BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 November, 2007, 16:19 GMT 21:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’دھوئیں کے علاوہ کچھ اور نظر نہیں آ رہا تھا‘

دھماکے سے متاثرہ لوگ
تین شہروں میں ہونے والے دھماکوں میں 13 افراد ہلاک ہوئے ہیں
جمعہ کی دوپہر فیض آباد ، لکھنؤ اور بنارس کی عدالتوں کے احاطے میں سلسلہ وار بم دھماکے ہوئے۔دھماکوں کے وقت وکیل میرا یادو بنارس کی عدالت میں موجود تھیں۔

میرا نے اس وقت کے منظر کے بارے میں بی بی سی کو بتایا’ میں دیوانی کچہری میں اپنی سیٹ پر بیٹھی تھی۔ میری سیٹ اصل دروازے کے قریب ہی ہے۔ دھماکہ دروازے سے ایک، دو فٹ کی دوری پر ہی ہوا تھا‘۔

میرا نے بتایا کہ جب دھماکہ ہوا تو انہيں لگا کہ ان کا موبائل پھٹ گیا ہے انہوں نے فورا اپنا کوٹ اتار کر پھینک دیا اور کان میں انگلیاں ڈال لیں۔’ اس وقت دھوئیں کے علاوہ کچھ اور نظر نہیں آ رہا تھا۔ تمام لوگ بھاگتے دوڑتے ہوئے نظر آ رہے تھے۔ افرا تفری کا عالم تھا‘۔ اس وقت انہیں پتہ چلا کہ بم دھماکہ ہوا ہے۔ اس کے کچھ دیر بعد ہی بنارس میں دوسرا دھماکہ کلکٹریٹ میں ہوا۔

میرا بتاتی ہیں کہ’ میرے ایک مؤکل کے پیر میں بھی چھرّہ لگا ہے ایک اور شخص بھولا سنگھ کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔وہ ایک خوفناک دھماکہ تھا‘۔

انہوں نے کہا کہ سکیورٹی کے جس طرح سے انتظامات ہونے چاہیے تھے وہ نہیں تھے۔’کسی کو اندیشہ نہیں تھا۔تاریخ میں یہ پہلی بار ہے کہ کچہری میں لنچ ٹائم میں ایسا کچھ ہوا ہے‘۔

ایک اور وکیل او پی شریواستو اس وقت چائے پی رہے تھے۔ دھماکہ ان کے سامنے تو نہیں ہوا لیکن انہوں نے بہت زور سے ایک آواز سنی۔ انہیں شک ہوا شاید کوئی ٹائر پھٹا ہے یا پھر دھماکہ ہوا ہے۔ اور تبھی ایک اور دھماکہ ہوگیا۔

دھماکوں میں عدالتوں کو نشانہ بنایا گیا

انہوں نے بتایا’ چاروں طرف دھول ہی دھول تھی اور آس پاس لاشیں پڑیں ہوئی تھیں۔ سبھی لوگ ڈرے ہوئے تھے۔ لوگ لاشوں کو چھونے میں بھی ڈر رہے تھے کہ کہیں تیسرا دھماکہ نہ ہو جائے‘۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس حکام بہت دیر سے پہنچے اور زخمیوں کو عام شہریوں نے اسپتال پہنچایا۔’جبکہ دلچسپ بات یہ ہے کہ پولیس اسٹیشن بغل میں ہی تھا‘۔

بنارس کے ایک طالب علم روہت نے بتایا’ چاروں طرف جسم کے ٹکڑے بکھرے پڑے ہوئے تھے۔ دو تین گھنٹوں تک کچھ سیل نہیں کیا گیا سب کچھ ایسا ہی تھا۔ اس دوران تمام لوگ اس مقام پر آ جا رہے تھے‘۔

دھماکوں کے بعد وہاں موجود لوگوں میں کافی غصہ نظر آ رہا تھا۔ وکیل انتظامیہ اور سکیورٹی ایجنسیوں کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔

موہن ریڈیحیدرآباد دھماکے
’بچوں، خواتین کو تڑپتے دیکھا تو بدحواس ہوگیا‘
 زخمی مسافر’ہر طرف آگ تھی‘
ٹرین دھماکے کے عینی شاہدین نے کیا دیکھا
جلے ہوئے کنگن
لائن پر جلے ہوئے بکسے اور لوگوں کی چپلیں
اسی بارے میں
جلی ہوئی چوڑیاں اور کنگن
19 February, 2007 | انڈیا
آگ کے بعد غم وغصہ
11 April, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد