انڈیا: ملزم کا خاکہ، ہڑتال کی اپیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پولیس کا کہنا ہے کہ ریاست اتر پردیش کے شہروں لکھنؤ، بنارس اور فیض آباد میں ہونے والے دھماکوں کی تفتیش جاری ہے۔ پولیس نے چشم دید گواہوں کی مدد سے لکھنؤ اور فیض آباد میں ایک ایسے آدمی کا خاکہ جاری کیا ہے جس پر دھماکوں میں شامل ہونے کا شک ہے۔ لکھنؤ میں پولیس افسر اے کے جین نے کہا کہ انہوں نے معلوم کیا ہے کہ دھماکوں میں استعمال ہونے والی سائیکلیں کہاں سے خریدی گئی تھیں اور ملزمان کا حلیہ کیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق پولیس نے بنارس، فیض آباد اور لکھنؤ میں کچھ لوگوں کو پوچھ گچھ کے لیے اپنی تحویل میں لیا ہے۔ پولیس اس بات کا پتہ لگانے کی بھی کوشش کر رہی ہے کہ دھماکوں سے کچھ ہی پہلے وہ ای میل کس نے بھیجا تھا جس میں اس طرح کی سنسنی خیز واردات کرنے کی بات کہی گئی تھی۔ ’انڈین مجاہدین‘ نام کی اس تظیم کی طرف سے کہا گیا ہے کہ حال ہی میں پولیس نے جب تین ’معصوم‘ لوگوں کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کر کے لکھنؤ کی ایک عدالت میں پیش کیا تھا تو وہاں وکلاء نے انہیں مارا پیٹا تھا۔ وکلاء نے فیض آباد اور بنارس میں بھی ملزموں کے ساتھ اسی قسم کا سلوک کیا تھا۔ ریاست کی وزیراعلیٰ مایاوتی نے تینوں شہروں کا دورہ کیا اور لوگوں سے پر امن رہنے کی اپیل کی۔ اطلاعات کے مطابق بھارتی جنتا پارٹی کے صدر راج ناتھ سنگھ سنیچر کو فیض آباد اور بنارس کے دورے پر جانے والے ہیں۔ بی جے پی اور وشو ہندو پریشد نے اتر پردیش میں ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ اس کے بعد بڑے پیمانے پر پولیس اور نیم فوجی دستے تعینات کیے گئے ہیں۔ ریاستی حکومت نے ریاست کے تمام بڑے شہروں میں ریڈ الرٹ کا اعلان کیا ہے اور متاثرہ شہروں میں سپیشل ٹاسک فورس بھیجنے کا فیصلہ کیا گيا ہے جو ان دھماکوں کی تفتیش کرے گی۔ | اسی بارے میں لکھنؤ میں مبینہ شدت پسندگرفتار16 November, 2007 | انڈیا لدھیانہ دھماکے: سکیورٹی سخت 15 October, 2007 | انڈیا یو پی: بھگدڑ مچنے سے متعدد ہلاک03 October, 2007 | انڈیا الہ آباد :تشدد کے بعد کرفیو نافذ01 September, 2007 | انڈیا اترپردیش: چھ پولیس اہلکار ہلاک23 July, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||