ہری مسجد کیس سی بی آئی کےحوالے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مہاراشٹر کےڈائریکٹر جنرل آف پولیس ڈاکٹر پی ایس پسریچا کے مطابق ریاستی حکومت ہری مسجد کیس سی بی آئی کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہے۔ ڈاکٹر پسریچا نے بی بی سی کو بتایا کہ ہری مسجد کیس کے سلسلہ میں ریاستی وزیر داخلہ آر آر پاٹل اور پولیس کے اعلی عہدیداروں کی ایک میٹنگ ہوئی تھی جس میں طے کیا گیا کہ کسی فرقہ کے ساتھ ناانصافی نہ ہو اس لیے اس کیس کی تفتیش سی بی آئی کے ذریعہ کرائے جانے کے لیے حکومت تیار ہے۔ ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ پولیس حکومت کی جانب سے ہائی کورٹ میں حلف نامہ داخل کر کے اپنی منشا عدالت کے سامنے رکھے گی۔ اس کے بعد سب کچھ عدالت کے فیصلہ پر منحصرہوگا۔ہری مسجد کا کیس اس وقت ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ واضح رہے کہ سن انیس سو ترانوے کے فرقہ وارانہ فسادات میں پولیس نے ہری مسجد میں گھس کر فائرنگ کی تھی جس میں زخمی ہونے والے ایک نمازی فاروق ماپکر نے پولیس کارروائی کے خلاف عدالت میں اپیل کرتے ہوئے کیس کو سی بی آئی کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔اس کیس کی سماعت اب ستائیس ستمبر کو ہو گی۔ پولیس نے اس کیس پر عدالت میں اپنا حلف نامہ داخل کرنے کے بجائے فاروق ماپکر کو ملزم قرار دیا اور اس کے خلاف فرد جرم داخل کر دیا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ اس کیس کی تفتیش سپیشل ٹاسک فورس نے کی ہے اور اس کے مطابق پولیس فائرنگ درست تھی اور ماپکر نے پولیس پر جو الزام عائد کیا ہے وہ غلط ہے۔
پولیس کے مطابق مسجد سے پولیس پر فائرنگ ہو رہی تھی اس لیے اس نےمسجد میں گھس کر فائرنگ کی۔ پولیس نے ماپکر پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماپکر کو مسجد میں گولی نہیں لگی بلکہ مسجد سے کچھ دور ماپکر اور ان کے ساتھی ایک شخص کو زندہ جلانے کی کوشش کر رہے تھے جس کی وجہ سے پولیس نے ان پر گولی چلائی تھی۔ کمیشن نے اپنی تفتیش میں پولیس کے اس بیان کو پہلے بھی غلط قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ پولیس خود کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ فرقہ وارانہ فسادات کی تفتیش کرنے والے سری کرشنا کمیشن نے فسادات کے دوران فائرنگ کر کے مسلمانوں کو ہلاک کرنے اور فسادات کے دوران شرپسندوں کا ساتھ دینے والے اکتیس پولیس افسران کو قصوروار قرار دیا تھا اور حکومت کو ان کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت دی تھی۔ حکومت نے کسی بھی پولیس افسر کے خلاف سخت کارروائی نہیں کی تھی۔ صرف چند نچلے درجے کے پولیس اہلکاروں کی ایک ماہ کی تنخواہ روک دی گئی تھی۔ الزام کے مطابق سلیمان عثمان بیکری میں اس وقت کے جوائنٹ پولیس کمشنر رام دیو تیاگی اور ان کے سٹاف نےمسجد میں گھس کر فائرنگ کی تھی جس میں نو افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں مدرسہ کے مہتم بھی شامل تھے۔ کمیشن نے تیاگی اور ان کے سٹاف کی فائرنگ کو بھی غیرمنصفانہ اور غیر قانونی بتایا تھا لیکن حکومت نے تیاگی کو ترقی دے کر ممبئی کا پولیس کمشنر بنا دیا۔ مسلمان اور سیکولر تنظیموں نے وقفہ وقفہ سے حکومت کے رویہ پر انگلی اٹھائی لیکن ممبئی بم دھماکوں کے سو ملزمان کو جب عدالت نے سزا سنائی (جس میں بارہ کو پھانسی کی سزا اور بیس کو عمر قید کی سزا ) تو ممبئی میں علماء، ائمہ مساجد، مسلمانوں کی مختلف تنظیموں اور سیکولر جماعتوں نے فسادات کے ملزمان کو بھی سزا دیے جانے کا مطالبہ شروع کر دیا۔
مہاراشٹر کی برسر اقتدار کانگریس حکومت پر دباؤ بڑھا اور کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ولاس راؤ دیشمکھ کو دہلی طلب کر کے انہیں فسادات کے کیس دوبارہ کھولنے کے لیے کہا۔ مرکز سے اس سلسلہ میں مسلمانوں سے ان کے خیالات جاننے کے لیے قومی اقلیتی کمیشن کا وفد بھی ممبئی کے دورے پر آیا۔حکومت نے لوگوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ بند ہوئے کیس کی دوبارہ تفتیش کرنے کے لیے تیار ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ سب ایک دکھاوا ہے۔اس وقت چونکہ الیکشن قریب ہے اس لیے یہ کانگریس پارٹی کا سیاسی ہتھکنڈہ ہے تاکہ ایک بار پھرمسلمانوں کے ووٹ حاصل کیے جا سکیں۔ ایڈوکیٹ شکیل کے مطابق ’حکومت انصاف دلانے میں کتنی دلچسپی لے رہی ہے اس کا اندازہ صرف ہری مسجد کیس سے لگایا جا سکتا ہے جس میں حکومت نے عدالت کے سامنے صاف لفظوں میں اپنے حلف نامہ میں کہا کہ وہ کسی پولیس افسر کے خلاف کارروائی نہیں کرے گی کیونکہ وہ فائرنگ درست تھی۔اگر حکومت اس کیس میں ایسا کہہ رہی تو پھر وہ خطاوار سیاسی رہنماؤں اور پولیس افسران کے خلاف کارروائی کیسے کرے گی؟‘ بابری مسجد انہدام کے بعد ممبئی میں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے تھے۔ان میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک اور کئی سو لاپتہ ہوئے تھے۔ ان میں سب سے زیادہ مسلمان ہلاک اور متاثر ہوئے تھے لیکن کسی بھی فسادی کو آج تک سزا نہیں ہوئی۔ کمیشن نے اکتیس پولیس افسران کے ساتھ ساتھ علاقائی سیاسی جماعت شیوسینا کے سربراہ بال ٹھاکرے، منوہر جوشی اور مدھوکر سرپوتدار سمیت کئی رہنماؤں کو بھی فساد بھڑکانے کا ملزم قرار دیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||