بابری کمیشن کی مدت میں توسیع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بابری مسجد کے انہدام کی تحقیقات کرنے والے لبراہن کمیشن کی مدت میں ایک بار پھر دو مہینے کی توسیع کی گئی ہے۔ کمیشن کی مقررہ مدت میں یہ بیالیسویں توسیع ہے۔ لبراہن کمیشن کو اپنی حتمی رپورٹ 31 اکتوبر تک دینی تھی لیکن کمیشن اس مدت میں اپنا کام پورا نہ کر سکا اور وزارت داخلہ کو اس کی مدت میں 31 دسمبر تک کے لیے توسیع کرنی پڑی۔ وزارت کا کہنا ہے کہ وہ کام ختم کرنے کے لیے کمیشن پر کسی طرح کا دباؤ نہیں ڈالنا چاہتی۔ اس سے قبل حکومت نے ایک بار پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ تحقیقاتی کمیشن کی مدت میں مزید توسیع نہیں کی جائے گی لیکن اس بیان کے بعد 31 اگست کو اسے دو مہینے کی توسیع کرنی پڑی تھی۔ یہ کمیشن بابری مسجد کے انہدام کے فوراً بعد 1992 میں قائم کیا گیا تھا اور گزشتہ پندرہ برس سے انہدام کی تحقیقات کر رہا ہے۔ اس کمیشن کی تحقیقات پر اب تک سات کروڑ بیس لاکھ روپےخرچ ہوچکے ہیں۔ کمیشن کی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کی جانی ہے لیکن حکومت اس کی رپورٹ پر عملدرآمد کی پابند نہیں ہوگی۔ بابری مسجد کے انہدام کی سی بی آئی نے بھی تفتیش کی تھی اور اس نے ایل کے ایڈوانی اور مرلی منوہر جوشی سمیت بی جے پی اور وشو ہندو پریشد کے کئی اعلی رہنماؤں کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔ پندرہ برس بعد یہ مقدمہ ابھی سماعت کے ابتدائی مراحل میں ہے۔ ادھر ایودھیا میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد اس کے مقام پرایک عارضی رام مندر بنا دیا گیا تھا جبکہ اس کے اطراف کی زمین حکومت نے حاصل کر لی تھی۔اب وہ پورا احاطہ رام مندر کمپلیکس کہلاتا ہے ۔اس متنازعہ مندر میں روزانہ پوجا پاٹ ہوتی ہے۔ بابری مسجد کی ملکیت کا اصل مقدمہ الہ آباد ہائی کورٹ میں ہے جس کی سماعت تقریباً مکمل ہو چکی ہے اور اس کا فیصلہ جلد ہی متوقع ہے۔ | اسی بارے میں بابری فسادات: پندرہ کو عمر قید24 October, 2007 | انڈیا فسادات، 15 ملزم قصور وار23 October, 2007 | انڈیا بابری کمیشن، پھر توسیع02 September, 2007 | انڈیا بابری انہدام پر رپورٹ جمعہ تک 30 August, 2007 | انڈیا 1992فسادات کی تفتیش کےلیےسیل11 August, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||