دہشتگردی:’ہر شکل میں مذمت‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’ہم دہشت گردی اور اس کی تمام شکلوں کی مسلسل اور سختی کے ساتھ مذمت کرتے ہیں۔ اس کو انجام دینے والا چاہے کوئی بھی ہو اس کا مقصد جو کچھ بھی ہو۔‘ یہ اعلان جامع مسجد یونائٹیڈ فورم کے صدر یحیی بخاری نے اتور کو دلی میں دہشت گردی کے خلاف منعقدہ ایک بین الاقوامی کانفرنس میں کیا۔ اس کانفرنس میں ہندوستان سمیت انڈیونیشیا، افغانستان، مالدیو، اردن، اور ازبکستان جیسے ممالک کے مختلف مذاہب کے سرکردہ مذہبی اور سماجی رہنماؤں نے شرکت کی۔ یحیی بخاری کا مزید کہنا تھا: ’دہشت گردی کو کسی مذہب، قوم، تہذیب یا جماعت سے نے جوڑا نہيں جا سکتا ہے۔‘ اس کانفرنس میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی تعاون کا حصول بھی موضوع بحث رہا۔ اس موقع پر مرکزي وزیر کپل سبل کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کو کسی بھی مذہب کے ساتھ جوڑنے کام سلسلہ ختم کیا جانا چاہیے۔’دہشت گردی کے معاملے کو سیاسی مفادات سے نہيں جوڑنا چاہیے۔‘ بظاہر ان کا اشارہ ملک کی ہندو نواز سیاسی جماعتوں پر تھا جن کے نمائندوں کو اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت نہيں دی گئی تھی۔
کانفرنس میں جموں و کشیمر کے وزیر اعلی غلام آزاد کا کہنا تھا کہ اس طرح کے کانفرنسیز سے عام مسلمانوں کو راہ راست پر لانے میں مدد ملے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا: ’شدت پسندی روکنے میں مدد ملے گی یا نہيں یہ تو نہيں کہا جاسکتا ہے لیکن شدت پسندی کو کو اساس فراہم کرنے والوں کو اس سے سمجھانے میں مدد ضرور ملے گی۔‘ بدھ مت کے روحانی پیشوا دلائی لامہ کا کہنا تھا: ’ہمیں انسانی اقدار کا احترام کرنا چاہیے اور اس جب تمام انسانیت کے بارے میں غور و فکر کریں گے تو خود بخود امن اور بھائی چارہ کا ماحول پیدا ہوگا۔‘ جامع مسجد کے امام احمد بخاری نے دہشت گردی کی وجوہات پر بی بی سی کو بتایا: ’جب تک اصل مجرم کو نہیں پکڑا جائے گا اور ان کو کیفر کردار تک نہيں پہنچایا جائے گا دہشت گردی کے واقعات نہيں رک سکتے ہيں۔ ساتھ ہی ناانصافی اور محرومی کو بھی اس ملک سے ختم کیا جانا ضروری ہے۔‘
مجموعی طور پر کانفرنس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دہشت گردی ایشیا اور پوری دنیا کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ یہ کنونشن دہشت گردی کے واقعات میں مسلمانوں کے ملوث ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات اور تفتیش کا محور مسلمانوں پر ہونے کے پس منظر میں منعقد کیا گیا تھا۔ تاہم مبصرین کے خیال میں آئندہ برس ملک میں عام انتخابات ہونے والے ہیں۔ بظاہر اس طرح کے کانفرنسز کا مقصد سیاسی مفاد کے لیے کیا جارہا ہے۔ جب یہی سوال احمد بخاری سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا: ’ہم اپنی بات رکھ رہے ہيں اس کا سیاست سے کوئی رشتہ نہيں ہے۔‘ غور طلب بات ہے کہ اس برس ملک میں دہشت گردی کے مخالف کانفرنس کیا سیلاب سا آگیا ہے اور ملک کی مختلف مسلم تنظمیں اور ادارے اس قسم کا اجلاس منعقد کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ اس کانفرنس میں پاکستان کے سابق وفاقی وزیر انصار برنی کو بھی شرکت کرنی تھی تاہم انہيں جمعہ کی رات دلی ایئر پورٹ سے باہر نہيں نکلنے دیا گيا تھا اور وہ واپس دبئی چلے گئے تھے۔ فی الحال ان کی مبینہ ملک بدری کی انکوائری کی جا رہی ہے۔ |
اسی بارے میں ’مسلمانوں کوہراساں ہونےسے بچائیں‘17 April, 2008 | انڈیا ’ دہشت گردی برداشت نہیں‘25 November, 2006 | انڈیا ’دہشت گردی اسلام کے منافی‘25 February, 2008 | انڈیا ’شیئر بازار میں، دہشتگردی کا پیسہ‘04 December, 2007 | انڈیا لکھنؤ میں مبینہ شدت پسندگرفتار16 November, 2007 | انڈیا ’دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں ‘04 July, 2007 | انڈیا مذہبی مقامات پر حملوں کا خطرہ ہے04 October, 2007 | انڈیا اترپردیش:دومشتبہ شدت پسندگرفتار22 December, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||