بابری مسجد: سکیورٹی سخت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ریاست اترپردیش میں بابری مسجد کے انہدام کی پندرہویں برسی کے موقع پر سکیورٹی کے انتظامات سخت کردیے گئے ہیں۔ دلی میں بھی بعض شدت پسندوں کی موجودگی کے خدشے کے سبب چوکسی بڑھا دی گئی ہے۔ خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق پولیس کو اطلاعات موصول ہوئي ہیں کہ حرکت الجہاد یعنی ہوجی کے چھ کارکن مغربی اترپردیش سے دلی کے سیلم پور علاقے میں گھس آئے ہیں۔ پولیس نے دلی اور اس کے قریب سبھی حساس علاقوں میں سکیورٹی میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ لکھنؤ میں بی بی سی کے نامہ نگار رام دت ترپاٹھی نے بتایا ہے کہ ایودھیا میں زبردست پولیس اور فوج تعینات ہے۔ اترپردیش کی انتظامیہ نے پوری ریاست میں چوکسی برتنے کا حکم جاری کیا ہے۔ یہ قدم حال میں فیض آباد، بنارس، اور لکھنؤ میں ہونے والے دھماکوں کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔ خفیہ اداروں اور پولیس کو خدشہ ہے کہ شدت پسند ایودھیا میں متنازعہ مقام کو اپنا نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اس مقام کو ہائی سکیورٹی زون میں رکھا گیا ہے اور وہاں نیم فوجی دستے تعینات ہیں۔ ڈسٹرکٹ میجسٹریٹ انل گرگ کا کہنا ہے کہ ’ یہ مقام حساس مانا جاتا ہے۔ لیکن حال ہی میں ہونے والے سلسلہ وار دھماکوں کے سبب اس بار ہم لوگ زيادہ احتیاط برت رہے ہیں۔‘ |
اسی بارے میں بابری کمیشن کی مدت میں توسیع01 November, 2007 | انڈیا بابری فسادات: پندرہ کو عمر قید24 October, 2007 | انڈیا بابری انہدام پر رپورٹ جمعہ تک 30 August, 2007 | انڈیا بابری مسجد:’مقدمہ رائے بریلی میں ہی‘22 March, 2007 | انڈیا ’راہل بیان مذہبی جذبات کی توہین‘20 March, 2007 | انڈیا بابری مسجد: عدالت خاموش ہے06 December, 2006 | انڈیا بابری مسجد، انہدام کے تیرہ سال06 December, 2005 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||