فسادات، 15 ملزم قصور وار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ریاست اتر پردیش کے شہر کانپور کی ایک عدالت نے 1992 میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کے ایک مقدمے میں پندرہ ملزموں کو قصوروار قرار دیا ہے۔ ان لوگوں پر گیارہ لوگوں کو ہلاک کرنے کا الزام تھا۔ 1992 میں ریاست کے شہر ایودھیا میں واقع متنازعہ بابری مسجد کے انہدام کے بعد ملک کے بیشتر علاقوں میں فرقہ وارانہ فسادات کی لہر دوڑ گئی تھی جس میں کانپور شہر بھی شامل تھا۔ ان فسادات میں تقریباً دو ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں بیشتر مسلمان تھے۔ کانپور کے اس مقدمے میں 10 دسمبر 1992 کو شہر کے گوندپور علاقے میں ہندوؤں کے ایک پر تشدد ہجوم نے گیارہ مسلمانوں کو جلا دیا تھا جن میں دو عورتیں اور ایک بچہ بھی شامل تھا۔
مقدمے میں چوبیس گواہ تھے جن میں دس عام شہری تھے۔ حالانکہ سبھی عام شہری بعد میں منحرف ہوگئے تھے۔ تاہم پولیس کے اہلکاروں نے فسادات ، قتل اور آتش زنی سے متعلق گواہی دی۔ کل پچیس ملزمان پر مقدمہ چلایا گیا تھا جن ميں سے ایک ملزم کی پندرہ برسوں کی عدالتی کارروائی میں موت ہو گئی۔ پیر کو عدالت نے پندرہ ملزمان کو قصور وار ٹھہراتے ہوئے نو کو بری کر دیا۔ مجرموں کی سزاؤں کا اعلان چوبیس اکتوبر کو کیا جائے گا۔ اس درمیان وکیلِ صفائی یوگیش بھسین نے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کرنے کی بات کہی ہے۔ مسٹر بھسین کا کہنا ہے کہ ملزمان کے خلاف باضابطہ طور پر کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دو برس قبل ان فسادات سے متعلق ایک دیگر مقدمے میں تمام ملزمان کو بری کر دیا گيا تھا۔ | اسی بارے میں 1992فسادات کی تفتیش کےلیےسیل11 August, 2007 | انڈیا ہری مسجد کیس سی بی آئی کےحوالے19 September, 2007 | انڈیا بابری کمیشن، پھر توسیع02 September, 2007 | انڈیا ہاشم پورہ فسادات: متاثرین انصاف کے منتظر24 May, 2007 | انڈیا بابری مسجد:’مقدمہ رائے بریلی میں ہی‘22 March, 2007 | انڈیا ’راہل بیان مذہبی جذبات کی توہین‘20 March, 2007 | انڈیا ہندوستانی مسلمان، پسماندگی کا بھنور25 November, 2006 | انڈیا بابری مسجد: عدالت خاموش ہے06 December, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||