الہ آباد :تشدد کے بعد کرفیو نافذ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اترپردیش کےضلع الہ آباد میں جمعہ کی رات تشدد کے واقعات سے فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہونے کے بعد پانچ علاقوں میں کرفیونافذ کر دیا گیا۔ اتر پردیش پولیس کے اعلٰی اہلکار برج لعل نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ علاقے میں کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب یہ افواہ پھیلی کہ کریلی علاقے میں ایک مقدس کتاب کے پھٹے ہوئے ورق ملے ہیں۔ اس خبر پر بعض افراد بھڑک گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے بڑی تعداد میں لوگ احتجاجاً سڑکوں پر نکل آئے۔مشتعل ہجوم نے کریلی پولیس تھانے پر پتھراؤ کیا جس کے بعد دونوں جانب سے ہوائی فائرنگ شروع ہوگئی۔ حالانکہ اس واقعہ میں کسی کی بھی ہلاکت کی خبر نہیں ہے لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی طرح کی گنجائش نہیں چھوڑنا چاہتی جس سے امن و قانون پر کوئی اثر پڑے۔ حالات پر قابو پانے کے لیے انتظامیہ نے کریلی، اتر سوئیا، شاہ گنج ، کوتوالی اور خلدہ باد میں کرفیو نافذ کردیا ہے۔ دوسری جانب بعض مقامی افراد نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ پچلے دنوں یہ اس طرح کا دوسرا واقعہ ہے جب قرآن کی بے ادبی کی بات سامنے آئی ہے۔ کریلی علاقہ میں مسلمان اکثریت میں ہیں اور یہ علاقہ فرقہ وارانہ فسادات کے لیے کافی حساس ہے۔ | اسی بارے میں کرناٹک: فرقہ وارانہ فسادات، کرفیو02 December, 2006 | انڈیا خوف میں گھِرے ایودھیا کے مسلمان 03 August, 2005 | انڈیا ہندوؤں کی مسلمانوں کودھمکی05 October, 2005 | انڈیا علی گڑھ میں چار ہلاک06 April, 2006 | انڈیا مندر پر حملے کے خلاف بنارس بند08 March, 2006 | انڈیا لوگائیں کا قتل عام سامنے کیسے آیا؟21 June, 2007 | انڈیا گجرات: فسادات کے پانچ سال بعد25 February, 2007 | انڈیا فرضی تصادم : تین پولیس افسرگرفتار24 April, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||