BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 15 October, 2007, 08:38 GMT 13:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لدھیانہ دھماکے: سکیورٹی سخت

خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ فائل فوٹو
صوفی بزرگ خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ کے احاطے میں جمعرات کو دھماکہ ہوا تھا
ہندوستان کی ریاست پنجاب کے شہر لدھیانہ میں اتوار کی رات ہونے والے بم دھماکے کے بعد ریاست اور وفاقی دارالحکومت دلی میں حفاظتی انتظامات سخت کر دیےگئے ہیں۔

پیر کو ریاست کے وزیراعلیٰ پر کاش سنگھ بادل نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ دھماکہ ریاست میں امن و امان کو نقصان پہنچانے کے لیے کیا گيا ہے‘۔

اتوار کو ہونے والے بم دھماکے میں چھ افراد ہلاک جبکہ پینتیس زخمی
ہوئے ہیں۔ تاحال پولیس نے اس دھماکے کے لیے کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھرایا ہے اور نہ ہی کسی شدت پسند تنظیم نے اس کی ذمہ داری لی ہے۔ زخمیوں میں بعض کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔

پنجاب پولیس کے ایک اعلیٰ اہلکار این پی ایس آلکھ کا کہنا ہے کہ یہ دھماکے بظاہر دہشت گردی کی کارروائی ہے۔ مسٹر آلکھ نے بتایا کہ حفاظتی دستوں کو چوکس رہنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ دھماکوں کی نوعیت جاننے کے لیے فورنسک کے ماہرین جائے وقوعہ پر پہنچ چکے ہیں۔

ریاستی کانگریس کے صدر مہندر سنگھ کے پی نے لدھیانہ میں ایک اخباری کانفرنس میں الزام لگایا کہ ’ریاستی حکومت کی غفلت کی وجہ سے دہشت گرد کامیاب ہوئے‘ ۔ان کا کہنا تھا کہ’اب حکومت کو اس کا سختی سے مقابلہ کرنا چاہیے تاکہ پنجاب میں شدت پسند تحریک کو دوبارہ ہوا نہ مل سکے‘۔

ریاست کے وزیراعلیٰ پرکاش سنگھ بادل کا کہنا تھا کہ ریاست میں شدت پسندی کو دوبارہ پنپنے نہیں دیا جائے گا۔

یہ دھماکہ ’شنگار‘ نامی ایک سنیما گھر میں ہوا تھا جہاں بھوجپوری زبان کی ایک فلم ’جنم جنم کے ساتھ‘ دکھائی جارہی تھی۔ سنیماہال میں چھ سو پچاس افراد کے بیٹھنے کا انتظام ہے اور جس وقت یہ دھماکہ ہوا عید کی وجہ سے کافی رش تھا اور سنیماہال کے احاطے میں تقریباً ایک ہزار افراد موجود تھے۔ اس دھماکے کا نشانہ بننے والوں میں اکثریت بہاری اور مشرقی اترپردیش کے مزدورں کی ہے۔

وزیراعظم منوہن سنگھ نے دھماکے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین کے ورثاء کو ایک ایک لاکھ روپے اور زخمیوں کے لیے پچاس ہزار روپے بطور معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے۔

لدھیانہ میں ہونے والے دھماکے سے قبل جمعرات کو اجمیر میں صوفی بزرگ خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ کے احاطے میں بھی ایک بم دھماکہ ہوا تھا جس میں تین افراد ہلاک جبکہ ایک درجن سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

واضح رہے کہ ہندوستان کے خفیہ ادارے انٹیلیجنس بیورو نے خبردار کیا تھا کہ شدت پسند عید کے موقع پر مذہبی مقامات پر دہشت گردی کر سکتے ہیں۔

حیدر آباد دھماکوں کے بعد’امن و امان کو خطرہ‘
حیدرآباد میں دھماکوں کے بعد تناؤ میں اضافہ ہوا ہے
مالیگاؤں دھماکے
میں زخمی کا نام نہ پوچھ پایا: ایک عینی شاہد
بنارس دھماکے (فائل فوٹو)انڈیا میں دھماکے
انڈیا میں ہونے والے حالیہ دھماکے اور زمینی حقائق
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد