جیل کے اندر سے ویڈیو کانفرنسنگ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ریاست اترپردیش میں ایک نئے قانون کو منظوری دی گئی ہے جس کے تحت مشتبہ شدت پسندوں، مافیہ سرغنہ اور خطرناک جرائم پیشہ عناصر کی پیشی اب ویڈیوکانفرسنگ کے ذریعے ہوگي۔ اس قانون کے تحت ایسے ملزموں کے مقدمات کی سماعت جیل کے اندر ہی ہوگي اور انہیں عدالت نہیں لایا جائےگا۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ لکھنؤ میں گرفتار کیے گئے مشتبہ انتہاپسندوں کو عدالت کے اندر بعض وکلاء نے زدوکوب کیا تھا۔ اس طرح کے واقعات لکھنؤ سے قبل وارانسی، فیض آباد اور غازی آباد کی عدالتوں میں بھی پیش آچکے ہیں۔ ضابطہ فوجداری میں ترمیم کا بل یوپی اسمبلی میں پیش کرتے ہوئے پارلیمانی امور کے وزیر لال جی ورما نے کہا کہ ملزموں کی سلامتی کے پیش نظر قانون میں ترمیم کی جارہی ہے۔ دوسری طرف عدالت کے اندر مؤکلوں کےساتھ مار پیٹ کرنے اور مقدمات کے بائیکاٹ کے رویہ پر روک لگانے کے لیے اترپردیش بار کونسل نےوکلا کی تنظیموں کو نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اترپردیش بار کونسل کے سکریٹری امریندر کمار سنگھ نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی ایک حساس مسئلہ ہے۔ ادھر ہائی کورٹ نے بھی وکلاء کی ڈسپلن کی خلاف ورزی کا سخت نوٹس لیا ہے اور لکھنؤ کی ضلع عدالت میں وکیلوں کے ذریعہ مبینہ انتہاپسندوں کو مارنے پیٹنے اور مقدمہ نہ لڑنے کے اعلان پر برہمی ظاہر کی ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ معاملے کی نزاکت کودیکھتے ہوئے قانونی ضابطہ کو بھی پورا کرنا ضروری ہے۔ یو پی میں ملزموں کی پٹائی اور ان کے مقدمات کے بائیکاٹ کے کئی معاملات سامنے آچکے ہیں جس سے ملزم کی سلامتی اور ان کے ساتھ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنا مشکل ہوتا ہے۔ ماضی میں وکلاء کے اس رویہ پر کئی بار عدالتیں مقدمے کو دوسرے اضلاع میں منتقل کرنے پر مجبور ہوئی ہیں۔ یوپی بار کونسل کے ایک سینئر رکن عبد الرزاق خاں نے بی بی سی کو بتایا کہ الہ آباد ہائی کورٹ نے بار کونسل سے ان وکلاء کے خلاف کارروائی کرنے کو کہا ہے جو مشتبہ ملزموں کو زدوکوب کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ کا تحریری فیصلہ ملنے کے بعد کارروائی پر غور کیا جا ئے گا۔ بقول ان کے کسی بھی مؤکل کا مقدمہ لڑنے سے منع کرنا ایڈوکیٹس ایکٹ کے خلاف ہے اسی لئے ہائی کورٹ نے بار کونسل سے جواب طلب کیا ہے۔ مسٹر خان نے بتایا کہ وکالت کے پیشہ میں سیاسی عزائم رکھنے والے عناصر کی دراندازی اور ذات پات کے تعصب کی وجہ سے ایسے واقعات پیش آرہے ہیں جس سے وکالت کے پیشہ کا وقار متاثر ہورہا ہے۔ قانونی ماہرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق ضابطہ کی خانہ پری کے لیے بارکونسل الہ آباد ہائی کورٹ میں اپنا جواب داخل کرےگا لیکن کیا مشتبہ شدت پسندوں کا مقدمہ لڑنے کے لئے کوئی وکیل مہیا ہوسکے گا یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا۔ | اسی بارے میں مسلم اقلیت نہیں: فیصلہ معطل06 April, 2007 | انڈیا دھماکے:13ہلاک، ملزم کاخاکہ تیار23 November, 2007 | انڈیا بم دھماکے: یو پی میں جزوی ہڑتال24 November, 2007 | انڈیا انڈیا: ملزم کا خاکہ، ہڑتال کی اپیل24 November, 2007 | انڈیا مذہبی مقامات پر حملوں کا خطرہ ہے04 October, 2007 | انڈیا لکھنؤ میں مبینہ شدت پسندگرفتار16 November, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||