’دھوئیں کے علاوہ کچھ اور نظر نہیں آ رہا تھا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمعہ کی دوپہر فیض آباد ، لکھنؤ اور بنارس کی عدالتوں کے احاطے میں سلسلہ وار بم دھماکے ہوئے۔دھماکوں کے وقت وکیل میرا یادو بنارس کی عدالت میں موجود تھیں۔ میرا نے اس وقت کے منظر کے بارے میں بی بی سی کو بتایا’ میں دیوانی کچہری میں اپنی سیٹ پر بیٹھی تھی۔ میری سیٹ اصل دروازے کے قریب ہی ہے۔ دھماکہ دروازے سے ایک، دو فٹ کی دوری پر ہی ہوا تھا‘۔ میرا نے بتایا کہ جب دھماکہ ہوا تو انہيں لگا کہ ان کا موبائل پھٹ گیا ہے انہوں نے فورا اپنا کوٹ اتار کر پھینک دیا اور کان میں انگلیاں ڈال لیں۔’ اس وقت دھوئیں کے علاوہ کچھ اور نظر نہیں آ رہا تھا۔ تمام لوگ بھاگتے دوڑتے ہوئے نظر آ رہے تھے۔ افرا تفری کا عالم تھا‘۔ اس وقت انہیں پتہ چلا کہ بم دھماکہ ہوا ہے۔ اس کے کچھ دیر بعد ہی بنارس میں دوسرا دھماکہ کلکٹریٹ میں ہوا۔ میرا بتاتی ہیں کہ’ میرے ایک مؤکل کے پیر میں بھی چھرّہ لگا ہے ایک اور شخص بھولا سنگھ کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔وہ ایک خوفناک دھماکہ تھا‘۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی کے جس طرح سے انتظامات ہونے چاہیے تھے وہ نہیں تھے۔’کسی کو اندیشہ نہیں تھا۔تاریخ میں یہ پہلی بار ہے کہ کچہری میں لنچ ٹائم میں ایسا کچھ ہوا ہے‘۔ ایک اور وکیل او پی شریواستو اس وقت چائے پی رہے تھے۔ دھماکہ ان کے سامنے تو نہیں ہوا لیکن انہوں نے بہت زور سے ایک آواز سنی۔ انہیں شک ہوا شاید کوئی ٹائر پھٹا ہے یا پھر دھماکہ ہوا ہے۔ اور تبھی ایک اور دھماکہ ہوگیا۔
انہوں نے بتایا’ چاروں طرف دھول ہی دھول تھی اور آس پاس لاشیں پڑیں ہوئی تھیں۔ سبھی لوگ ڈرے ہوئے تھے۔ لوگ لاشوں کو چھونے میں بھی ڈر رہے تھے کہ کہیں تیسرا دھماکہ نہ ہو جائے‘۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس حکام بہت دیر سے پہنچے اور زخمیوں کو عام شہریوں نے اسپتال پہنچایا۔’جبکہ دلچسپ بات یہ ہے کہ پولیس اسٹیشن بغل میں ہی تھا‘۔ بنارس کے ایک طالب علم روہت نے بتایا’ چاروں طرف جسم کے ٹکڑے بکھرے پڑے ہوئے تھے۔ دو تین گھنٹوں تک کچھ سیل نہیں کیا گیا سب کچھ ایسا ہی تھا۔ اس دوران تمام لوگ اس مقام پر آ جا رہے تھے‘۔ دھماکوں کے بعد وہاں موجود لوگوں میں کافی غصہ نظر آ رہا تھا۔ وکیل انتظامیہ اور سکیورٹی ایجنسیوں کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ |
اسی بارے میں حیدرآباد دھماکے، لوگوں نے کیا دیکھا26 August, 2007 | انڈیا ’لوگ جلتے ڈبوں سےکود رہے تھے‘19 February, 2007 | انڈیا جلی ہوئی چوڑیاں اور کنگن19 February, 2007 | انڈیا آگ کے بعد غم وغصہ11 April, 2006 | انڈیا سونامی: متاثرہ علاقوں کا سفر28 December, 2004 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||