بابری مسجد معاملے میں پہلی گواہی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بابری مسجد کے انہدام کے پندرہ برس بعد بدھ کو پہلی بار عدالت میں استغاثہ کےکسی گواہ کی پیشی کی نوبت آئی اور اس طرح مسماری کے مقدمے کا پہلا بیان درج کیا گیا۔ رائے بریلی کی خصوصی عدالت میں سی بی آئی نے یوپی پولیس کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر ہنومان پرساد کو پیش کیا۔ پرساد نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے ہی نے چھہ دسمبر انیس سو بانوے کو رام جنم بھومی پولیس اسٹیشن، ایودھیا کے اس وقت کے چوکی انچارج گنگا پرساد تیواری کی شکایت کی بنیاد پر فرسٹ انفارمیشن رپورٹ یاایف آئی آر درج کی تھی۔ پرساد نے بتایا کہ وہ اس وقت منشی تھا اور اس نے پانچ بج کر پچیس منٹ پرلال کرشن اڈوانی اور سات دیگر افراد کے خلاف اشتعال انگیز تقریر کرنے اور دیگر الزامات میں کرائم نمبر 92/198 کے تحت مقدمہ لکھا تھا۔ حالانکہ گواہی کو روکنے کے لئے وکیل صفائی کی طرف سے سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کی گئی اور اس گواہ سے جرح کے لئے وقت طلب کیا گیا لیکن عدالت نے یہ کہہ کر درخواست خارج کردی کہ یہ معاملے کو موخر کرنے کی ایک کوشش ہے۔ قابل ذکر ہے کہ عدالت میں مختلف تاریخوں پر مسجد کے انہدام کے معاملہ کی سماعت کسی نہ کسی سبب سے ملتوی ہوتی رہی ہے۔ مقدمہ کی اگلی سماعت تیرہ دسمبر کو ہوگی۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن اور الہ آباد ہائی کورٹ کے وکیل ظفر یاب جیلانی نے گواہی شروع ہونے کا خیرمقدم کیا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ سی بی آئی نے ممبئی بم دھماکوں کے مقدمات میں تیرہ سال کے اندر مجرموں پر چارج شیٹ فائل کردی اورمقدمات کا تصفیہ ہوگیا۔ دوسری طرف بابری مسجد کی مسماری کے مقدمہ میں پندرہ برس کے اندر ابھی پہلے گواہ کی پیشی ہوسکی ہے۔ انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کا دیرینہ مطالبہ ہے کہ بابری مسجد انہدام کے دونوں مقدمات کو یکجا کرکے کسی ایک عدالت میں مقدمہ چلایا جائے لیکن سیاسی عزم کی کمی کی وجہ سے اس سلسے میں حکومت اترپردیش کی جانب سے
بابری مسجد کے انہدام کا ایک مقدمہ رائے بریلی کی خصوصی عدالت میں زیر سماعت ہے جبکہ دوسرا مقدمہ لکھنؤ کی خصوصی عدالت میں چل رہا ہے۔ لکھنؤ والے مقدمہ میں کوئی پیش رفت نہیں ہورہی ہے کیونکہ عدالت نے فروری دو ہزار دو میں لال کرشن اڈوانی اور بال ٹھاکرے سمیت چھبیس ملزمان کے خلاف مقدمہ تکنیکی بنیادوں پر خارج کردیا تھا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ انیس سو ترانوے میں یو پی حکومت نے خصوصی عدالت قائم کرتے وقت ہائی کورٹ سے مشورہ نہیں کیا تھا۔ اس کے خلاف سی بی آئی نے دوہزار دو میں الہ آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور اس معاملے کی سماعت پانچ سال سے جاری ہے۔ ماہرین کے مطابق نظرثانی کی اس درخواست پر کوئی پیش رفت نہ ہونے کا سبب یہ ہے کہ کبھی ملزمان کے وکیل عدالت میں حاضر نہیں ہوتے تو کبھی سی بی آئی کے وکیل غائب رہتے ہیں۔ اس معاملے پر کوئی فیصلہ آنے کے بعد ہی انہدام کے اصل مقدمے کی سماعت کی نوبت آئے گی۔ انیس سو بانوے میں مغلیہ دور کی بابری مسجد کو منہدم کیے جانے کے بعد سے وہاں عارضی مندر قائم ہے۔ انہدام کے واقعہ کی تحقیقات کے لیے مرکزی حکومت نے’لیبراہن کمیشن‘ قائم کیا تھا۔ حکومت کمیشن کی مدت میں بیالیس بار توسیع کرچکی ہے اور اس کی رپورٹ ابھی تک نہیں آئی ہے۔ دریں اثناء بابری مسجد انہدام کی برسی پر مسلم تنظیمیں اور ان کے لیڈران نے یوم غم، یوم سیاہ منایا۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ، جمعیۃ علماء ہند وغیرہ سے وابستہ افراد نے شہریوں کے ساتھ ضلع میجسٹریٹوں کی معرفت وزیر اعلی، وزیر اعظم اور صدر جمہوریہ کو عرضداشتیں ارسال کیں جبکہ سخت گیر ہندو تنظیموں نے چھ دسمبر کو یوم شجاعت کے طور پر منایا۔ |
اسی بارے میں بابری کمیشن کی مدت میں توسیع01 November, 2007 | انڈیا فسادات، 15 ملزم قصور وار23 October, 2007 | انڈیا بابری مسجد:’مقدمہ رائے بریلی میں ہی‘22 March, 2007 | انڈیا ایودھیا کا آنکھوں دیکھا حال05 July, 2005 | انڈیا بابری مسجدکی برسی پر خاموشی06 December, 2004 | انڈیا بابری مسجد کا انہدام06 December, 2004 | انڈیا ’تنازعہ مذاکرات سے حل کیا جائے‘15 November, 2004 | انڈیا بابری مسجد: ایڈوانی کو نوٹس02 November, 2004 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||