فسادات کے ملزمان کو سزا کا مطالبہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غیر سرکاری تنظیموں، سیکولر اداروں اور عمائدین شہر کا مطالبہ کیا ہے کہ حکومت ممبئی کے انیس سو بانوے کے فرقہ وارانہ فسادت کے ملزموں کے خلاف کارروائی کرے۔ ’جب سکھ فسادات کے ذمہ دار سیاسی رہنماؤں کے خلاف مقدمات کی اجازت دی جا سکتی ہے اور انیس سو ترانوے بم دھماکوں کے ملزموں کو چودہ برس مقدمہ چلانے کے بعد سزا ہو سکتی ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ مہاراشٹر حکومت انیس سو بانوے ترانوے کے فرقہ وارانہ فسادات کے ملزموں کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتی۔‘ یہ ہے وہ مطالبہ جو ممبئی کی مختلف تنظیموں نے نمائندوں نے دہلی سے آئے قومی اقلیتی کمیشن کے وفد کے سامنے رکھا۔ قومی اقلیتی کمیشن کے نو منتخب چیئرمین محمد رفیع قریشی کی سربراہی میں ایک وفد نے بدھ کے روز شہر کی کئی سماجی تنظیمیوں کو مسلمانوں کے تعلیمی مسائل، سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کی نمائندگی اور وقف بورڈ اور سری کرشنا کمیشن پر ان کے خیالات جاننے کے لیے مدعو کیا تھا۔سرکاری سیہادری گیسٹ ہاؤس میں منعقد ہونے والے اس جلسہ عام میں مسلمانوں نے حکومت اور قومی اقلیتی کمیشن کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ہر تنظیم نے مسلمانوں کے مسائل اور سری کرشنا کمیشن سفارشات کے نافذ نہ کیے جانے کے لیے حکومت کو ذمہ دار قرار دیا۔ وہ ’حکومت مردہ باد اور شرم کرو‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔
ایک غیر سرکای تنظیم رحمت فاؤنڈیشن کے صدر ڈاکٹر انور امیر انصاری نے کمیشن سے سوال کیا کہ جب انیس چوراسی سکھ مخالف فسادات کے ذمہ دار سیاست دانوں ایچ کے ایل بھگت، سجن کمار اور جگدیش ٹائٹلر کے خلاف مقدمہ چلایا جا سکتا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ مہاراشٹر حکومت فرقہ وارانہ فسادات کے ذمہ دار، شیوسینا پارٹی کے سربراہ بال ٹھاکرے اور ان کی پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتی۔ ڈاکٹر انصاری نے کہا کہ اس سے حکومت کی نیت پر شبہ ہوتا ہے۔ ’کہیں ایسا تو نہیں کہ حکومت کوئی کارروائی کرنا ہی نہیں چاہتی؟‘ نربھے بنو آندولن کے صدر ایڈوکیٹ شکیل انصاری نے مطالبہ کیا کہ ان تمام پولیس افسران کو معطل کیا جائے جنہیں جسٹس سری کرشنا نے قصوروار قرار دیا تھا اور پھر ان کے خلاف سی بی آئی تحقیقات کرے۔ شکیل انصاری نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ ممبئی فساد میں ہلاک ہونے والوں کے ورثاء کو سکھ فسادات میں ہلاک شدگان کی طرز پر پانچ لاکھ روپے بطور معاوضہ دیا جائے اور ہرگھر کے ایک فرد کو سرکاری ملازمت دی جائے۔ عظمٰی ناہید نے مہاراشٹر حکومت کی نیت پر شبہ کا اظہار کرتے ہوئے افسوس کیا کہ اس حکومتی جماعت نے اپنے انتخابی منشور میں سری کرشنا کمیشن سفارشات کے نفاذ کا وعدہ کیا لیکن حکومت میں آنے کے بعد اس نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا۔’گزشتہ آٹھ برسوں سے یہ اقتدار میں بیٹھے ہیں لیکن انہوں نے ان سیاسی رہنماؤں کے خلاف کارروائی کرنے کی ہمت بھی نہیں کی جنہوں نے منظم طور پر فساد بھڑکایا اور معصوموں کی جانیں لیں، اس سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ شاید یہ بھی اس میں ملوث تھے۔‘
ایک سماجی تنظیم کے رضاکار فرید بٹاٹا والا نے کمیشن کو ایک میمورنڈم پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اگر حکومت ’سلیمان عثمان بیکری‘ اور ’ہری مسجد‘ کے مقدمات کی دوبارہ جانچ پڑتال شروع کرتی ہے تو ہم سمجھیں گے کہ حکومت کی نیت ٹھیک ہے اور مسلمانوں اور مظلوموں کو انصاف دلانے میں نیک نیتی سے کام لے رہی ہے۔ ایک دوسری سماجی تنظیم کی رکن سومیا اوما نے کہا کہ حکومت نے بم دھماکوں کے ملزموں کو سزا دلانے میں پوری محنت اور جدوجہد کے ساتھ سے کام لیا، لیکن جب معاملہ فرقہ وارانہ فسادات کے ملزموں کا آیا تو اس کے لیے کمیٹی کی تشکیل اور قانونی مشوروں کا جھوٹا سہارا لینے کا ناٹک کیا جا رہا ہے۔ شرکاء نے جلسے کی کارروائی میں ریاستی مسلم وزراء دخل اندازی اور تقاریر کرنے پر احتجاج کیا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ یہ اجلاس عوام کے لیے منعقد کیا گیا ہے تو پھر اس میں سرکاری وزیروں کو بلانے کی کیا ضرورت تھی۔ لوگوں کے احتجاج پر کمیشن کے چیئرمین مسٹر قریشی نے کانگریس پارٹی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس ایک سیکولر حکومت ہے اور وہ اسی سیکولر حکومت میں گزشتہ کئی برسوں سے وزیر رہے ہیں۔
ایڈووکیٹ شکیل ’ہری مسجد پولیس فائرنگ کیس‘ گزشتہ چودہ برسوں سے لڑ رہے ہیں،اس میں چھ افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوئے تھے۔ اس معاملہ پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے بی بی سی سے کہا کہ ’ایک بار پھر مسلمانوں کو بہلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اگر حکومت واقعی اس میں دلچسپی لے رہی ہے جیسا کہ اس نے حالیہ دنوں میں کہا ہے تو پھر سیاسی رہنما کی دخل اندازی کس لیے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے آج تک فسادات کے ذمہ دار پولیس افسران کے خلاف کاروائی نہیں کی۔’ایسا لگا تھا کہ اس مرتبہ شاید کچھ ہو لیکن آج کی میٹنگ میں یہ واضح ہو گیا کہ یہ سب ایک فریب کے سوا کچھ بھی نہیں۔‘ فرید کی نظروں میں حکومت الیکشن پروپیگنڈہ کر رہی ہے ایک بار پھر وہ مسلمانوں کو رجھانے کی کوشش میں ہے۔ ’یہ سچر کیمٹی رپورٹ، سری کرشنا کمیشن کی سفارشات کا نفاذ کا ایک بار وعدہ‘ یہ سب لالی پاپ ہے۔ اگر واقعی حکومت سنجیدہ ہوتی تو بم دھماکہ کے ملزموں کو سزائیں دلانے سے پہلے فسادات کے ملزموں کو جیل بھیجتی۔وہ سب آج بھی آزاد گھوم رہے ہیں۔‘ فلمساز مہیش بھٹ بھی اس اجلاس میں موجود تھے۔انہوں نے جلسے کے شرکاء کے ہنگامے کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ساٹھ برسوں سے مسلمان یہ ناانصافی جھیلتے آئے ہیں اور اس لیے ان کا ناراض ہونا جائز ہے۔
اجلاس میں موجود مولانا عبدالسلام قاسمی نے گیارہ جولائی بم دھماکوں میں گرفتار بے گناہ مسلمانوں کو فورا رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔جمیعت علماء ہند مہاراشٹر کے جنرل سیکرٹری مولانا مستقیم اعظمی نے مکوکا جیسے سخت قانون کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا الزام تھا کہ اس کے تحت پولیس بےگناہ مسلمانوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ جلسے کے دوران چند مسلم تنظیموں نے وفد کی توجہ مسلمانوں کے تعلیمی مسائل کی طرف بھی مبذول کرائی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اردو میڈیم سکولوں کو امداد دے اور اس کے علاوہ وقف بورڈ اور قبرستان کے مسائل کے لیے ایک علیحدہ کمیٹی قائم کرے تاکہ اس کے تحت ایسے معاملات جلد از جلد نمٹا لیے جائیں۔ آٹھ افراد پر مشتمل قومی اقلیتی کیمشن کا یہ وفد جمعرات کے روز چند تعلیمی اور سماجی اداروں اور ان کے وفود سے ملاقات کے بعد ریاستی وزیر اعلٰی ولاس راؤ دیشمکھ سے ملاقات کرے گا۔ اس وفد کی ایک ممبر پروفیسر زویا حسن کے مطابق ان کے اختیارات بہت محدود ہیں۔ وہ صرف عوامی اور سماجی تنظیموں کے مسائل سن کر اسے حکومت تک پہنچانے کی ذمہ دار ہیں اوران کا ادارہ حکومت کے تابع ہے۔ سری کرشنا کمیشن نفاذ کے لیے نربھے بنو آندولن، آواز نسواں اور کئی دیگر سماجی تنظیمیں جمعرات کو ایک احتجاجی ریلی نکالیں گی۔یہ تنظیمیں حکومت پر سری کرشنا کمیشن کی سفارشات کے نفاذ کے لیے دباؤ ڈالنا چاہتی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||