BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 November, 2007, 08:25 GMT 13:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دھماکے:13ہلاک، ملزم کاخاکہ تیار
بنارس میں بم دھماکے
بنارس میں کچہری میں دو بم دھماکے ہوئے ہیں
ریاست اتر پردیش کے شہروں لکھنؤ، بنارس اور فیض آباد کی عدالتوں کے احاطے میں دھماکوں سے تیرہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

ان سلسلہ وار دھماکوں میں درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں اور خبروں کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

لکھنؤ پولیس کے آئی جی اے کے جین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ فیض آباد دھماکوں میں ملوث شدت پسند کا خاکہ تیار کر لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ریاستی حکومت نے ریاست کے تمام بڑے شہروں میں ریڈ الرٹ کا اعلان کیا ہے اور متاثرہ شہروں میں سپیشل ٹاسک فورس بھیجنے کا فیصلہ کیا گيا ہے جو ان دھماکوں کی تفتیش کرے گی۔

بنارس دھماکے
دھماکوں میں تیرہ افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے

تفصیلات کے مطابق بنارس میں کچہری میں دو بم دھماکے ہوئے ہیں جس میں نو افراد ہلاک اور بائيس سے زائد زخمی ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق بیشتر زخمی وکیل ہیں اور بعض زخمیوں کی حالات نازک ہے۔

فیض آباد کی بھی کچہری میں بم دھماکے ہوئے جس میں اب تک چار افراد کے ہلاک اور ایک درجن کے زخمی ہونے کی خبر ہے۔ ایک مقامی صحافی نے بی بی سی کوبتا یا ہے کہ فیض آباد کی ضلعی عدالت کے احاطے میں کم سے کم دو دھماکے ہوئے ہیں۔

اترپردیش دھماکے
تینوں دھماکوں میں سائیکلوں کا استعمال کیا گیا ہے

لکھنؤ میں سول عدالت کے احاطے میں دھماکہ ہوا ہے جس میں کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ لکھنؤ میں دھماکوں کے بعد وکلاء نے حفاظتی بندوبست کی ناکامی پر حکومت کے خلاف نعرے بازی کی ہے۔

مملکتی وزیر داخلہ پرکاش جیسوال کا ان دھماکوں کے متعلق کہنا تھا کہ ’ابتدائی طور پر اس کے متعلق کچھ بھی کہنا مشکل ہے لیکن لگتا ہے کہ شدت پسندوں کی طرف سے یہ دہشت پھیلانے کی کوشش ہے۔ ایک ہی وقت میں تین شہروں میں دھماکوں سے صاف ہے کہ یہ سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ ہے۔‘

وزیراعظم منموہن سنگھ اور کانگریس کی صدر سونیا گاندھی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں نے ان دھماکوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

وزیرِ اعلیٰ مایاوتی
اترپردیش کی وزیرِ اعلیٰ مایاوتی فیض آباد میں جائے وقوعہ کا معائنہ کر رہی ہیں

ریاست کی وزیر اعلی مایاوتی نے ہلاک ہونے والے لواحقین کو دو دو لاکھ روپے اور زخمیوں کو پچاس ہزار روپے معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے بھی مرکزی حکومت کی طرف مہلوکین کے وارثاء کو ایک لاکھ اور زخیموں کو پچاس ہزار روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔

ان تمام دھماکوں میں سائیکلوں کا استعمال کیا گیا ہے اور بم بیگوں میں رکھے ہوئے تھے۔ لکھنؤ میں بی بی سی کے نامہ نگار رام دت ترپاٹھی نے بتایا ہے کہ تقریبا سوا ایک بجے دن میں ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل انڈیا ٹی وی کو ایک گمنام ای میل موصول ہوئی تھی جس میں دھماکوں کی دھمکی دی گئی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد