BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 06 April, 2006, 23:53 GMT 04:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
علی گڑھ میں چار ہلاک
یوپی میں فسادات(فائل فوٹو)
ماضی میں بھی علیگڑھ میں کئی بار ہندو مسلم فساد ہو چکے ہیں اور فرقہ وارانہ اعتبار سے اس ضلع کو کافی حساس مانا جاتا ہے
انڈیا کی ریاست اتر پردیش میں حکام نے کہا ہے کہ الیگڑھ شہر میں ہندو مسلم فسادات میں چار افراد ہلاک اور انیس زخمی ہوگئے ہیں۔ شہر میں پولیس نے لوگوں کو منتشر کرنے کے لیے فائرنگ بھی کی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ہجوم میں سے بھی ان پر فائرنگ کی گئی تھی۔

شہر کے ضلعی مجسٹریٹ آر کے سنگھ نے کہا ہے کہ جمعہ کے روز حالات معمول پر رکھنے کے لیے ہندو اور مسلم رہنماؤں سے بات چیت ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی درخواست پر بی جے پی کے رہنما نے اس وقت تک شہر نہ آنے کا وعدہ کیا ہے جب تک وہاں حالات کشیدہ ہیں۔

ہسپتال کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والے چاروں افراد کو رائفل کی گولیاں لگی تھیں اور خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ لوگ پولیس کی فائرنگ کا نشانہ بنے ہیں۔ زخمی ہونے والے افراد کو بھی رائفل کی گولیاں لگی تھیں۔

فسادات کا آغاز اس وقت ہوا جب مسلمانوں نے ہندؤوں کے بھگوان رام سے منسوب ایک تہوار رام نومی منانے کے طریقے پر اعتراض کیا۔

پرانے علیگڑھ شہر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ جامعہ علیگڑھ کا سول لائنز کا علاقہ فسادات سے متاثر نہیں ہوا۔

حکام کا کہنا ہے کہ کشیدگی بدھ کی رات کو دہلوی لائن اور سبزی منڈی کے علاقوں سے شروع ہوئی لیکن حکام اس وقت حالات پر قابو پانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

جمعرات کی دوپہر کو ہندؤوں اور مسلمانوں میں دوبارہ جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ مبینہ طور پر یہ جھڑپیں ایک مسجد سے پتھراؤ کے بعد شروع ہوئیں۔

پولیس اور نیم فوجی ریپڈ ایکشن فورس نے ہجوم پر قابو پانے کے لیے فائرنگ کی۔

ضلعی پولیس افسر اجے آنند نے بتایا کہ دِلی دروازے، سسنی دروازے اور کوتوالی پولیس سرکل میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور تقریباً ایک سو افراد گرفتار کیے گئے ہیں۔

اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں پرنسپل ہوم سیکرٹری ستیش اگروال نے کہا کہ پوری ریاست میں ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے اور حساس مقامات پر ریپڈ ایکشن فورس تعینات کر دی گئی ہے۔

ماضی میں بھی علی گڑھ میں کئی بار ہندو مسلم فساد ہو چکے ہیں اور فرقہ وارانہ اعتبار سے اس ضلع کو کافی حساس مانا جاتا ہے ۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد