہ شدت پسند ایودھیا میں متنازعہ مقام کو اپنا نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اس مقام کو ہائی سکیورٹی زون میں رکھا گیا ہے اور وہاں نیم فوجی دستے تعینات ہیں۔

ڈسٹرکٹ میجسٹریٹ انل گرگ کا کہنا ہے کہ ’ یہ مقام حساس مانا جاتا ہے۔ لیکن حال ہی میں ہونے والے سلسلہ وار دھماکوں کے سبب اس بار ہم لوگ زيادہ احتیاط برت رہے ہیں۔‘

بابری مسجدبابری مسجد
14 سال گزرنے کے باوجود عدالتیں خاموش ہیں
نرسمہا راؤ کی کتاب
’کانگریس کوعلم تھا کہ بابری مسجد گرے گی‘
بابری مسجدعمر قید کی سزا
گیارہ مسلمانوں کو زندہ جلانے کا الزام تھا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد